۲۔ دربار رسالت ﷺ کے حقوق و آداب
﴿۱﴾ آپ ﷺ پر ایمان لانا ۱۔
﴿۲﴾ آپ ﷺ کی اطاعت وپیروی کرنا ۲۔
﴿۳﴾ سب سے زیادہ آپ ﷺ سے محبت کرنا ۳۔
﴿۴﴾ آپ ﷺ کے متعلق سب سے افضل ہونے کا اعتقاد رکھنا ۴۔
﴿۵﴾ آپ ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کا اعتقاد رکھنا ۵۔
﴿۶﴾ آپ ﷺ کے متعلق معصوم وبے گناہ ہونے کایقین کرنا ۶۔
﴿۷﴾ آپ ﷺ کی ادنیٰ مخالَفت سے بھی اپنے آپ کو بچانا ۷۔
﴿۸﴾ آپ ﷺ کی محبت میں غلو (یعنی اللہ سبحانہ و تعالیٰ کےساتھ مخصوص صفات کو آپ ﷺ کے لیے ثابت ماننے) سے بچنا ۸۔
﴿۹﴾ کثرت سے آپ ﷺ پر درود وسلام بھیجتے رہنا ۹۔
﴿۱۰﴾ اہلِ بیت اورآپ ﷺ کی آل اولاد سے محبت رکھنا ۱۰۔
﴿۱۱﴾ صحابہ سے محبت رکھنا ۱۱۔
=•=•=•=•=•=•=•=•=•=•=•=
﴿۱﴾ ’’قال اللّٰه تعالیٰ: {لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَتُعَزِّرُوْهُ وَتُوَقِّرُوْهُ} ‘‘[الفتح:۹ ] اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے:تاکہ(اے لوگو!) تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اور اس کی مدد کرو اور اس کی تعظیم کرو۔
﴿۲﴾ ’’قال اللّٰه تعالیٰ: {یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ}‘‘[النساء:۵۹ ] اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے:اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور اُس کے رسول کی بھی اطاعت کرو۔
﴿۳﴾ ’’قال النبیﷺ: لایؤمن أحدكم حتیٰ أكون أحب الیه من والده وولده والناس أجمعین ‘‘[بخاري، کتاب الإیمان،باب حب الرسول امن الإیمان،۱: ۷،ح:۱۵ ] آپ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص اُس وقت تک (کامل)مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک مَیں اُس کےنزدیک اس کے باپ، بیٹے اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ بن جاؤں۔
﴿۴﴾ ’’قال النبیﷺ: أنا قاید المرسلین ولافخر‘‘[رواہ الدارمي، مشکوۃ، کتاب المناقب، باب فضائل سید المرسلین ا، ۲: ؍۵۱۴ ] آپ ﷺ نے فرمایا:میں انبیاء کا (بھی) مقتدا ہوں اور مجھے اِس پر کوئی غرور نہیں ہے۔
﴿۵﴾ ’’قال اللّٰه تعالیٰ: {مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَااَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ} ‘‘[الأحزاب:۴۰ ] اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے:(مسلمانو!)محمد(ﷺ)تم مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں ؛ لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں ، اور تمام نبیوں میں سب سے آخری نبی ہیں ۔
﴿۶﴾ ’’الأنبیاء علیهم السلام كلهم منزهون عن الصغایر والكبایر ، والكفر والقبایح ، یعنی قبل النبوة وبعدها ‘‘[شرح الفقہ الأکبر :۱۳۳،۱۳۲ ]
﴿۷﴾ ’’قال اللّٰه تعالیٰ: {وَمَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَیَتَّبِـعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِهٖ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِیْرًا} ‘‘[النساء:۱۱۵ ] اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے: اور جو شخص اپنے سامنے ہدایت واضح ہونے کے بعد بھی رسول کی مخالفت کرے، اور مؤمنوں کے راستے کے سوا کسی اَور راستے کی پیروی کرے، اُس کو ہم اُسی راہ کے حوالے کردیں گے جو اُس نے خود اپنائی ہے، اور اُسے دوزخ میں جھونکیں گے، اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔
﴿۸﴾ ’’قال النبیﷺ: لاتطرونی كما أطرت النصاریٰ عیسیٰ بن مریم، انما أنا عبداللّٰه فقولوا: عبداللّٰه ورسوله ‘‘[شمائل ترمذي، باب ماجاء في تواضع رسول اللہ ا، ص: ۲۰۵، ح: ۳۲۸ ] آپ ﷺ نے فرمایا:میری مبالغہ آمیز تعریف مت کرو، جیسے عیسائیوں نے عیسیٰؑ کی مبالغہ آمیزتعریف کی ہے، مَیں اللہ کا بندہ ہی ہوں اس لیے کہو:(آپ ﷺ)اللہ کے بندے اور اُس کے رسول ہیں ۔
﴿۹﴾ ’’قال النبیﷺ : أولی الناس بی یوم القیامة أكثرهم عَلَیَّ صلاة ‘‘[ترمذي ، کتاب الصلاۃ ، باب ماجاء في فصل الصلاۃ علی النبي ا، ۱: ؍۱۱۰، ح: ۴۸۴ ] آپ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن مجھ سے سب سے زیادہ نزدیک وہ شخص ہوگا جو کثرت سے مجھ پر درود شریف پڑھتا ہوگا۔
﴿۱۰﴾ ’’قال النبیﷺ: أحبوا اللّٰه لما یغذوكم من نعمة ، وأحبونی لحب اللّٰه ، وأحبوا أهل بیتی لحبی ‘‘[مشکوۃ ، کتاب المناقب ، باب مناقب أہل البیت ، الفصل الثالث، ۲: ؍۵۷۳ ]آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ سے محبت کروکیوں کہ وہ تمھیں نعمتوں کی غذا عطا کرتا ہے، اور اللہ سے محبت کی وجہ سے مجھ سے محبت کرو، اور میری محبت کی وجہ سے میرے گھر والوں سے محبت کرو۔
﴿۱۱﴾ ’’قال النبی ﷺ : اللّٰه اللّٰه فی أصحابی ، لا تتخذوهم غرضا من بعدی ، فمن أحبهم فبحبی أحبهم، ومن أبغضهم فببغضی أبغضهم ‘‘[ترمذي، أبواب المناقب، باب في من سب أصحاب النبي ﷺ، ۲: ؍۲۲۵، ح: ۳۸۶۲ ]آپ ﷺ نے فرمایا:میرے صحابہ کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو! میرے بعد ان کو اپنی اغراض کا نشان طعن نہ بنانا، جو شخص اُن سے محبت کرتا ہے میری محبت کی وجہ سے اُن سے محبت کرتا ہے، اور جو اُن سے دشمنی رکھتا ہے مجھ سے دشمنی کے سبب اُن کو دشمن رکھتا ہے۔