روزہ کے طبی اور جسمانی فائدے

محمد قمر الزماں ندوی

مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

روزہ کی فرضیت پر اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ روزہ کی اصل یہ ہے کہ انسان تقوی حاصل کر لے قرآن مجید نے روزہ کا بنیادی مقصد یہی قرار دیا ہے ۔۔تقوی دل کی اس کیفیت کا نام ہے جسکے حاصل ہونے کے بعد بندے کو گناہوں سے نفرت اور نیکی کی رغبت پیدا ہوتی ہے۔۔انسانی فطرت مرکب ہے جس میں نیکی و بدی کی سرشت موجود ہے ۔۔روزہ ایک ایسی عبادت ہے جو انسان کے حیوانی صفات کو لگام ڈالتا ہے۔۔اور اسے بہیمیت و شیطنت کے دلدل سے نکال کر معراج انسانی عطا کرتا ہے۔۔۔روزہ سے انسان کے اندر وہ طاقت پیدا ہوتی ہے جو اسے خدا کی دیگر مخلوقات سے ممتاز کرتی ہے۔۔اور اسے جداگانہ شخصیت عطا کرتی ہے۔۔بظاہر تو وہ جسمانی اعتبار سے خود کو لاغر و کمزور محسوس کرتا ہے لیکن اسکی روحانی اسپرٹ قوی سے قوی اور خوب سے خوب تر ہوتی جاتی ہے۔۔روزہ خواہشات نفسانی پر بند باندھنے اور اسے قابو میں کرنے کا مؤثر ترین علاج ہے۔۔انسان جب روزہ کی مدد سے اپنے جذبات پر قابو پاتا ہے اور نیکیوں کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو اسکی سیرت کا وہ پہلو اجاگر ہوتا ہے جو معاشرے میں ایک خاموش انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔۔۔

مذہب اسلام میں مختلف قسم کی عبادات کا مقصد صرف تزکیہ نفس ہے۔۔ نماز سے بھی یہی غرض ہے اور زکواۃ اور روزے کا بھی یہی مقصود ہے۔۔۔سرور کائنات ، فخر موجودات محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ روزہ ڈھال ہے ۔۔پس روزہ کی حالت میں نہ کوئی شہوانی بات کرو ، نہ جہالت اور نادانی کرو اور اگر کوئی لڑائی یا گالم گلوچ کرے تو کہ دو کہ میرا روزہ ہے۔۔

روزہ کے جہاں بے شمار اخلاقی اور روحانی فوائد ہیں وہیں روزے کے جسمانی فایدے بھی ہیں جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔

بعض اہل تعلق کا اصرار اور تقاضا ہے کہ روزہ کے جسمانی اور طبی فائدے پر بھی کسی دن پیغام لکھوں، سو عرض ہے کہ اس موضوع پر متعدد کتابیں ہیں، جس میں میڈیکل سائنس کے اعتبار سے روزہ کے فوائد کو اجاگر کیا گیا ہے، خاص طور پر انگریزی زبان میں بعض غیر مسلم مصنف کی کتابیں اس موضوع پر بہت مفید ہیں ان کی طرف رجوع کیا جائے۔

آج کے پیغام میں روزہ کے طبی اور جسمانی فائدے پر مختصر گفتگو ہوگی۔

بندہ عبد ہے اور خدا معبود ہے، خدا حاکم ہے اور بندہ محکوم اور غلام و تابعدار ہے، خدا کے حضور اور جناب میں بندہ کی حالت یہ ہوتی ہے کہ

سر تسلیم خم جو مزاج یار میں آئے

بندہ کو کوئی حق نہیں ہے کہ وہ خدا کے فیصلے پر چوں چرا کرے اور اس کی جانب سے فرض امور اور عمل کے فوائد اور حکمتیں جاننے کی کوشش کرے۔ بندہ مکلف ہے کہ وہ بس اپنی بندگی اور عاجزی کا اظہار کرتا رہے عبادت کی شکل میں، جس مقصد کے لیے اس یعنی انسان کو پیدا کیا گیا ہے۔

لیکن اللہ تعالی نے بعض جگہ ان عبادتوں کی دیگر حکمتوں اور مقاصد کو بیان بھی کیا ہے۔ اس لیے مقاصد شریعت خود ایک موضوع ہے، جس پر علماء کرام نے تفصیلی بحثیں کی ہیں کہ شریعت میں مقاصد کا کیا اور کتنا اعتبار ہے۔ روزہ کے سلسلہ میں بھی مقاصد شریعت کی ضمن میں روزہ کے روحانی فائدے کے ساتھ طبی فائدے کا تذکرہ آیا ہے۔

ہمارے فاضل دوست محمد صابر حسین ندوی نے اس پہلو سے بہت اچھا لکھا ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*ایک غلام کو اس بات کی اجازت نہیں کہ وہ اپنے آقا کی بات پر حکمتیں تلاش کرتا پھرے، نقصان و فوائد شمار کرتا رہے؛ بلکہ وہ تو اس بات کا پابند ہے کہ حکم کو من و عن بجا لائے، اللہ تعالیٰ بھی انسانوں کا خالق و مالک ہے، اور انسان اس کا بندہ و غلام ہے؛ لیکن اس بندے کے حسن میں سے یہ بھی ہے وہ اپنے آقا کی باتوں پر غور و خوض کرے اور اعمال و احکام کی اطاعت میں بصیرت سے کام لے، اسی لئے تو علم اس کیلئے لازمی اور خزانہ علم قرآن اس کا دستور ہے، البتہ اگر کبھی عقل انسانی کسی حکم کے اسرار تک پہونچنے سے قاصر ہو تو اس کے متعلق شش و پنج میں پڑنے کی اجازت نہیں، ایسے امور کو امر تعبدی کہاجاتا ہے؛ لیکن یہ شمار میں بہت کم ہیں، یہی وجہ ہے کہ علماء نے احکام کی روحانیت و مادیت دونوں اعتبار سے تحقیق کی ہے، بالخصوص روزہ اگرچہ ایک خالص روحانی عبادت ہے، جس میں جسم کو مادیت سے دور رکھ کر روحانیت کی معراج تک پہنچانے کا ذریعہ، قرآن مجید نے جسے تقوی قرار دیا ہے، جس کا تعلق دل سے ہے، جس کی اصلاح و درستگی پر سب کچھ منحصر ہے؛ مگر دنیاوی اغراض و فوائد بھی اس سے دور نہیں، انسانوں کیلئے جسمانی و طبی فائدہ بھی اس میں پوشیدہ ہیں، میڈیکل سائنس کی ترقی کے بعد اس پر تحقیق نے یہ ثابت کیا ہے کہ انسان کا دن بھر بھوکا رہنا، اور ایک خاص مہینہ میں بھوک، پیاس کی شدت برداشت کرنا انسانی جسم کو ایک نئی زندگی دیتا ہے، اس کے خون کو نیا کرتا ہے، مہلک جراثیم کو مارتا ہے، کولیسٹرول کو کم کرتا ہے، قوت تنفس میں معاونت کرتا ہے وغیرہ، مغربی میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیز نے بھی اسلام مخالف ذہنیت کے باوجود روزہ کے طبی فوائد کو سرآنکھوں پر رکھا ہے، ویسے بھی آپ نے کبھی نہیں سنا ہوگا کہ روزہ کی وجہ سے کسی کی موت ہوئی ہے، اگرچہ کہ وہ موت بھی خوش نصیبی اور شہادت ہے؛ لیکن روزہ جیسا متبرک حکم اس کی وجہ نہیں بنتا، بہرحال تحقیق کا میدان بہت وسیع ہے، خاص طور پر طبی میدانوں میں نت نئی تحقیقات کی جگہ بہت زیادہ ہے.* (صدائے دل ندائے وقت 916 )

روزہ کے فوائد کوشمار کرتے ہوئے علماء اور اہل علم نے اجمالی طورپر اس کے اسرار و رموز کے ساتھ طبی فوائدکا بھی ذکر کیا ہے، مگر اہل مغرب (یورپی علماء کی) کی طبی کی تحقیقات کے ذریعہ روزہ کے جو طبی فائدے اور حقائق سامنے آئے ہیں وہ حیرت انگیز ہیں، یہاں مغربی مفکرین اور میڈیکل سائنس کے ماہرین کے کچھ تاثرات نقل کئے جاتے ہیں____ پروفیسر مورپالڈ آکسفورڈ یونیورسٹی کی پہچان ہیں، انہوں نے اپنا واقعہ بیان کیا کہ میں نے اسلامی علوم کا مطالعہ کیا اور جب روزہ کے باب پر پہنچا، تو میں چونک پڑا کہ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو اتنا عظیم فارمولہ دیا ہے، اگر اسلام اپنے ماننے والوں کو اور کچھ نہ دیتا تو پھر بھی اس سے بڑھ کر ان کے پاس اور کوئی نعمت نہ ہوتی، میں نے سوچا کہ اس کو آزمانا چاہئے، پھر میں نے روزے مسلمانوں کے طرز پر رکھنا شروع کردیئے، میں عرصہ دراز سے معدہ کے ورم میں مبتلا تھا، کچھ دنوں کے بعد ہی میں نے محسوس کیا؛ کہ اس میں کمی واقع ہوگئی ہے، میں نے روزہ کی مشق جاری رکھی پھر میں نے جسم میں کچھ اور تبدیلی بھی محسوس کی اور کچھ ہی عرصہ بعد میں جسم کو نارمل پایا؛ حتیٰ کہ میں نے ایک ماہ کے بعد اپنے اندر انقلابی تبدیلی محسوس کی. پوپ ایلف گالی ہالینڈ کا پادری گزرا ہے اس نے روزے کے بارے میں اپنے تجربات بیان کئے ہیں، جو بہت ہی چشم کشا ہیں، خاص طور پر شوگر کے مریضوں کیلئے روزہ کو مخزن خیر پایا ہے، گویا وہ ان اشکالات کو دور کرتا ہے، جنہیں بہت سے معذرت کی راہ سمجھتے ہیں، اسے قطعاً کہہ کر کوئی فتوی تو نہیں لگایا جاسکتا؛ تاہم قابل غور ضرور ہے، وہ کہتا ہے: "میں اپنے روحانی پیروکاروں کو ہر ماہ تین روزے رکھنے کی تلقین کرتاہوں، میں نے اس طریقہ کار کے ذریعہ جسمانی اور وزنی ہم آہنگی محسوس کی میں نے شوگر والے امراض اور معدہ کے امراض میں مبتلا افراد کو مستقل ایک ماہ روزے رکھوائے، شوگر کے مریضوں کی حالت بہتر ہوئی اور ان کی شوگر کنٹرول ہوگئی، دل کے مریضوں کی بے چینی اور سانس کا پھولنا کم ہوگیا۔ معدہ کے مریضوں کو سب سے زیادہ افاقہ ہوا”.

*مشہور ماہر نفسیات سگمنڈ نبرائنڈ کا کہنا ہے کہ روزہ سے دماغی اور نفسیاتی امراض کا کلی خاتمہ ہوتا ہے، جسم انسانی میں مختلف ادوار آتے ہیں؛ لیکن روزہ دار آدمی کا جسم مسلسل بیرونی دباؤ کو قبول کرنے کی صلاحیت پیدا کرلیتا ہے۔ روزہ دار کو جسمانی کھنچاؤ اور ڈپریشن کا سامنا نہیں ہوتا۔(سنت نبوی اور جدید سائنس ۱۶۵۔۱۶۷) نظام ہضم پر روزوں کے اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے حکیم طارق محمود چغتائی لکھتے ہیں : "روزہ ایک طرح سارے نظام ہضم پر ایک ماہ کا آرام طاری کردیتا ہے، مگر درحقیقت اس کا حیران کن اثر بطور خاص جگر پر ہوتا ہے؛ کیونکہ جگرکے کھانا ہضم کرنے کے علاوہ مزید پندرہ عمل ہوتے ہیں، روزہ کے ذریعہ جگر کو چھ گھنٹوں تک آرام مل جاتا ہے، یہ روزہ کے بغیر ناممکن ہے، جگر پر روزہ کی برکات میں سے ایک وہ ہے جو خون کے کیمیائی عمل پر اثر اندازی سے متعلق ہے، روزے کے ذریعہ گلے کو اور خوراک کی نالی کو جو بے حد حساس حصے ہیں جو آرام نصیب ہوتا ہے اس تحفہ کی کوئی قیمت ادا نہیں کی جاسکتی۔ روزہ آنتوں کو بھی آرام اور توازن فراہم کرتا ہے۔ یہ صحت مند رطوبت کے بننے اور معدہ کے پٹھوں کی حرکت سے بنتا ہے۔ دن میں روزہ کے دوران خون کی مقدار میں کمی ہو جاتی ہے۔ یہ اثر دل کو انتہائی فائدہ مند آرام مہیا کرتا ہے۔ رمضان کے ایک ماہ کے روزے بطور خاص ڈالیسٹالک پریشر کو کم کرکے انسان کو بے پناہ فائدہ پہنچاتے ہیں۔ روزہ کا سب سے بڑا اثر خلیوں کے درمیان اور خلیوں کے اندرونی مادوں کے درمیان توازن کو قائم پذیر رکھنا ہے۔ چوں کہ روزہ کے دوران مختلف سیال مقدار میں کم ہو جاتے ہیں، خلیوں کے عمل میں بڑی حد تک سکون پیدا ہوجاتا ہے، روزہ کے دوران ہماری خواہشات چوں کہ علحدہ ہو جاتی ہیں اس وجہ سے ہمارے اعصابی نظام پر منفی اثرات مرتب نہیں ہوتے۔ روزہ اور وضو کے مشترکہ اثر سے جو مضبوط ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے اس سے دماغ میں دوران خون کا بے مثال توازن قائم ہو جاتا ہے جو صحت اور اعصابی نظام کی نشاندہی کرتا ہے ۔(سنت نبوی اور جدید سائنس: ۱۷۱ ۔ ۱۷۵ / صدائے دل ندائے وقت 916 محمد صابر حسین ندوی)*

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے