*ظلم کا انجام ہلاکت و تباہی ہے*
(۱ )
*محمد قمرالزماں ندوی*
*مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ*
*ظلم* خدا کو قطعی پسند نہیں ہے،اللہ تعالی ظلم کرنے والے کو اس کے انجام تک ضرور پہنچا دیتا ہے،دنیا میں بھی ظالموں کو اپنے کئے کی سزا بھگتنی ہوتی ہے اور آخرت میں اس کے لئے تو دردناک عذاب ہے ہی، یہ الگ بات ہے کہ اللہ تعالی کبھی اپنی حکمت اور مصلحت سے ظالموں کو ڈھیل اور مہلت دیتا ہے ۔ دنیا میں سب سے زیادہ ڈرنے والی چیز ظلم ہے،ظلم کرنے والوں پر خدا کی طرف سے آفتیں آتی ہیں، زلزلے آتے ہیں، بجلیاں گرتی ہیں، خوفناک وائرس اور سونامی جیسا طوفان آتا ہے،ملک میں بدامنی اور انتشار پیدا ہوتا ہے ،ہلاکتیں ہوتی ہیں، بیماریاں عام ہوجاتی ہیں، قحط سالی آتی ہے،بھوک مری اور گرانی بڑھتی ہے،اور آسمانی آفتیں آتی ہیں۔
غرض ظلم بہت بری چیز ہے،یہ خالق کائنات کو ناراض کرنے والی چیز ہے ۔ ظلم کرنے والوں پر خدا کی طرف سے ایسی مصیبتیں آتی ہیں جن کا پہلے سے تصور و تعین بھی نہیں کیا جاسکتا اور ان کے تصور سے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔
جن افراد ( لوگوں) نے اور جن حکومتوں نے اپنی رعایا پر ظلم روا رکھا، اللہ نے ان کو دبوچ لیا،ان کی پکڑ کی ،ان کو دنیا میں ہی کیفر کردار تک پہنچا دیا، یقینا خدا کی پکڑ بہت سخت ہے ۔ *ان بطش ربک لشدید* یہ خدائ اعلان ہے ۔
ابھی ہفتے پہلے پڑوسی ملک *چین* جو آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے، جس کو چائنہ بھی کہا جاتا ہے ۔ جو اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان میں سے ایک ہے، جس کو ویٹو پاور حاصل ہے۔ ان دنوں وہاں ایک وبائی بیماری پھیلی ہوئی ہے ۔ اس وبا اور وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ایک صوبہ *ہوبائ* ہے جس کی راجدھانی *ووہاں* ہے۔
اس وائرس (بیماری) اور وبا نے چین کے علاوہ تھائی لینڈ، امریکہ اور آسٹریلیا وغیرہ میں بھی دستک دے دی ہے ۔ *ہندوستان* میں بھی ایک آدھ مریض کے اندر اس وائرس کو پایا گیا ہے ۔
اس بیماری کے بارے میں جو تفصیلات بتائ جاری ہے، وہ کچھ یوں ہے ۔ یہ وائرس کسی بھی انسان کو ایک سے چودہ دنوں کے درمیان اپنی لپٹ میں لے سکتا ہے،اس کی علامتوں میں بخار ،سردرد،نزلہ و زکام، خشک کھانسی، سانس کی تکلیف اور رفتہ رفتہ پھیپھڑے کا ناکارہ ہونا ہے، یہ علامتیں فورا بھی ظاہر ہوسکتی ہیں کہ ایک انسان اپنی روز مرہ کی زندگی میں مصروف رہتے ہوئے وائرس سے متاثر ہوکر اچانک موت کے آغوش میں چلا جائے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ وائرس سے کوئ متاثر ہو لیکن مذکورہ بالا علامتیں فورا ظاہر نہ ہوں ۔ اب تک اس وبا اور وائرس سے سیکڑوں لوگوں ہلاک ہوچکے ہیں اور ہزاروں لوگ متاثر ہیں پورے چائنا میں ہائی الرٹ کردیا گیا ہے اور *ووہان* شہر کو تو بالکل بلاک کردیا گیا ہے ،اور لوگوں کی آمد و رفت پر مکمل پابندی لگا دی گئی ہے ۔
*چین* میں *کورونا وائرس* ایک طرح سے عذاب الہی ہے، یہ ظلم کا انجام اور شاخسانہ ہے ، چین میں شروع سے مسلمانوں پر ظلم کیا گیا ۔ خاص طور پر *ایغور* مسلمانوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا ۔ مساجد شہید کردئے گئے ،عبادت کرنے پر روک لگا دی گئی، قرآن کی تلاوت پر پابندی عائد کی گئی، قرآن پاک کو نذر آتش کیا گیا، حجاب اور برقعے پر پابندی عائد کی گئیں ۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کو والدین سے الگ کیا گیا،حرام اشیاء کھانے اور شرک و برائ کرنے پر وہاں کے مسلمانوں کو مجبور کیا گیا ۔مسلمانوں کو اسلام سے متنفر کرنے کے لئے ہر حربہ استعمال کیا گیا، لیکن چین کے مسلمان ثابت قدم رہنے اور اپنے دین پر جمے رہے ،اور ہر طرح سے اپنے ایمان و عقیدہ پر ثابت قدم رہے ۔ کچھ دنوں پہلے وہاں کے وزیر اعظم نے یہ اعلان کیا تھا کہ اب چینی مسلمانوں کو ہمارے بنائے ہوئے قانون کے مطابق زندگی گزارنی ہوگی،اور ہمارے لکھے ہوئے قرآن کو پڑھنا ہوگا۔ یہ اعلان کئے ہوئے زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ اللہ تعالی نے *کورونا وائرس* کی شکل میں ایسا عذاب نازل کردیا جس کی وجہ سے پورے *چین* میں ہاہا کار مچا ہوا ہے ۔ ہر طرف آہ و فغاں ہے ۔ چیخ و پکار ہے ،اور المدد المدد بچاو بچاو کی صدا بلند ہو رہی ہیں ۔ لوگ پاگلوں جیسی حرکت کر رہے ہیں اور مچھلیوں کی طرح ٹرپ تڑپ کر مر رہے ہیں ۔ جس حجاب کو پہننے پر وہاں کی حکومت نے پابندی لگائی تھی آج جان بچانے کے لیے اسی حجاب کو اپنانے پر وہ مجبور ہیں ۔ حکمراں اور عوام مسلمانوں سے دعا کے لئے اپیل کر رہے ہیں ۔۔
ماہرین اس بات کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آخر یہ وائرس کس طرح پھیلا اور اس کا ذریعہ کیا تھا۔زیادہ تر اطلاعات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ یہ وائرس چین میں لوگوں کے کھانے پینے کی عادات کی وجہ سے پھیلا ۔ بعض لوگ اسے چمگادڑ اور بعض اسے سانپ کے ذریعہ پھیلنے والا وائرس بتاتے ہیں اور یہ دونوں چیزیں *چین* میں کھائی جاتی ہیں ۔ بلکہ وہاں کے لوگ اور بھی بہت سے حشرات الارض اور محرمات و خباثت (جانور) کھاتے ہیں ۔ *چین* میں آزاد میڈیا کا تصور بہت کم ہے ۔ وہاں میڈیا پر حکومت کا سخت کنٹرول ہے۔ اس کے باوجود جس طرح کی خبریں آرہی ہیں وہ بہت ہی پریشان کن ہیں ۔ حکومت کی تمام تر کوششوں کے باوجود راحت کے آثار نہیں دکھ رہے ہیں، جبکہ حکومت اس معاملے میں بہت ہی فعال اور ایکٹیو ہے، مرض کی تشخیص اور علاج کے لئے اعلی پیمانے پر کوشیش جاری ہیں ۔ *چین* نے دس دن میں متاثرین کے لئے کافی انتظامات کر لئے ہیں، وہاں کی حکومت نے لوگوں کو پابند کیا ہے کہ متاثرہ افراد اپنی جگہ رہیں کہیں سفر نہ کریں ۔
لیکن ہمیں یہ ماننا پڑے گا ،کہ میڈیکل سائنس آج جس قدر ترقی کرلے ۔ اس کے آلات سرجری اور مشینیں جس قدر زیادہ ہوجائیں،وہ قدرت کے سامنے بالکل بے بس ہے، اور بے بس رہے گی ۔ انسان اپنے طور پر سورج کی شعاعوں کو گرفتار کرلے ۔ چاند پر کمندیں ڈال لے ۔ تاروں کو توڑ لائے لیکن قدرت انسانوں کو یہ بتاتی اور پیغام دیتی ہے کہ سبھی سائنسی ترقی اور پیش رفت کے باوجود تم ہمہ وقت ہماری طاقت،مدد نصرت، اور سہارے کے محتاج ہو ۔
*باقی کل کے پیغام میں ملاحظہ فرمائیں*