لاک ڈاؤن میں تراویح کا مسئلہ

*⚖سوال و جواب⚖*

*مسئلہ نمبر 1119*

(کتاب الصلاۃ باب التراویح)

*لاک ڈاؤن (Lockdown & Taraveeh) میں تراویح کا مسئلہ*

*سوال:* اگر لاک ڈاؤ بڑھ جائے تو رمضان کے مہینے میں تراویح پڑھنے کا کیا حکم رہے گا؟ قرآن مجید ختم کیا جائے گا یا پھر "الم تر کیف” سے تراویح پڑھی جائے گی؟ کیا حکم رہے گا شریعت کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائے. عین نوازش ہوگی
(احمد رمضانی گودھرا گجرات)

*بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم*

*الجواب وباللہ التوفیق*

اس وقت کرونا وائرس کی وجہ سے پوری دنیا کی جو صورت حال ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے، لوک ڈاؤن نے اس میں مزید دقتیں اور مصیبتیں پیدا کردی ہیں، ہندوستان کے بہت سے صوبوں میں رمضان تک لوک ڈاؤن کا سلسلہ دراز ہونے کی خبر آچکی ہے اور بعض دیگر صوبوں میں بھی یہی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے، اس صورت میں ظاہر ہے مساجد میں لوگوں کا مجتمع ہوکر نماز تراویح پڑھنا نہ ممکن ہوگا اور نہ ہی مناسب، ایسی صورت میں مساجد کے اندر نماز تراویح کا اہتمام صرف وہی لوگ اتنی ہی تعداد میں کریں جنہیں سرکاری طور پر اجازت دی گئی ہے، مساجد میں مجمع بڑھانے کی کوشش نہ کریں، یہ صورت بیماری سے تحفظ اور ملکی قانون کی پاسداری اور مسلمانوں کے امن و سلامتی کے لیے بہتر ہوگی۔

باقی رہے وہ لوگ جو مساجد میں حاضر نہیں ہوسکتے وہ اپنے گھروں یا چھتوں پر بھی نماز باجماعت اور تراویح کا اہتمام کرسکتے ہیں، اگر کوئی حافظ مل جائے یا گھر میں کوئی حافظ ہو تو پورا قرآن تراویح میں پڑھنے اور سننے کا اہتمام کریں اور اگر نہ مل سکے تو "الم تر کیف” یا دیگر قرآنی سورتوں کے ذریعے بھی تراویح ادا کر لی جائے، تراویح میں مکمل قرآن پڑھنا اور سننا سنت ہے، اس لئے باآسانی ممکن ہو تو اس سنت پر عمل کریں اور اگر مجبوری ہو تو شرعاً چھوڑنے کی گنجائش ہے، ان شاء اللہ ہر شخص کو اس کی نیت کی وجہ سے قرآن مجید سننے کا ثواب مل جائے گا۔

نیز قرآن مجید کی تلاوت کا ہر شخص اہتمام کرے بطورِ خاص وہ لوگ جو حالات کی وجہ سے مکمل قرآن سننے کی سعادت سے محروم ہوں انہیں چاہیے کہ وہ اس رمضان المبارک میں بکثرت قرآن کی تلاوت کریں، کیوں کہ اصل قرآن مجید کی تلاوت ہی ہے، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعین عظام سے اس مبارک مہینے میں قرآن مجید کثرت سے پڑھنا کتب سیرت و سوانح میں مذکور ہے؛ چنانچہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جس سال آپ کی وفات ہوئی اس سال آپ نے دو دور مکمل فرمائے۔

اسی طرح تابعین کے آثار سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے؛ کہ وہ رمضان کی راتوں میں کئی کئی قرآن مکمل کیا کرتے تھے، چنانچہ حضرت ابراہیم نخعی حضرت اسود کے بارے میں نقل کرتے ہیں کہ وہ رمضان کی ہر رات میں ایک قرآن مکمل کرتے تھے، مشہور تابعی حضرت قتادہ رمضان میں ہر تین رات میں ایک قرآن پڑھتے تھے، حضرت مجاہد ہر رات رمضان میں ایک قرآن پڑھتے تھے، اس قسم کے بے شمار آثار موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم، آپ کے صحابہ اور تابعین رمضان کی راتوں میں کئی کئی قرآن مجید مکمل کرنے کا اہتمام کرتے تھے اس لیے رمضان المبارک میں تلاوتِ قرآن کا خصوصی اہتمام کریں(١). فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔

*????والدليل على ما قلنا????*

(١) فَقَالَتْ : أَسَرَّ إِلَيَّ ” إِنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يُعَارِضُنِي الْقُرْآنَ كُلَّ سَنَةٍ مَرَّةً، وَإِنَّهُ عَارَضَنِي الْعَامَ مَرَّتَيْنِ (صحيح البخاري رقم الحديث ٣٦٢٤ كِتَابُ الْمَنَاقِبِ. | بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ)

والختم مرة سنة و مرتين فضيلة (الدر المختار مع رد المحتار 597/2 كتاب الصلاة)

فعن إبراهيم النخعي قال : كان الأسود يختم القرآن في رمضان في كل ليلتين .(السير 4/51)

> وكان قتادة يختم القرآن في سبع ، فإذا جاء رمضان ختم في كل ثلاث ، فإذا جاء العشر ختم في كل ليلة القرآن (السیر 276/5)

> وعن مجاهد أنه كان يختم القرآن في رمضان في كل ليلة . ("التبيان” للنووي ص/74 وقال : إسناده صحيح)

> وعن مجاهد قال : كان علي الأزدي يختم القرآن في رمضان كل ليلة . (تهذيب الكمال 2/983)

> وقال الربيع بن سليمان : كان الشافعي يختم القرآن في رمضان ستين ختمة .(السير 10/36)

> وقال القاسم ابن الحافظ ابن عساكر : كان أبي مواظباً على صلاة الجماعة وتلاوة القرآن ، يختم كل جمعة ، ويختم في رمضان كل يوم . ( السير 20/562)

*كتبه العبد محمد زبير الندوي*
دار الافتاء و التحقیق مدرسہ ہدایت العلوم بہرائچ یوپی انڈیا
مورخہ 17/8/1441
رابطہ 9029189288

*دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے*

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے