عالم کا سب سے بڑا دشمن

???? *صدائے دل ندائے وقت*????(893)

*عالم کا سب سے بڑا دشمن __!!*

*اتر پردیش _ کیرانہ کے ایک مدرسے کے مہتمم کو وہاں کے دو اساتذہ نے قتل کردیا، یہ قتل اس قدر بہیمانہ انداز سے کہا گیا ہے کہ انسانیت بھی شرمسار ہوجائے، اس واقعہ سے ایک طرف روح میں کپکپاہٹ طاری ہوتی ہے تو دوسری جانب سفید پوشی میں پوشیدہ کالاداغ بھی ظاہر ہوجاتا ہے، یوں تو ارشاد نبوی صل اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ ایک عالم کا سب سے بڑا دشمن شیطان ہوتا ہے؛ خاص طور پر ایک فقیہ یعنی علم دین پر گہری وافقیت رکھنے والے کے پیچھے شیطان کی ایک جمعیت لگی ہوتی ہے، اسے گمراہ کرنے اور دیندار کو دین کی راہ سے بھٹکانے کی انتھک کوشش ہوتی ہے، اور اسی شیطان کو مات دیتے ہوئے ایک عالم حقیقت عالم ربانی بن جاتا ہے، وہ دنیا کیلئے ایک مشعل اور ظلمت کیلئے ایک دیپ ہوجاتا ہے، دنیا کی صلاح کے چشمے اس سے پھوٹتے ہیں، اس کی فکر و فن اور عمل سے انسانیت سیراب ہوتی ہے، لیکن یہ اتنا بھی آسان نہیں ہے، بہرحال شیطان اور انسان کی دشمنی تو جگ ظاہر ہے، ایک اور دشمن جسے نفس امارہ کہا جاتا ہے، اسے اتباع ہوائے نفس بھی کہہ لیجئے! یہ بھی ایک عالم کیلئے سم قاتل ہے، مگر ان سب کے درمیان ایک اور ایسا دشمن ہے جسے بھلایا نہیں جاسکتا، یہ حیران کن ہے مگر حقیقت ہے، یہ بات کڑوی ہے؛ لیکن سچ پر مبنی ہے، یعنی ایک عالم کا سب سے بڑا دشمن خود اسی کی برادری کا کوئی دوسرا عالم ہوتا ہے، کہتے ہیں کہ ایک چور بھی دس گھر چھوڑ کر چوری کرتا ہے، مگر یہ ایسی نسل ہے کہ اپنی ہی برادری کی عزت اتارنے اور اس کی ٹانگ کھیچ کر زمین دوز کرنے پر مصروف رہتی ہے، ویسے تو اخلاق و کردار کی باتیں ایسی ہوں گی کہ زمین و آسمان رشک کریں، دنیا کی ساری طنابیں جمع کردیں، مگر حقیقی زندگی میں وہ ایک زہر کی بوتل سے کم نہیں ہوتے.*

*دنیا میں ایک عالم کی عزت وتکریم کیا ہے __؟ اسے کس نظر سے دیکھا جاتا ہے __؟ یہ سب قابل غور ہیں، شکوہ وشکایت کی گنجائش ہے، تاہم اتنا کہا جاسکتا ہے کہ بہت حد تک انسانی نفس کی وہ بے توقیری نہیں ہوتی جو مولوی برادری خود ایک دوسرے کی کرتی ہے، کتابوں میں بہت سے علماء کے درمیان معاصرانہ چشمک کے بارے پڑھتے ہیں، ابن حجر اور علامہ عینی کی داستان موجود ہے، لیکن ان سے پہلے بھی اور ان کے بعد ایک طویل ترین فہرست ہے، جو عالمانہ شان پر کالا دھبہ ہے، بالخصوص عصر حاضر کی کیفیت ناقابل بیان ہے، اکثر و بیشتر علاقوں میں مولویانہ فساد کے چرچے ہیں، وے آپس میں اس حد تک غلو کر چکے ہیں کہ تلوار بازی اور بندوق بازی سے گریز نہیں ہے، کئی دفعہ یہ قصہ بھی سننے میں آیا کہ انہوں نے صرف عید کی نماز پڑھانے کیلئے ایک دوسرے پر بندوق تان دی، فائرنگ بھی ہوئی، زخمی بھی ہوئے، یہ تو عہدہ کی بات ہے، اگر یہی بات ہے تو اس سلسلہ جرم کی داستان لکھتے لکھتے سمندروں کی سیاہی خشک ہوجائے گی، زمین کی بساط کو اگر کاغذ بنا دیا جائے تو وہ بھی پر ہوجائے، مگر ان کے مابین تعلقات کی بدحالی کا قصہ ناشنید ختم نہ ہوگا، عجیب وغریب بات ہے کہ اگر کسی عالم نے کوئی عہدہ پالیا، تو وہ وقت کا فرعون ہی بن جاتا ہے، اپنے سامنے سبھی کو کیڑے مکوڑے کی طرح سمجھنے لگتا ہے، اور اگر کوئی انہیں کی قسم کا مولوی ان سے مدد مانگ بیٹھے تو پھر انا ربکم الاعلی سے کم کا اظہار نہیں کرتا، اسے دھتکارتا ہے، رعب دکھاتا ہے، اور اکثر اس کے کام میں رکاوٹ بن جاتا ہے.*

*اگر عہدے کی بات نہ بھی ہو تب بھی باہمی تعاون کا فقدان حد درجہ پایا جاتا ہے، کبھی صلاحیت کا گمان، خاندانی برتری، علاقائی فوقیت، تنخواہ میں کچھ زیادتی، وغیرہ وغیرہ سینکڑوں وجوہات ہیں جن کی بناپر ایک عالم دوسرے عالم کا دشمن یوں بنا ہوتا ہے، گویا اسی کے دم پر رزق ہے، خدا جانے اگر ایسا ہوجاتا کہ انہیں رزق پر پابند کردیا جاتا تو شاید وہ لوگوں کو بھوکو مار دیتے، باتوں میں ترشی، تغافل، لاپرواہی اور نہ جانے کیا اور کیا__ یہ سارے تیور ان لوگوں کے ہیں، جو خود کو دین کے ٹھیکدار سمجھتے ہیں، جنہیں لگتا ہے کہ وہ انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء کے مصداق ہیں، وہ اصحاب صفہ ہیں، وہ مہمان رسول ہیں، وہ وارث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، جنہیں کہتے ہوئے نہ ان کی روح کانپتی ہے نہ پیشانی پر کوئی بل آتا ہے، وہ صحابہ جو دشمن کیلئے تلوار اور اپنوں کیلئے ریشم ہواکرتے تھے، جو باطل کیلئے ہتھیار اور دوستوں کیلئے گداز ہوتے تھے، جو ناحق کیلئے خنجر اور حق کیلئے ڈھال ہوا کرتے تھے، جو اپنے ایک ساتھی کی پیاس بجھانے کیلئے پانی آگے بڑھادیتے اور خود کو موت کے حوالے کر دیتے تھے، جنہیں اپنے ساتھی کی ایک کراہ سے نیند نہیں آتی تھی.*

*ان کے متبعین کا حال یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کو ہی ڈنسے جارہے ہیں، وہ بھیڑیا بن کر ایک دوسرے کو چیر پھاڑ دینا چاہتے ہیں، انہیں اپنوں کی راحت گنوارا نہیں ہے، ترقی سے حسد ہے، عزت سے جلن ہے، ان کے کام بن جانے پر مایوس ہیں، آخر یہ کس دین کے پاسدار کہلاتے ہیں، نہیں معلوم__ یہ کس نبی کے متبع ہیں، یہ کس اصحاب صفہ کے مقلد ہیں نہیں معلوم__ ان کی ہر ایک حرکت یہ چیخ چیخ کر کہتی ہے؛ کہ یہ ہوائے نفس کے پجاری ہیں، ان کیلئے زر ہی قاضی الحاجات ہیں، ان کا مذہب اپنوں کو ستانا ہے، انہیں برباد کرنا ہے، انہیں ذلیل کرنا ہے، خدا جانے ان کا کیا انجام ہوگا __؟ لیکن اتنا تو طے ہے کہ دوسروں کا برا چاہنے والے خود ہی برباد ہوجاتے ہیں، عربی کی یہ کہاوت ہر کسی کو معلوم ہے "من حفر حفرة لأخيه وقع فيها” جو کسی اور کیلئے گڑھا کھودتا ہے وہ خود گر جاتا ہے، یقیناً پوری برادری کو کوسنا مقصود نہیں، اور ناہی ان کی خدمات و صلاحیت اور صالحیت پر انگشت نمائی کرنا ہے؛ مگر عمومی منظر نامہ یہی ہے، ضرورت ہے کہ سنبھل جائیں، اگر واقعی ہمارے دل میں وہی چور اور ڈاکو ہے جس نے جو سفید پوشی اختیار کر لی ہے، تو رکیں اور نفس امارہ پر قابو پائیں، ورنہ اتر پردیش کا ایک واقعہ نہ جانے کتنے واقعات کو جنم دے گا، اور اگر یہاں بچ گئے تو بخدا قبر کے دہانے کھلے ہوئے ہیں، اس کا عذاب آپ کے انتظار میں ہے.*

✍ *محمد صابر حسین ندوی*

Mshusainnadwi@gmail.com

7987972043

24/04/2020

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے