جس کا جو کام ہے اس کو وہی کرنا چاہئیے

انتخاب کردہ 

شفیع اللہ اعظمی قاسمی

کہتے ہیں بادشاہ کا ایک عزیز ترین حجام تھا
یہ روزانہ بادشاہ کے پاس حاضر ہوتا تھا اور دو تین گھنٹے اس کے ساتھ رہتا تھا ‘ اس دوران بادشاہ سلطنت کے امور بھی سرانجام دیتا رہتا اور حجامت اور شیو بھی کرواتا رہتا تھا ۔

ایک دن نائی نے بادشاہ سے عرض کیا
”حضور میں وزیر کے مقابلے میں آپ سے زیادہ قریب ہوں‘ میں آپ کا وفادار بھی ہوں‘ آپ اس کی جگہ مجھے وزیر کیوں نہیں بنا دیتے“
بادشاہ مسکرایا اور اس سے کہا
”میں تمہیں وزیر بنانے کیلئے تیار ہوں لیکن تمہیں اس سے پہلے ٹیسٹ دینا ہوگا“
نائی نے سینے پر ہاتھ باندھ کر کہا
”آپ حکم کیجئے“

بادشاہ بولا
”بندرگاہ پر ایک بحری جہاز آیا ہے مجھے اس کے بارے میں معلومات لا کر دو“
نائی بھاگ کر بندرگاہ پر گیا اور واپس آ کر بولا ”جی جہاز وہاں کھڑا ہے“

بادشاہ نے پوچھا ”یہ جہاز کب آیا“ نائی دوبارہ سمندر کی طرف بھاگا‘ واپس آیا اور بتایا ”دو دن پہلے آیا“

بادشاہ نے کہا ”یہ بتاﺅ یہ جہاز کہاں سے آیا“ نائی تیسری بار سمندر کی طرف بھاگا‘ واپس آیا تو بادشاہ نے پوچھا ”جہاز پر کیا لدا ہے“
نائی چوتھی بار سمندر کی طرف بھاگ کھڑا ہوا۔
قصہ مختصر نائی شام تک سمندر اور محل کے چکر لگا لگا کر تھک گیا

اس کے بعد بادشاہ نے وزیر کو بلوایا اور اس سے پوچھا ”کیا سمندر پر کوئی جہاز کھڑا ہے”
“وزیر نے ہاتھ باندھ کر عرض کیا
”جناب دو دن پہلے ایک تجارتی جہاز اٹلی سے ہماری بندرگارہ پر آیاتھا ‘ اس میں جانور‘ خوراک اور کپڑا لدا ہے‘ اس کے کپتان کا نام یہ ہے‘ یہ چھ ماہ میں یہاں پہنچا‘ یہ چار دن مزید یہاں ٹھہرے گا‘ یہاں سے ایران جائے گا اور وہاں ایک ماہ رکے گا اور اس میں دو سو نو لوگ سوار ہیں اور میرا مشورہ ہے ہمیں بحری جہازوں پر ٹیکس بڑھا دینا چاہئے“

بادشاہ نے یہ سن کر حجام کی طرف دیکھا
حجام نے چپ چاپ استرا اٹھایا اور عرض کیا
”مولا خوش رکھے ! کلماں چھوٹیاں  رکھاں کہ وڈیاں “

حضرت مولانا یوسف صاحب کے زمانے کا قصہ ھے کہ ان کے زمانے میں مہنگائی بہت بڑھ گئی۔ کچھ لوگ مولانا کے پاس آئے اور مہنگائی کی شکایت کی اور کہا کہ : کیا ہم حکومت کے سامنے مظاہرے کرکے اپنی بات پیش کریں؟
حضرت نے ان سے فرمایا : مظاہرے کرنا اھل باطل کا طریقہ ھے۔
پھر سمجھایا کہ دیکھو! انسان اور چیزیں دونوں الله تعالیٰ کے نزدیک ترازو کے دو پلڑوں کی طرح ھیں ، جب انسان کی قیمت الله تعالیٰ کے یہاں ایمان اور اعمال صالحہ کی وجہ سے بڑھ جاتی ھے تو چیزوں کی قیمت والا پلڑا خودبخود ہلکا ھوکر اوپر اٹھ جاتا ھے اور مہنگائی میں کمی آجاتی ھے۔
اور جب انسان کی قیمت الله تعالیٰ کے یہاں اس کے گناہوں اور معصیتوں کی کثرت کی وجہ کم ھوجاتی ھے تو چیزوں والا پلڑا وزنی ھوجاتا ھے اور چیزوں کی قیمتیں بڑھ جاتی ھیں۔

لہٰذا تم پر ایمان اور اعمال صالحہ کی محنت ضروری ھے تاکہ الله پاک کے یہاں تمہاری قیمت بڑھ جائے اور چیزوں کی قیمت گرجائے۔
پھر فرمایا:
لوگ فقر سے ڈراتے ھیں حالانکہ یہ شیطان کا کام ھے۔”الشیطان یعدکم الفقر” اس لئے تم لوگ جانے انجانے میں شیطانی لشکر اور ایجنٹ مت بنو۔

الله کی قسم ! اگر کسی کی روزی سمندر کی گہرائیوں میں کسی بند پتھر میں بھی ھوگی تو وہ پھٹے گا اور اس کا رزق اس کو پہنچ کر رھے گا۔
مہنگائی اس رزق کو روک نہیں سکتی جو تمہارے لئے الله پاک نے لکھ دی ھے۔

الله پاک ھمارے گناہوں کو معاف فرمائے

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے