✍️ محمد قمرالزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ
یہی ہیں جن کے سونے کو فضیلت ہے عبادت پر
انہیں کے اتقا پر ناز کرتی ہے مسلمانی
*یہ* دنیا ???? سرایے ہے، چند روزہ اور فانی ہے۔ یہاں کسی ذی روح کو دوام و بقا نہیں، ایک دن یہاں کی ہر چیز فنا ہو جائے گی۔ یہاں کی آساءش و راحتیں، مال و متاع، جاہ و منصب، عہدہ و کرسی، اور حکومت و اقتدار سب کچھ عارضی اور وقتی ہے اور مسلمانوں کے لیے آزمائش ہیں، جنہیں حیات آخرت کا استحضار اور اس کی صحیح معنوں میں دامن گیر ہو، یہ ممکن نہیں کہ یہاں کی عارضی خوشنماءی اور بے حقیقت دلفریباں ان کے دل میں گھر کر سکیں۔ حدیث شریف میں آتا ہے۔ کن فی الدنیا کانک غریب او عابر سبیل۔ (بخاری شریف) کہ دنیا میں ایک مسافر بلکہ راہ گزر کی طرح زندگی گزارو۔
چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام، تابعین و تبع تابعین اور سلف صالحین کے زہد و قناعت، استغنا، بے نیازی اور دنیا سے بے رغبتی کے واقعات تاریخ عالم میں محفوظ ہیں۔ انسانی عظمت کے ان تابندہ نقوش کا مطالعہ ہمارا وظیفہ ہونا چاہیے اور ہمیں ان کی زندگی کو اپنے لیے مشعل ???? راہ بنانا چاہیے۔
اسلاف اور اساطین امت کے اخلاق و کردار اور اعمال صالحہ نے جس طرح اس ظلمت کدءہ ارضی کو بقعءہ نور بنا دیا وہ تاریخ عالم کا ایک سنہرا باب اور امت کے ماضی کا عظیم ورثہ اور امانت ہے۔ قوموں کی قومیں اس سے مستفید و مستنیر ہوءی ہیں۔ اور اس میں اپنوں اور غیروں سب کے لیے درس عمل پنہاں ہے۔ انسانی عظمت کے ان تابندہ نقوش اور سنہرے حروف میں سے ایک نمونہ ہم آپ سب کی خدمت میں پیش کرتے ہیں، اس امید کہ ساتھ کہ ہم اس کو اپنے لیے نمونہ اور آءیڈیل بناءیں گے۔
*آغا شورش کاشمیری مرحوم* کی سیرت و سوانح لکھنے والوں نے ان کی زندگی کا ایک ایسا واقعہ بھی لکھا ہے کہ اس کو پڑھنے کے بعد یہ یقین اور پختہ ہوگیا کہ ہر دور میں مال و دولت عہدہ و منصب اور اقتدار کی ہوس سے بے نیاز اسلام کی حفاظت کرنے والوں کی ایک تعداد ہمیشہ رہی ہے جنھوں نے ذاتی مفاد اور شخصی فائدے کے مقابلہ میں دین کے مفاد کو مقدم رکھا اور مال و زر کو پھوٹی کوڑی اہمیت نہ دی ۔ ایک دن *شورش کاشمیری صاحب مرحوم* بھٹو صاحب پاکستان کے (سابق وزیر اعظم )گئے تو بھٹو مرحوم نے کہا: آکسفورڈ یونیورسٹی میں میری لڑکی اور لڑکا دونوں پڑھتے ہیں، آپ بھی اپنی لڑکی اور لڑکے کو بھیج دو، حکومت وظیفہ دے گی.
شورش کاشمیری نے کہا کہ میں مشرقی طرز کا آدمی ہوں، مغربی تہذیب میں اولاد کو بھیج کر خراب نہیں کرنا چاہتا.
تو بھٹو مرحوم نے کہا کہ شادمان کالونی، لاہور میں دو پلاٹ پڑے ہیں ،تم کم ریٹ پر حکومت سے خرید لو اور ایک کو پیچ کر اپنا پلاٹ بنا لو.
تو شورش نے جواب دیا: جناب سر چھپانے کے لئے جگہ موجود ہے، میں کوٹھی نہیں بنانا چاہتا۔
شورش رحمة الله علیہ اپنے گھر واپس آئے اور سارا قصہ اپنی بیٹی کو سنا دیا. تو بیٹی نے کہا کہ: ابو بھٹو صاحب پلاٹ دے رہے تھے، لے لیتے، سرکاری زمین ہے ہم پیسے جمع کرا دیتے ہیں بات صرف اتنی ہے کہ وہ کوئی اور لے جائے گا، بس ہمیں رعایت ہی مل جاتی، آپ نے ہمارے مستقبل کے ساتھ زیادتی کی ہے.
تو جواب میں شورش رحمة الله علیہ نے فرمایا کہ: دنیا یہیں رہ جائے گی، میں بھٹو مرحوم سے ایک ایسا تحفہ لیکر آیا ہوں جو قبر میں مجھے کام آئے گا بس یہ بات کہنی تھی۔
تحریک ختم نبوت کے اکابرین بھٹو مرحوم اور شورش رحمة الله کے درمیان کی گفتگو سے بالکل ہی لاعلم تھے۔ کچھ ہی دنوں بعد شورش رحمة الله بیمار ہوئے اور انتقال فرما گئے ،جنازے میں حضرت مفتی محمود صاحب رحمة الله، مولانا غلام غوث ہزاروی رحمة الله، مصطفیٰ کھر، کوثر نیازی ،معراج خالد ،حفیظ پیرزادہ و دیگر حضرات شریک ہوئے۔ ہزاروں کا اجتماع تھا، مجمع سارا حیران تھا کہ بھٹو مرحوم اور شورش رحمة الله علیہ کا کافی دوستانہ تعلق تھا پھر بھی جنازے میں شریک نہیں ہوئے ان کے انتقال کے دوسرے دن ہی بھٹو مرحوم چین چلے گئے۔
پانچ روزہ دورے کے بعد جب واپس آئے تو ایک رات راولپنڈی میں رہے، دوسرے دن لاہور آئے اور شورش رحمة الله کی قبر پر حاضری دی۔ فاتحہ خوانی کی اور شورش رحمة الله علیہ کے گھر بھی تعزیت کے لئے گئے۔
بھٹو مرحوم نے تعزیت کے دوران کہا کہ جنرل عبد العلی اور جنرل ظفر چودھری قادیانی ہیں، شورش رحمة الله علیہ نے میرے پاس آ کر کہا: آپ میرے بچوں کو آکسفورڈ یونیورسٹی نہ بھیجوائیں اور پلاٹ بھی مجھےنہ دیں، بس ان دو قادیانیوں کو ہٹا دیں۔ یہی تحفہ میں آپ سے لینے آیا ہوں، تو بھٹو مرحوم نے کہا کہ میں ہٹا دوں گا اور میں نے وعدہ کیا تھا؛ بغیر جنرلوں کے ہٹائے میں اگر اس جنازے میں آتا تو وعدہ خلافی ہوتی، میری آنکھ میں شرم تھی، میں کیسے جنازے میں شریک ہو سکتا تھا، دوسرے دن میرا چین کا سفر تھا اگر میں اس کو ہٹا کر جنازے میں آتا تو میری غیر حاضری میں شاید اندیشہ تھا کہ اتنی بڑی تبدیلی کے بعد ملک میں کوئی گڑبڑ نہ ہو جائے، تو میں اس لئے جنازہ میں نہیں آیا۔ چین چلا گیا، واپس آیا، آج ہی میں نے ان دونوں جنرلوں کو فارغ کر دیا ہے۔ شام پانچ بجے کی خبروں میں آ جائے گا، اب میں سرخرو ہو کر آپ حضرات کے پاس آیا ہوں۔
خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را