مشترکہ خاندانی نظام غور و فکر کے چند پہلو قسط نمبر ⓭

از: محمد قمر الزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

مشترکہ نظام میں تربیت کا خسارہ

اولاد کی طلب یہ انسان کی فطری خواہش ہے، والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ اولاد صالح ہو، دینی خطوط پر ان کی تربیت ہو تاکہ مستقبل میں وہ نیک و صالح بنیں ، اچھائیاں فروغ پائیں، اللہ کے قانون کا بول بالا ہو، معاشرہ میں امن و سکون ہو اور افراد خاندان کو حقوق و فرائض کی شناخت ہو۔ بچوں کی صحیح خطوط پر تعمیر و تشکیل کے سلسلہ میں سب سے مشکل مرحلہ تربیت کا ہوتا ہے اور تمام مخلوقات میں شاید سب سے طویل مدت اشرف المخلوقات کی اولاد کی تربیت میں صرف ہوتی ہے۔۔ اس سلسلہ میں والدین کو کئی محاذ پر بیک وقت کام کرنا ہوتا ہے، تا کہ ان کی اولاد خاندان اور معاشرہ کے لیے بہترین نمونہ بنے۔۔ جسمانی تربیت، ایمانی و اخلاقی تربیت، صحیح تعلیم و کیریر وقت پر نکاح یہ ساری چیزیں تربیت کے لازمہ میں سے ہیں۔ مشترکہ خاندانی نظام میں والدین کے سامنے بہت سی جگہ دینی و اخلاقی تربیت میں دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، گویا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ تربیت کا خسارہ بھی اس نظام کے خساروں میں سے ایک ہے، مشترکہ خاندانی نظام میں کچھ افراد پردیش میں رہتے ہیں اور روپیہ پیسہ کما کر گھر بھیجتے ہیں وہ اپنے بال بچوں کی براہ راست تربیت نہیں کرپاتے، اپنی اولاد کو اپنے ساتھ پردیس میں رکھ نہیں سکتے کہ مشترکہ فیملی کے مکھیہ اس کی اجازت نہیں دیتے یا اولاد کو اپنے ساتھ رکھ کر وہ ماہانہ رقم گھر والوں کو نہیں دے سکتے، کیونکہ آمدنی محدود ہے، ساری رقم اپنی فیملی اور پریوار پر خرچ ہو جارہی ہے، بیوی کی تربیت کا خسارہ بھی اس نظام کا لازمہ ہے، کیونکہ اس نظام میں بسا اوقات شوہر اپنی بیوی کو بہت سی ان باتوں اور معاملات سے نہیں روک سکتا جنہیں از روئے دین و شرع وہ غلط سمجھتا ہے، بڑوں کا ادب اور خاندانی نظام کا تقدس اس راہ میں حائل ہوتا ہے۔۔۔
ہم کو درجنوں خاندان کے گھریلو مسائل کے تصفیہ کا موقع ملا ہے، مشترکہ خاندان کے مسائل کی پیچیدگی کا مجھے اندازہ ہوا ہے کہ کس طرح ایک شخص خلیج ملک میں جانور کی طرح محنت کرکے گھر روپیہ بھیج رہا ہے، زمینی ترقی ہو رہی ہے، مکانات بھی خریدے اور بنائے جارہے ہیں لیکن بیوی کو ان کا واجبی خرچ بھی مشکل سے مل پارہا ہے، ان کے پاس شکوہ و شکایت کا پٹارہ ہے، شوہر کے ڈر اور اس نظام کے خوف سے وہ نفسیاتی مریض بنتی جارہی ہے، بچے کو صحیح تعلیم کے لیے مناسب اسکول میں پڑھا نہیں پارہی ہے، اس لیے کہ ان کو اس کی اجازت نہیں ہے، بیس پچیس سال کے بعد جب وہ مستقل گھر آجاتا ہے اور آمدنی محدود ہو جاتی ہے اور اولاد کی صحیح تعلیم بھی نہیں ہوپاتی ہے، اور اپنی محنت کی کمائی کو حصوں اور بکھروں تقسیم پاتا ہے تو وہ شدید ذھنی تناو کا شکار ہو جاتا ہے، بیوی بچوں سے دور رہنے کی وجہ سے بہت سے ایسے واقعات پیش آتے ہیں کہ خاندان کا سر شرم سے جھک جاتا ہے اور پورے علاقہ میں بدنامی ہوتی ہے۔۔۔ اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں ہر جگہ اس طرح کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔۔۔

دینی خسارہ

نماز باجماعت کی دین میں کیا اہمیت ہے اور اس کا کیا مقام ہے ؟ سب واقف ہیں، تنہا نماز پڑھنے والے اور جماعت سے نماز پڑھنے والے کی نماز میں پچیس یا ستائیس گنا ثواب کا فرق ہے، ان کو متعین اوقات میں ادا کرنے کی کتنی تاکید ہے عوام و خواص سبھی اس سے واقف ہیں، مگر مشترک خاندان کے ازدحام اور بھیڑ میں مقررہ وقت میں زوجین کا غسل جنابت کرکے نماز کا ادا کرنا ایک چیلنج بنا رہتا ہے، اگر شوہر اپنی قوت ارادی سے اس مہم کو سر بھی کرلے، تو بیوی کا فطری جذبہ حیا بہر حال اس راہ میں رکاوٹ اور مانع بنا رہتا ہے اور وہ کہیں ظہر اور عصر کے بعد ہی پاکی حاصل کرکے نماز پڑھنے کے قابل ہوتی ہے، دیور، دیورانیاں، جٹھانی ان کے چھوٹے چھوٹے بچے ساس سسر اور نندوں کے ازدحام میں سہولت کے باوجود اس کے لیے بے وقت غسل کرنا مشکل ہے، کبھی سہولیات اور وسائل کی کمی بھی اس راہ میں رکاوٹ بنتی ہے۔ اندازہ لگائیے کہ گھر میں ایک ہی ہینڈ پائپ ہو ایسے میں کیا یہ ممکن ہے کہ آسانی کے ساتھ انسان طہارت حاصل کرکے کہ نماز کی پابندی کرسکےگا؟ مسلمان معاشرے کے بیشمار افراد ہیں جن کی نماز میں محض مشترکہ خاندان کے ی نظام کے نتیجے میں نقص اور خلل کا شکار ہیں۔۔ ہم نے اس نظام کا گہرائی جائزہ لیا ہے اور اس کی کمیوں اور خامیوں کو سمجھا ہے، اس لیے یہ باتیں تحریر کر رہا ہوں۔ مشترکہ خاندانی نظام میں گارجین کی نگاہ میں دوسری ترقیاں زیر غور رہتی ہیں ان پر عمل ہوتا رہتا ہے لیکن تربیت کے لیے کیا چیزیں درکار ہیں اس کے لیے کیا اسباب و وسائل ضروری ہیں، ان پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی، خاص طور پر سپریٹ کمروں اور اٹیچ باتھ روم والوں کمروں کا انتظام وغیرہ ان چیزوں پر تو وہ توجہ دیتے ہی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے