نذر کا مصرف وہی ہے جو زکوۃ کا مصرف ہے، لہذااگرکسی نے یہ منت مانی کہ اگر میری مراد پوری ہو جائے گی تو میں اللہ کے راستے میں مثلا ٥٠٠روپےدوں گاتویہ رقم کسی مستحقِ زکوۃ شخص کو دیناہوگا، نذر کی رقم کسی صاحبِ نصاب کو دینا جائز نہیں ہے۔ اسی طرح والدین، اولاد، میاں، بیوی کا ایک دوسرے کو نذر کی رقم دینا بھی درست نہیں ہے خواہ یہ رشتہ دار غریب کیوں نہ ہوں۔واللہ اعلم بالصواب۔
(مستفاد: فتاوی بنوریہ
البناية شرح الهداية (10/ 218)وفي الشامية: "وهو مصرف أيضاً لصدقة الفطر والكفارة والنذر وغير ذلك من الصدقات الواجبة” . (شامي ۲/۳۳۹
۔۔????????????????????????
*اسکو پڑھئے، سمجھئے،عمل کیجٸے،اورآگےبھیجئے*
ناقل✍ہدایت اللہ۔خیرون۔گریڈیہ۔جھارکھنڈ. خادم مدرسہ رشیدیہ ڈنگرا،گیا،بہار
HIDAYATULLAH
KHERON BAGODIH SURIYA GIRIDIH JHARKHAND INDIA PIN NO 825320
TEACHER MADARSA RASHIDIA DANGRA GAYA BIHAR INDIA
نــــوٹ:دیگر مسائل کی جانکاری کے لئے رابطہ بھی کرسکتے ہیں
CONTACT NO
6206649711
????????????????????????????????????????????????