لوک ڈاؤن کی وجہ سے اگر کسی شہر میں نمازِ عید الاضحی نہ ہوسکے تو اس شہر کے لوگ کس وقت قربانی کریں گے

????سوال وجواب????

????مسئلہ نمبر 1200????

(کتاب الاضحیہ، باب وقت الاضحیہ)

سوال: لوک ڈاؤن کی وجہ سے اگر کسی شہر میں نمازِ عید الاضحی نہ ہوسکے تو اس شہر کے لوگ کس وقت قربانی کریں گے (عبداللہ، بہرائچ، یوپی انڈیا)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب و باللہ التوفیق

قربانی ہر عاقل بالغ صاحب نصاب پر واجب ہے، اور شہر میں مقیم حضرات کے لیے قربانی کا وقت نماز عید الاضحی کے بعد کا وقت ہے، نماز سے قبل قربانی درست نہیں ہے، لیکن اگر کوئی عذر ہو جس کی وجہ سے نمازِ عید پڑھنا ممکن نہ ہو جیسے شدید بارش ہو یا کرفیو ہو یا اس وقت جیسے لاک ڈاؤن ہے تو ان صورتوں میں نماز کا وقت ختم ہونے یعنی زوال شمس کے بعد قربانی کرنا ہوگی، اس سے پہلے قربانی درست نہیں ہے، لیکن جیسا کہ بعض معتبر اہل علم اور مفتیان کرام نے گھروں میں عید الفطر کی نماز ادا کرنے کی سہولت دی ہے اسی طرح لوک ڈاؤن کی وجہ سے عیدالاضحی کی نماز بھی لوگ گھروں میں پڑھ کر قربانی کر سکتے ہیں اور اس صورت میں زوال شمس کے انتظار کی ضرورت نہیں، گھروں میں عیدالاضحی کی جماعت کرکے قربانی کرسکتے ہیں۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔

????والدليل على ما قلنا ????

(١) عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَلْيُعِدْ ” (صحيح البخاري رقم الحديث ٩٥٤ كِتَابُ الْعِيدَيْنِ | بَابُ الْأَكْلِ يَوْمَ النَّحْرِ)

ولو وقعت فتنة في مصر ولم يكن لها إمام من قبل السلطان يصلي بهم صلاة العيد فالقياس في ذلك أن يكون وقت النحر في ذلك المصر بعد طلوع الفجر يوم النحر بمنزلة القرى التي لا يصلى فيها، ولكن يستحسن أن يكون وقت نحرهم بعد زوال الشمس من يوم النحر؛ لأن الموضع موضع الصلاة، ألا ترى أن الإمام لو كان حاضرا كان عليهم أن يصلوا إلا أنه امتنع أداؤها العارض فلا يتغير حكم الأصل؛ كما لو كان الإمام حاضرا فلم يصل لعارض أسباب من مرض أو غير ذلك، وهناك لا يجوز الذبح إلا بعد الزوال كذا ههنا. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ٥/٧٤ كتاب الاضحية بيروت)

فلا يجوز لأحد أن يضحي قبل طلوع الفجر الثاني من اليوم الأول من أيام النحر ويجوز بعد طلوعه سواء كان من أهل المصر أو من أهل القرى، غير أن للجواز في حق أهل المصر شرطا زائدا وهو أن يكون بعد صلاة العيد، لا يجوز تقديمها عليه عندنا. (بدائع الصنائع ٥/٧٣ کتاب الاضحیہ، بیروت)

كتبه العبد محمد زبير الندوى
دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا
مؤرخہ 11/11/1441
رابطہ 9029189288

دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے