سی اے اے اور علامہ سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ

???? *صدائے دل ندائے وقت*????(845)
*سی اے اے اور علامہ سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ__*

*سی اے اے، این آر سی اور این پی آر یہ وہ قوانین ہیں جن کے ذریعے اپنے ہی ملک کے باشندوں کو الگ کردیا جائے اور باہر کے لوگوں ملک میں پناہ دی جائے، اسے ہم ایک قانون کے طور پر دیکھتے اور سمجھتے آئے ہیں، یا محض آر ایس ایس کی سوچ اور ہندو راشٹر کا خواب پالنے والوں کی ایک سازش کی صورت سمجھ رہے ہیں؛ لیکن دراصل بات اس سے زیادہ ہے، قصہ آج کا نہیں ہے، بلکہ ہندو تہذیب کی سوچ اور ان کی حقیقت کا ہے، اس تہذیب کے اندر کس قدر تنگدلی اور تنگ فکری پائی جاتی ہے اس سے پوری تاریخ بھری پڑی ہے، اس ہندو سماج نے اپنی عصبیت اور کمتری کی بنا پر ہی کبھی دوسروں کو قبول نہ کیا، انہیں ایسا لگتا ہے کہ وہ اس زمین کے ٹکڑے کے ہی نہیں؛ بلکہ یہاں کی ہر قدرتی و مادی خزانے کے مالک ہیں، ہندو دھرم جس میں منوواد، سمنو سمرتی، برہمن واد اور سوواج کا تصور ہے، یہی ان کی زندگی کی اصل اور وجہ حیات ہے، دستور زندگی ہے، وہ اس کے سامنے کسی کو بھی قابل اعتناء نہیں سمجھتے. حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ یہ سب ایک ایسی قصہ گوئی ہے جس کے اندر انسان، انسان کے اندر ہی بندھ جاتا ہے، وہ کالے گورے اور اپنے پرائے کی تفریق میں مست ہوجاتا ہے، چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ان کے سروں پر ڈنڈے مارے گئے، تلوار چلائی گئی اور باہر سے لوگوں نے آکر زبردستی انہیں پابہ زنجیر کردیا، ظاہر ہے کہ قدرتی خزانے پر ایک کا حق ہے، یہ ملک سب کا ہے، کسی ایک کا نہیں ہے، ساری تہذیب و ثقافت کو اپنی جاگیر سمجھ لینا نادانی کی بات ہے؛ چنانچہ ہندوستان کا کوئی دور ایسا نہیں گزرا جب یہاں دوسری قوموں نے اپنی بالادستی قائم کرنے کیلئے جو بن پڑا ہو وہ نہ کیا ہو____ یہ ان کی کم ظرفی اور کم عقلی رہی ہے کہ ایک گھروندے میں خود کو قید کرنے کے چکر میں پورے ملک کو قید وبند کی زندگی پر مجبور کر دیتے تھے، ابھی بھی وہی جنون سوار ہے، وہ خود اپنے آپ کو ان مصیبت میں ڈالنا چاہتے ہیں کہ کوئی بھی ایک مذہبی پہچان لیکر انہیں اپنا غلام بنا لے، بڑی جد و جہد اور سرفروشی کے بعد ہندوستان آزاد ہوا؛ لیکن انہیں آزادی راس نہیں آتی، وہ اپنے آپ کو غلامی میں ہی محفوظ سمجھتے ہیں، اور اپنی پہچان کے آگے سبھی کو پھیکا کردینا چاہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ یہ ملک بھی منقسم ہوا، اور اسی سوچ نے کبھی پاکستان سے بنگلادیش کو بھی الگ کردیا.*
*یہ ایک تاریخی حقیقت ہے اور اس تاریخی حقیقت سے پردہ اٹھانے والے محقق زمانہ، سیرت نگار اور سید الطائفہ علامہ سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ ہیں، واقعی آپ نے زندگی کی بہاروں میں ہندوستان کی تاریخ کا ایک ایک جزء نہ صرف پڑھا، لکھا؛ بلکہ دیکھا بھی ہے، بالخصوص ہندو تہذیب پر آپ کی خاص نظر تھی، ان کی عصبیت اور ان کی کم طرفی کو وہ بخوبی جانتے تھے، چنانچہ ابھی ہندوستان منقسم نہ ہوا تھا؛ کہ علامہ سید سلیمان ندوی نے ایسی بہت سی باتیں کہہ دی تھیں، جن سے ہندوستان کے منقسم ہوجانے کا اشارہ ملتا ہے، اس سلسلہ میں آپ کے مختلف خطبات پڑھنے کی ضرورت ہے، جسے آزادی سے قبل مختلف پروگراموں میں پیش کیا گیا تھا، آپ نے ایک دفعہ کلکتہ اردو کانفرنس کے اجلاس منعقدہ 31/دسمبر 1939ء کے خطبہ صدارت کے اندر بہت سے اندیشوں اور خطروں سے آگاہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:_ ” میرے نزدیک کسی ہندو طبقہ کا قومیت و وطنیت کے مفہوم کو اتنا تنگ سمجھنا؛ کہ خود اس ملک کے مختلف بسنے والے بھی وہاں کے اصلی رہنے والے ثابت نہ ہوسکیں، ان کی وہی موروثی اور پرانی تنگ خیالی ہے، جس نے تاریخ میں ان کو ہمالہ اور سمندر کی چاردیواری میں بند اور ان میں چھوت چھات کی پرانی لڑائی ہزاروں برس سے کھڑی کر رکھی ہے، اور جس نے تاریخ کے ہر دور میں ان کے اندر کے مظلوم فرقوں کو مجبور کیا؛ کہ وہ باہر کا سہارا ڈھونڈیں اور باہر والوں کو اپنی مدد کیلئے اپنے گھر بلائیں اور نتیجے میں اپنے ساتھ دوسروں کو بھی غلامی کی زنجیروں میں اسیر کرائیں، یہ ایک تاریخی نکتہ ہے، جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں، مگر جس کو کسی موقع پر بھولنا نہیں چاہئے___” اس مقالہ کے سب سے آخر میں سید صاحب رحمہ اللہ نے پورے ملک کو مخاطب کیا ہے، یہاں کی بیش قیمت اتحاد، ہم آہنگی کو بیان کرتے ہوئے تنبیہ ان لفظوں میں کی ہے، جسے آب زر سے لکھ کر در ودیوار پر چسپاں کردینا چاہیے؛ کہ ” ہندو مسلمان دونوں تنگ دلی اور جھوٹی قومیت کی غلط پاسداری کرکے اپنے ملک کو تباہ نہ کریں، اور اس کشتی میں وہ سوراخ نہ کریں، جس سے وہ پھر کبھی نہ بن سکے گی اور جس کا نتیجہ سب کیلئے ایک ہے__” (نقوش سلیمانی:162 تا 170_ دیکھئے: علامہ سید سلیمان ندوی_ شخصیت و ادبی خدمات _139)*

✍ *محمد صابر حسین ندوی*
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
07/03/2020

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے