*????️سوال وجواب????️*
????مسئلہ نمبر 1263????
(کتاب البيوع، باب الربا)
*کرونا وائرس کی وجہ سے انشورنس کرانے کا حکم*
*سوال:* کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیان شرعِ متین درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ اس وقت امتِ مسلمہ مختلف پریشان کن حالات سے دوچار ہے، وبائی مرض کے سبب کاروبار اور نوکریوں کا مسئلہ بھی انتہائی پیچیدہ ہے، اگر کسی کو کورونا مرض ہو جائے تو سرکاری ہسپتالوں میں جگہ نہ رہنے کی وجہ سے ایڈمیشن نہیں ملتا اور اگر مل بھی جائے تو (کچھ مشکوک مشاہدے کی بِنا پر) مریض جانا نہیں چاہتا اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں عام لوگوں کے لئے علاج کرانا تقریباً ناممکنات میں سے ہے کہ لاکھوں میں بِل بنتے ہیں، کووڈ 19 کا صرف ایک انجیکشن چالیس ہزار روپے کا آتا ہے تو بقیہ خرچ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے اگر کسی کے پاس میڈیکل انشورنس ہے تو بسہولت کسی بھی ہسپتال میں علاج کروا سکتا ہے۔
اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ ان حالات کے پیش نظر میڈیکل انشورنس کرانا جائز ہے یا نہیں؟ ادنیٰ بھی گستاخی سے اللہ کی پناہ مانگتے ہوئے ادباً گزارش ہے کہ جواب میں صرف نقل پر اکتفا نہ کرتے ہوئے حالات حاضرہ کو سامنے رکھ کر فقہی جزئیات پر بنظرِ غائر تحقیق فرمالی جاوے اور امت مسلمہ کی آسان رہبری فرماکر عنداللہ ماجور وعندالامۃ ممنون و مشکور ہوں.
(المستفتی:- اشرف علی قاسمی, پورنوی
مقیم حال پونہ, مہاراشٹر, بھارت)
*بسم اللہ الرحمن الرحیم*
*الجواب و باللہ التوفیق*
کرونا وائرس حقیقتاً بیماری ہے یا نہیں، اور پھر واقعی اس کا علاج دریافت کیا جاچکا ہے یا نہیں؟ یہ خود ایک قابلِ تحقیق اور بہت حد تک موہوم چیز ہے، مختلف ممالک میں جو رویے اس کے تئیں انجام پائے ہیں وہ بابصیرت حضرات سے مخفی نہیں ہیں، حقیقت یہ ہے کہ اس بیماری کی صحیح علامت تو دریافت کی نہیں جاسکی علاج و معالجہ تو کجا، پھر انشورنس کمپنیاں اتنی آسانی سے اس کا علاج کرادیں سوائے خام خیالی کے کچھ نہیں، انشورنس کمپنیوں سے امداد حاصل کرنے کے لئے کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں وہ وہی بتا سکتے ہیں جن کو کبھی اس کا سامنا ہوا ہو، اس لیے زمینی حقائق آپ کی ذکر کردہ باتوں سے کہیں زیادہ مختلف ہیں، جب کہ انشورنس کی حرمت میں شک نہیں؛ اس لیے کہ انشورنس بنیادی طور پر سود اور جوئے پر مبنی ہوتا ہے اور یہ دونوں شریعت اسلامی میں نص قطعی سے حرام ہیں، سود اس طور پر کہ بیماری کی صورت میں جمع شدہ رقم سے زائد رقم ملتی ہے، ظاہر ہے کہ زائد رقم سود ہے، اور جوا اس طور پر کہ اگر بیماری نہ ہو تو جمع شدہ رقم بھی نہیں ملتی، گویا رقم کا ڈوبنا اور زائد ملنا دونوں متوقع ہوتا ہے اور یہی جوا ہے، بلکہ بسااوقات انشورنس میں غرر اور جہالت بھی پائی جاتی ہے؛ اسی لیے عصر حاضر کے فقہاء اسلام کی تحقیق میں انشورنس کرنا کرانا ناجائز ہے، اس تفصیل کے بعد ایسی موہوم چیز کی وجہ سے ایک حرام چیز کی اجازت کا مطالبہ قطعاً غلط ہے(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔
*????والدليل على ما قلنا????*
(١) وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا ۚ (البقرة 275)
﴿ يَآ أَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوآ اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُون﴾ [المائدة: 90]
"عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اٰكِلَ الرِّبَا، وَمُؤْكِلَهُ، وَكَاتِبَهُ، وَشَاهِدَيْهِ»، وَقَالَ: «هُمْ سَوَاءٌ»”.(3/1219، کتاب المساقات،دار احیاء التراث ، بیروت)
"عن ابن سیرین قال: کل شيء فیه قمار فهو من المیسر”.(4/483، کتاب البیوع والأقضیة، ط: مکتبة رشد، ریاض)
"وَسُمِّيَ الْقِمَارُ قِمَارًا؛ لِأَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْ الْمُقَامِرَيْنِ مِمَّنْ يَجُوزُ أَنْ يَذْهَبَ مَالُهُ إلَى صَاحِبِهِ، وَيَجُوزُ أَنْ يَسْتَفِيدَ مَالَ صَاحِبِهِ وَهُوَ حَرَامٌ بِالنَّصِّ”. (6/ 403 کتاب الحظر والاباحۃ، ط: سعید)
*كتبه العبد محمد زبير الندوى*
دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا
مورخہ 18/1/142
رابطہ 9029189288
*دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے*