کون جانتا تھا کہ پھول کی پتیاں بھی ھیرے کا جگر کاٹ سکتی ہیں؟ کسے معلوم تھا کہ نرم و نازک خواتین بھی برفیلے موسم کو عرق آلود کرسکتی ہیں؟ اور کسے اندازہ تھا کہ سن رسیدہ عورتیں بھی پہاڑوں کا چٹان بن سکتی ہیں؟ مگر یہ سب کچھ ہوا اور ہورہا ہے….. اور وہ بھی اس انداز سے…. کہ نہ کسی تنظیم کا چہرہ ہے نہ کسی جماعت کا سائبان. نہ اپنے آپ سے متعلق کوئی خوف ہے. نہ اپنےدودھ پیتے بچوں کی موت کا کوئی ملال.نہ کوئی افسر انھیں گھاس ڈالنے کو تیار اور نہ کوئی میڈیا ان سے پوچھنے کو روادار …..اس کے باوجود شاھین باغ دہلی کی شاھینوں نے اپنے ارادوں کو متزلزل نہ ہونے دیا. جن دنوں کڑاکے کی ٹھنڈ تھی ان دنوں بھی یخ بستہ ہواؤں کا منہ چڑھایا. اور بچیوں . بوڑھیوں اور دوشیزاؤں نے یہ کہتے ہوئے اپنا احتجاج جاری رکھا کہ *سی اے اے. این پی اے اور این آر سی کے خلاف مستقل مظاہرہ سے اگر ہمارے مردان خرد مند کچھ معذور ومجبور ہیں تو کوئی حرج نہیں. ابھی ان مردوں کی مائیں زندہ ہیں. ابھی ان کی بہنوں میں شجاعت ہے اور ابھی ان کی بیٹیوں میں جرآت ہے کہ اپنی اپنی آنچلوں کو ھندوستان کا ترنگا بناسکتی ہیں اور اپنے ملک کے دستوری تحفظ کے لئے میدان احتجاج میں کود سکتی ہیں*
چنانچہ ایسا ہی ہوا اور تادم تحریر بھی وہ احتجاج جاری ہے جسکو تقریباً دوماہ بیت چکے ہیں مگر شاھین باغ کے احتجاج میں اب تک کوئی اضمحلال نہیں. ان کے پائے ثبات میں کوئی جنبش نہیں اور ہرآنے والا دن ان کے ارادوں کو استحکام دے رہا ہے. شرپسندوں نے گولیاں بھی چلائیں . پولیس اھل کاروں نے ڈرانے دھمکانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور وقت کے فرعونوں نے مرعوبیت کے سارے جتن کرڈالے مگر کیا مجال؟ کہ معصوم کلیوں کی دھاڑ میں کوئی کمی واقع ہوجائے اور نازک اندام شیرنیوں پہ کوئی حربہ کارگر ثابت ہو. اسی لئے اب تو پورا ملک شاھین باغ بن چکا ہے اور 117 سے زائد مقامات پر ہر کمیونٹی کی ماؤں بہنوں نے اپنی اپنی کچھاڑیں قائم کرکے نیا شاھین باغ بنالیا ہے
ایسے موقع سے راقم سطور کے ذھن میں ابتداءً کئی سوالات پیدا ہوئے تھے.مثلاً (1)عورتوں کا اس طرح احتجاج پہ بیٹھ جانا شرعاً جائز بھی ہے یا نہیں؟(2)عورتیں جب خلقۃً کمزور ہیں تو پھر ان میں ایسی جرآت کہاں سے آئی؟ (3)اور دستور وآئین کے تحفظ کے لئے خواتین کو سڑکوں پہ نکلنے کی کیا ضرورت ہے؟ الغرض اس طرح کے متعدد سوالات نے کئی دنوں تک مجھے پریشان کئے رکھا تھا لیکن اچانک یہ احساس ہوا کہ خواتین کے احتجاج کو مولوی و مفتی بنانے کا یہ وقت ہرگز نہیں ہے اور فقہی و اسلامی نقطہ نگاہ سے جواز وعدم جواز تلاش کرنا کسی طرح بھی مناسب نہیں ہوگا کیونکہ یہ وقت وقتِ اضطرار ہے اس وقت نہ صرف یہ کہ دین و ایمان کا خطرہ اور ارتداد کی آھٹ ہے بلکہ اپنی عزت وآبرو اور جان ومال کے بھی لالے پڑے ہیں اور وہ بھی کسی ایک صنف کے لئے نہیں بلکہ مرد و عورت دونوں کے لئے ہیں . دونوں ہی طبقہ اذیت ناک موت کی کگار پہ ہے. دونوں ہی کے سامنے ھیبتناک کھائی ہے اور دونوں ہی طبقہ اپنے دلخراش قید و بند کے تصور سے بے موت مرا جارہا ہے لہذا یہ تو ایسا اضطراری وقت ہے کہ ناجائز امور بھی جائز ہوسکتے ہیں . اپنا ایمان بچانے کے لیے. اپنی عصمت کے تحفظ کے لئے. اور اپنی جان ومال کی حفاظت کے لیے کیا شریعت نے تلوار اٹھانے کی اجازت نہیں دی ہے؟ اور کیا اپنے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے اسلام ہرطرح کے اقدام کا قائل نہیں ہے؟………… لہٰذا خواتین کے احتجاج کو محض انسانی عینک سےاگر دیکھئے تو ہر سوال کا جواب مل جائے گااور یہ یقین ہوجائے گا کہ ہر شاھین باغ آج کے وقت کا تقاضا ہے بلکہ قدرت کو یہ دکھلانا ہے کہ اگر فرعون صفت حزبِ اقتدار کو اپنی طاقت کا غرور ہے تو اسے چکنا چور کرنے کے لیے صنف نازک ہی کافی ہے. اگر شرپسندوں کو پارلیمنٹ کی اکثریت پہ ناز ہے تو اسے خاک میں ملانے کے لئے ملک بھر کے شاھین باغ حاضر ہیں. آرایس ایس کو اگر اپنی تنظیمی صلاحیتوں کا گھمنڈ ہے تو انھیں آئینہ دکھانے کے لیے غیر منظم اور بے ھنگم شاھین باغ بھی کچھ کم نہیں. اور حکمرانوں کے پاس اگر میڈیا کی گونجتی آوازیں ہیں تو نازک اندام شیرنیوں کی دھاڑیں بھی ان کے پِتَّوں کو پانی بنانے کے لیے موجود ہیں
دراصل ہم مردوں نے خواتین کو آج تک سمجھا ہی نہیں کہ ان کے اندرون میں کتنی بڑی طاقت پنہاں ہے؟ اور وہ اپنی تمام تر نزاکتوں کے باوجود کس طرح فولاد و آھن بننے کا ھنر رکھتی ہیں؟ کیونکہ قرآن پاک کی ایک آیت کے تناظر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر دو عورت بھی یکجا ہوجائے اور کسی ایک پہلو پہ متفق ہوکر مظاہرہ کرنے لگے تو گوکہ پوری دنیا کے مرد حضرات اکٹھا ہوجائیں اور محض چند عورتوں کے مقابلے میں اپنی ساری طاقتیں جھونک دیں تو بھی ان کے مظاہرے کو دَبا نہیں سکتے اور ان کے مخالفانہ جذبے کو سرد نہیں کرسکتے ….. چنانچہ پ 28 سورہ تحریم کی آیت نمبر 4 کے محض الفاظ پہ غور کیجئے
*﴿………… وَإِن تَظَـٰهَرَا عَلَیۡهِ فَإِنَّ ٱللَّهَ هُوَ مَوۡلَىٰهُ وَجِبۡرِیلُ وَصَـٰلِحُ ٱلۡمُؤۡمِنِینَۖ وَٱلۡمَلَـٰۤىِٕكَةُ بَعۡدَ ذَ ٰلِكَ ظَهِیرٌ﴾ [التحريم ٤]*
کہ (ایک مخصوص واقعہ کو سامنے رکھتے ہوئے) حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنھما کے تعلق سے یہ کہا جارہا ہے کہ اگر ان دونوں ازواج مطہرات نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مظاہرہ کیا تو رسول اللہ کی مدد کے لیے اللہ بھی ہے جبرئیل بھی. تمام مسلمان بھی ہیں اور بقیہ فرشتے بھی……………اب ذرا غور فرمائیے کہ ایک طرف صرف دو عورتیں ہیں مگر ان دونوں کے مقابلے میں جن طاقتوں کو پیش کیا گیا ہے ان میں صالح المؤمنين یعنی تمام صحابہ کرام بھی ہیں اور فرشتوں کا خفیہ محکمہ بھی………… اسی سے پتہ چلتا ہے کہ خواتین کی اندرونی طاقت کیا ہے؟ اسی لیے کسی کہنے والے نے کہا ہے کہ
*اے دستِ ستم چھونا نہ ہمیں. ہم زہر میں ڈوبے کانٹے ہیں*
*دستورِ وطن کے یاروں میں ہم ریشم ہیں. کمخواب ہیں ہم*
*دوچار تھپیڑے کافی ہیں. آئین کے سب غداروں کو*
*ہم تشنہ جنوں کے صحرا میں طوفان بھی ہیں سیلاب ہیں ہم*
چنانچہ اسی طوفان بلا خیز کا یہ اثر ہے کہ فی الحال این آر سی کے عدم نفاذ کا وعدہ کیا جارہا ہے اور یقین دلایا جارہا ہے کہ این آر سی نافذ نہیں ہوگا…..لیکن سوال یہ ہے کہ کب تک نافذ نہیں ہوگا؟ اور این پی آر کا نفاذ آخر کیوں ہورہا ہے؟ جبکہ یہ بھی این آر سی ہی کی تمہید ہے…………. لہٰذا اے میری شاھینو! اپنی اس آدھی کامیابی پہ خوش ہوکر ارادوں کو پست مت کرنا بلکہ اپنے جذبہ انقلاب کو اور بھی مہمیز دیتی رہنا،