امریکہ پر طالبان کی فتح امت مسلمہ کیلئے ایک سبق

امریکہ پر طالبان کی فتح امت مسلمہ کیلئے ایک سبق

از: محمد ہارون قاسمی

بالآخر قرآن کا وعدہ سچا ثابت ہوا کہ غالب اور سربلند تم ہی رہوگے اگر تم مومن ہو ۔۔۔ انتم الاعلون ان کنتم مومنین ۔۔
حق کو فتح عظیم حاصل ہوئی اور باطل کو ذلت ناک شکست سے دوچار ہونا پڑا ۔۔
تاریخ نے ثابت کردیا ہے کہ جنگیں آئٹم بموں کروز میزائلوں جدید ترین ٹیکنالوجی اور افرادی قوت کی بنیاد پر نہیں جیتی جا سکتیں فتح اور کامیابی صرف اذن خدا وندی سے حاصل ہوتی ہے ۔۔
کم من فئتہ قلیلتہ غلبت فئتہ کثیرتہ باذن اللہ واللہ مع الصابرین ۔۔ بہت سے چھوٹے گروہ بڑے بڑے لشکروں پر غالب آگئے اور اللہ کی مدد ثابت قدم رہنے والوں کے ساتھ ہے ۔۔
ابتک صرف سنتے آئے تھے کہ صحابہ کرام رض نے فارس فتح کیا تھا روم فتح کیا تھا قسطنطنیہ فتح کیا تھا گمان ہوتا تھا کہ شاید وہ کچھ اور قسم کے لوگ تھے جن کے ہاتھوں پر وہ عظیم فتوحات حاصل ہوئیں تھیں اور آج شاید ان کی تاریخ دہرانا ممکن نہیں ہے
مگر آج چودہ سو سال بعد طالبان کی امریکہ پر عظیم الشان اور تاریخ ساز فتح نے ثابت کردیا ہے کہ ایمان والوں کے لئے خدا کی مدد کے دروازے آج بھی اسی طرح کھلے ہیں جس طرح چودہ سال پہلے صحابہ کرام کے لئے کھلے ہوئے تھے ۔۔
بلاشبہ یہ اسلامی تاریخ کی ایک بڑی فتح ہے اور گزشتہ کئی صدیوں کی یہ سب سے بڑی فتح ہے دنیا کے 48 ممالک کی فوجیں ان مدرسوں سے نکلنے والے اور کرتا پائجامہ پہننے والے باریش ملاوں کو مٹانے کے لئے لڑ رہی تھیں اور اپنے تمام جدید ترین اور خوفناک ہتھیار استعمال کررہی تھیں اور دوسری طرف طالبان کے پاس نہ جنگی جہاز تھے نہ میزائیل تھے نہ ڈرون تھے نہ کوئی جدید ٹکنالوجی تھی ۔۔
کوئی مقابلہ ہی نہیں تھا ان کے پاس اگر کچھ تھا تو صرف ایمانی طاقت تھی اور خدا تعالی کی ذات پر یقین اور توکل کی قوت تھی ۔۔۔
ان کی نظروں میں دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت کی کوئی حیثیت ہی نہ تھی دنیا روس اور امریکہ کو سپر پاور کہتی تھی مگر ان کا نعرہ تھا ۔۔
سپر پاور ۔ صرف اللہ ۔۔۔۔
اور یہ صرف زبانی اور جذباتی نعرہ نہیں تھا بلکہ ایمان و یقین میں ڈوبا ہوا اور دل کی گہرائیوں سے نکلنے والا نعرہ تھا ۔۔
جس نے بالآخر ثابت کردیا کہ دنیا کی کوئی طاقت سپر پاور نہیں طاقت صرف اللہ کی طاقت ہے جس کے مقابلے کوئی طاقت نہیں ۔۔
افغان طالبان کی فتح میں امت مسلمہ کے لئے ایک بڑا سبق پوشیدہ ہے
اور اس کےلئے یہاں چند امور قابل غور ہیں ۔
پہلی چیز یہ ہے کہ دنیا کا ڈیڑھ ارب مسلمان ہر خطہ زمین پر شکست پہ شکست کھا رہا ہے ذلیل ہو رہا ہے رسوا ہو رہا ہے اس کے لئے آسمانوں سے خدا کی کوئی مدد نہیں اتر رہی ہے اور دوسری طرف طالبان ہیں کہ دنیا کی سپر طاقتوں پر فتح پر فتح حاصل کر رہے ہیں ان کو ذلت ناک شکستوں سے دوچار کر رہے ہیں ان کے لئے آسمانوں سے اترتی ہوئی خدا کی مدد دنیا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے ۔ آخر یہ فرق کیوں ہے ؟؟
اس سوال پر غور کیجئے وقت کے لحاظ سے یہ بڑا اہم سوال ہے ۔۔
اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ طالبان ایمان والے ہیں اور ایمان والوں کے لئے خدا کی مدد و نصرت کا وعدہ ہے جو ان کے حق میں پورا ہوا ہے اور ہو رہا ہے جبکہ دنیا کے دوسرے شکست خوردہ مسلمان یاتو مومن نہیں یا پھر ان کے ایمان کے اندر کھوٹ ہے جس کے سبب وہ نصرت خداوندی سے محروم ہیں ۔۔۔
اب ذرا طالبان کے ایمان اور دنیا کے دوسرے مسلمانوں کے ایمان کے درمیان فرق کا تجزیہ کیجئے اور پہلے ایمان کو سمجھئے کہ ایمان کیا ہے اور ایمان کا وہ معیار کیا ہے جس پر نصرت الہی کا نزول ہوتا ہے ۔۔
تو اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ ایمان کے دو جز ہیں ۔ ایمان بااللہ اور کفر بالطاغوت ۔ اور ترتیب کے لحاظ سے کفر بالطاغوت کا درجہ ایمان بااللہ سے پہلے ہے ۔۔ فمن یکفر بالطاغوت و یومن باللہ ۔۔
یعنی جو شخص طاغوت کا انکار کردے اور اللہ پر ایمان لے آئے وہ کامل مومن ہے ۔۔
اور کفر بالطاغوت کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے نازل کردہ نظام کے علاوہ ہر نظام کفر کا کھل کر انکار کیا جائے ۔۔۔ خواہ وہ کہیں بھی ہو اور کسی بھی شکل میں ہو ۔۔
اور اس انکار کی تین شکلیں ہیں ۔ اگر بازووں میں طاقت ہے تو اس کو
توڑ دیا جائے اتنی طاقت نہو تو زبان و قلم سے کھل کر اس پر نکیر کیجائے اور اتنی بھی قوت نہو تو دل سے اس سے نفرت کیجائے اور اس کو دل میں کسی صورت جگہ نہ دی جائے ۔۔
افغان طالبان کا ایمان درجہ کمال کو پہنچا ہوا تھا کیوں کہ انہوں نے ایمان بااللہ کے ساتھ طاغوت کے نظام کا انکار کردیا تھا اور وہ رائج الوقت نظام کفر کو توڑ کر نظام مصطفی کو نافذ کرنے کے لئے اٹھے تھے ۔۔ لہذا وہ خدا کی مدد کے مستحق قرار پائے ۔
جبکہ ہمارے ایمان کی صورت حال مختلف ہے ہم خدا پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور طاغوت پر بھی ہمارا ایمان ہے ہم خدا کے نازل کردہ نظام حیات کو بھی درست مانتے ہیں اور کفر کے نظام کی صحت پر ہمارا کامل ایمان ہے اس ایمان کی خدا کے نزدیک کوئی حیثیت نہیں اور نہ اس ایمان پر خدا کی مدد کا کوئی وعدہ ہے ۔۔
آج ملت اسلامیہ کے اندر یہی ایمان پایاجاتا ہے ۔ جس کے سبب وہ نصرت خداوندی سے محروم ہے ۔۔
دوسری چیز یہ ہے کہ اللہ کی مدد کے حصول کے لئے اولین شرط یہ ہے کہ بندہ پہلے اپنے حصہ کی ذمہ داری پوری کردے تب خدا کی مدد کا طالب ہو ۔۔ اگر آپ اپنی ذمہ داری پوری نہیں کریں گے تو خدا کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ آپ کی مدد کرے ۔۔
طالبان نے یہ نہیں دیکھا کہ اس کے سامنے کتنی بڑی طاقت ہے انہوں نے صرف یہ دیکھا کہ خدائی طاقت کے مقابلے کوئی طاقت نہیں
لہذا وہ جس حال میں بھی تھے خدا کے بھروسے باطل سے ٹکرانے کےلئے نکل کھڑے ہوئے اور جب وہ اپنی ذمہ داری پوری کرچکے تو خدا کی مدد ان کے ساتھ آگئی ۔۔
جبکہ ہمارا طرز عمل عجیب و غریب ہے ہم چاہتے ہیں کہ محض دعاوں تسبیحوں اور قنوت نازلاوں سے باطل کے لشکروں کو شکست دیدیں
یعنی ہمیں کچھ نہ کرنا پڑے سب کچھ اللہ تعالی کردے ۔۔۔
بدر کے موقع پر مسلمانوں کے سامنے ایک ہزار کا مسلح لشکر تھا مسلمان تین سو تیرہ تھے اور تقریبا نہتھے تھے ۔ مگر اپنی ذمہ داری ادا کرنے کے لئے نکل کھڑے ہوئے تھے ۔
چنانچہ جب دونوں طرف کی صفیں لگ چکیں تھیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں طرف کی صفوں پر نگاہ ڈالی تو بظاہر مسلمانوں کا کفار کے لشکر جرار سے کوئی مقابلہ ہی نہیں تھا
اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خدائے وحدہ لاشریک لہ کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھائے ہیں اور ان رقت آمیز الفاظ کے ساتھ دعا کی ہے ۔
اللھم ان تھلک ھذہ العصابتہ لاتعبد فی الارض ۔۔
اے اللہ اگر آج یہ کمزور سی مٹھی جماعت ہلاک ہوگئی تو پھر روئے زمین تیری عبادت نہیں کیجا سکے گی ۔۔۔ اب خدا کی مدد نازل ہوئی ہے اب فرشتوں کے لشکر اترے ہیں ۔۔
اگر محض خشک دعاوں اور آیتہ کریماوں سے خدا کی مدد کا نزول ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بدر تک آنے کی ضرورت ہی کیا تھی جو دعا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے مقام پر کی ہے
یہ دعا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو لیکر مسجد میں بھی کر سکتے تھے ۔۔
مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا بلکہ پہلے خدا پر یقین اور توکل کے ساتھ موت سے ٹکرانے کے لئے گھر سے نکلے یعنی پہلے اپنی ذمہ داری پوری کی تب خدا کی بارگاہ میں ہاتھ پھیلائے اور دعا کی ۔ تب دعا قبول ہوئی ہے اور پھر اس چھوٹی سی جماعت کو وہ تاریخی فتح حاصل ہوئی جس نے تاریخ کا دھارا ہی موڑکر رکھ دیا ۔۔۔
حقیقت یہ ہے کہ ہم نے دنیا کے سامنے ایمان کی ایک بہت ہی غلط تصویر پیش کی ہے ہم نے دعاوں کا صرف مذاق اڑایا ہے ہم نے دعاوں اور وظیفوں کے پردوں میں اپنے نفاق اور بزدلی کو چھپانے کی کوشش کی ہےہم نے دین اسلام کو ایک کھلونا بناکر رکھدیا ہے ۔۔
جس کا نتیجہ ہے کہ جس قدر ہم نے اپنے بے روح ایمان کے ساتھ رسمی دعاوں کے سہارے اپنے مسائل کے حل کی کوشش کی ہے اسی قدر ہمارے مسائل میں اضافہ ہوتا چلا گیا ہے ۔۔۔
ہمیں اپنے ایمان کا جائزہ لینا ہوگا ہمیں اپنے ایمان کو کفر و شرک کی کثافتوں سے پاک صاف کرنا ہوگا باطل کا خوف دل سے نکالنا ہوگا اپنے سینے کے اندر یقین اور توکل کی روح پیدا کرنی ہوگی ۔ اپنے اندر قربانی کا جذبہ پیدا کرنا ہوگا ۔ جب ہم ایسا کریں گے تو ہماری دعاؤں میں اثر ہوگا اور خدا کی مدد اسی طرح ہمارے ساتھ ہوگی جس طرح طالبان کے ساتھ ہے باطل شکست کھائے گا اور فتح ہمارا مقدر ہوگی انشاءاللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے