ولی قریب کی غیر موجودگی میں ولی بعیدکا نکاح کرانا

اگر قریبی ولی کہیں سفر میں گیا ہو اور اس سے رابطہ ممکن نہ ہو اور اس کی واپسی کے انتظار میں اچھا رشتہ ٹوٹ جانے کا اندیشہ ہو تو ولی بعیدکے لیے نکاح کرانے میں کوئی حرج نہیں ہے اور اس کا کرایا ہوا نکاح نافذ ہوجائے گا اور اگر ایسی بات نہیں ہے بلکہ ولی اقرب قریب ہی کہیں گیا ہے یا آج کل کے دور میں ٹیلی فون وغیرہ کے ذریعہ سے رابطہ ممکن ہے تو اس کی اجازت کے بغیر ولی ابعدکاکرایاہوانکاح درست نہ ہوگا۔۔۔واللہ اعلم بالصواب۔

(مستفاد: کتاب المسائل
تنویرالابصار جلد نمبر 4 صفحہ نمبر 199 مع فتاوی شامی مجمع الانھر جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 499 فتاوی تاتارخانیہ جلد نمبر 4 صفحہ نمبر 91
ناقل✍ہدایت اللہ قاسمی
خادم مدرسہ رشیدیہ ڈنگرا،گیا،بہار
HIDAYATULLAH
TEACHER MADARSA RASHIDIA DANGRA GAYA BIHAR INDIA
نــــوٹ:دیگر مسائل کی جانکاری کے لئے رابطہ بھی کرسکتے ہیں
CONTACT NO
6206649711
????????????????????????????????????????????????

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے