کتاب النکاح

بھانجی کی بیٹی سے نکاح کا حکم

*⚖️سوال و جواب⚖️* *مسئلہ نمبر 1176* (کتاب النکاح باب المحرمات) *بھانجی کی بیٹی سے نکاح کا حکم* کیا بھانجی کی بیٹی سے نکاح درست ہوسکتا ہے؟ شریعت اسلامی کا اس بارے میں کیا حکم ہے؟ (عبید الرحمٰن، رامپور یوپی) *بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم* *الجواب وباللہ التوفیق* قرآن مجید میں جہاں محرمات ابدیہ یعنی وہ خواتین […]

بھانجی کی بیٹی سے نکاح کا حکم Read More »

نکاح میں عورتوں کی گواہی

 نکاح میں صرف عورتوں کی گواہی معتبر نہیں دوعورتوں کی گواہی کے ساتھ ایک مردکی بھی گواہی ضروری ہےورنہ نکاح درست نہیں ہوگا۔۔واللہ اعلم بالصواب۔ (مستفاد:کتاب المساٸل ھدایہ جلد٢صفحہ ٣٢٦فتاوی تاتارخانیہ جلد٤ص٣٧فتاوی ہندیہ جلد١صفحہ٢٦٧ ناقل✍ہدایت اللہ قاسمی خادم مدرسہ رشیدیہ ڈنگرا،گیا،بہار HIDAYATULLAH TEACHER MADARSA RASHIDIA DANGRA GAYA BIHAR INDIA نــــوٹ:دیگر مسائل کی جانکاری کے لئے

نکاح میں عورتوں کی گواہی Read More »

کیا نکاح کے گواہوں کا ثقہ اور عادل ہوناضروری ہے

بہتر تو یہی ہے کہ نکاح کے گواہ ثقہ اورعادل ہوں لیکن اگر عادل نہ ہو اور انہیں گواہوں کی موجودگی میں نکاح کردیا گیا تب بھی نکاح درست ہو جائے گا۔۔واللہ اعلم بالصواب۔ (مستفاد: کتاب المساٸل فتاوی شامی جلد نمبر 4 صفحہ نمبر 58 فتاویٰ تاتار خانیہ جلد نمبر 4 صفحہ نمبر 36 ناقل✍ہدایت

کیا نکاح کے گواہوں کا ثقہ اور عادل ہوناضروری ہے Read More »

گواہوں کے بغیر نکاح

شریعت اسلامی میں دو گواہوں کے بغیر نکاح کا کوئی اعتبار نہیں ہے اور نہیں اس طرح کے بیجا عمل سے عقدنکاح منعقد ہوگا۔۔۔واللہ اعلم بالصواب۔ (مستفاد: کتاب المسائل اعلاء السنن جلد نمبر 18 صفحہ نمبر 28۔ فتاوی شامی جلد نمبر 4 صفحہ نمبر 87 فتاویٰ تاتارخانیہ جلد نمبر 4 صفحہ نمبر 36 بدائع الصنائع

گواہوں کے بغیر نکاح Read More »

نکاح میں اللہ اوررسول کوگواہ بنانا

اللہ اوررسول کو گواہ بنا کر جونکاح کیاجاٸے شرعاً وہ صحیح نہیں ہے، شرعاً نکاح کے صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ دو عاقل مسلمان بالغ مرد یا اسی طرح کی دو عورتوں اور ایک مرد کی موجودگی میں باقاعدہ ایجاب و قبول کیا جائے۔۔۔واللہ اعلم بالصواب۔ (مستفاد:کتاب المساٸل وشرط حضورشاھدین – أي یشہدان

نکاح میں اللہ اوررسول کوگواہ بنانا Read More »

اگر نکاح میں ایک گواہ نابالغ ہو

اگر نکاح میں ایک گواہ نابالغ ہو تو نکاح درست نہیں ہوگا نکاح کے درست ہونے کے لیے ضروری ہے کہ کم از کم دو گواہ ہوں اوردونوں گواہ بالغ ہو اگر دونوں میں سے ایک بھی نابالغ ہوگا تو نکاح درست نہ ہوگا۔۔۔واللہ اعلم بالصواب۔ (مستفاد: کتاب المسائل ہدایه جلد نمبر 2 صفحہ نمبر

اگر نکاح میں ایک گواہ نابالغ ہو Read More »

نکاح میں فاسق اور نابینا کی شہادت

اگر نکاح کے گواہوں میں دونوں فاسق یا نابینا ہوں یا ایک فاسق اور ایک نابینا ہو تب بھی ان گواہوں کی موجودگی میں نکاح درست ہوجاٸیگا۔۔واللہ اعلم بالصواب۔ (مستفاد : کتاب المسائل فتاوی ہندیہ جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 267 بدائع الصنائع جلد نمبر 2 صفحہ نمبر 28 فتاویٰ تاتار خانیہ جلد نمبر 4

نکاح میں فاسق اور نابینا کی شہادت Read More »

دو گواہوں میں سے ایک بہرا ہو

نکاح میں دو گواہوں کے لئے عاقدین کے ایجاب وقبول کو ایک ساتھ سننا شرط ہے لہذا اگر ایک گواہ نے سنا اور دوسرے نے نہیں سنا یا ایک گواہ بہرایعنی سماعت سے محروم ہو اور وہ خود سےعاقدین کے کلام کو نہ سن سکے بلکہ کوئی دوسرا اس کے کان میں زور سے بول

دو گواہوں میں سے ایک بہرا ہو Read More »

گونگوں کے نکاح میں بہروں کی گواہی

اگر دونوں عاقدین قوت گویائی سے محروم ہوں اور متعینہ اشارے سے ایجاب قبول کریں تو چونکہ یہاں سننے سنانے کا امکان ہی نہیں ہےلہذا ایسے گونگے حضرات کےنکاح میں بہرے حضرات کا گواہ بننا بھی درست ہوگا بشرطیکہ وہ نکاح کا اشارہ اچھی طرح سمجھتے ہوں۔۔۔واللہ اعلم بالصواب۔ (مستفاد: کتاب المسائل فتاوی شامی جلد

گونگوں کے نکاح میں بہروں کی گواہی Read More »

نکاح میں مخنث کی گواہی

اگر نکاح کی گواہی میں صرف دو مخنث ہوں اس میں کوئی مرد نہ ہو تو پھر اس کی گواہی کا کوئی اعتبار نہیں ہے جب تک کہ ان میں سے کوئی ایک کامل مرد نہ ہو۔۔۔واللہ اعلم بالصواب۔ (مستفاد: کتاب المسائل فتاوی ہندیہ جلد نمبر 1 صفحہ نمبر268 فتاوی تاتارخانیہ جلد نمبر 4 صفحہ

نکاح میں مخنث کی گواہی Read More »

نکاح میں اپنے بیٹوں کا گواہ بنانا

اگر نکاح میں عاقدین کے بیٹے (یعنی جو پہلے شوہر یا پہلی بیوی سےہوں) گواہ بنیں تب بھی درست ہے اور اس سے نکاح منعقد ہوجاٸیگا۔۔واللہ اعلم بالصواب۔ (مستفاد: کتاب المسائل فتاوی شامی جلد نمبر 4 صفحہ نمبر 93 ناقل✍ہدایت اللہ قاسمی خادم مدرسہ رشیدیہ ڈنگرا،گیا،بہار HIDAYATULLAH TEACHER MADARSA RASHIDIA DANGRA GAYA BIHAR INDIA نــــوٹ:دیگر

نکاح میں اپنے بیٹوں کا گواہ بنانا Read More »

نکاح میں محدود فی القذف اور محدود فى الزنا کی شہادت کا حکم

اگر کسی مسلمان شخص پر زنا کی تہمت لگانے یا زنا کرنے کی وجہ سے اسلامی حکومت میں حد اور سزا جاری ہوئی ہو تو ایسا شخص بھی نکاح میں گواہ بن سکتا ہے تاہم بہتر یہی ہے کہ ثقہ اور معتبر لوگوں کو ہی گواہ بنایا جائے۔۔واللہ اعلم بالصواب۔ (مستفاد: کتاب المسائل اعلاء السنن

نکاح میں محدود فی القذف اور محدود فى الزنا کی شہادت کا حکم Read More »