مشترکہ خاندانی نظام غور و فکر کے چند پہلو 10

” *مشترکہ خاندانی نظام”۔۔ غور و فکر کے چند پہلو* "

(١٠)

محمد قمر الزماں ندوی

مدرسہ نور الاسلام، کنڈہ پرتاپگڑھ

*مشترکہ خاندانی نظام کا ڈھانچہ*

بر صغیر ہند و پاک وغیرہ میں مشترکہ خاندانی نظام کا جو ڈھانچہ ہے، اس کے جو خد و خال ہیں، اس کا سمجھنا بھی ضروری ہے، تاکہ اس نظام کی حقیقت تک رسائی میں آسانی ہو اور اس کے حسن و قبح کو سمجھنا ممکن ہو سکے، اس نظام میں (مشترکہ نظام میں) ایک شخص کی حکمرانی ہوتی ہے، وہی ہر چیز کا ذمہ دار ہوتا ہے، ایک ماں، باپ کی اولاد پھر اولاد کی اولاد جن کی مجموعی تعداد بسا اوقات پچیس پچاس سے بھی بڑھ جاتی ہے، سب ایک بڑے مکان میں رہتے ہیں، اور ایک نظام کے ماتحت ہوتے ہیں، گھر کے کمانے والے تمام افراد اپنی کمائی اور آمدنی لاکر گھر کے گارجین اور مالک و مکھیہ کو دیتے ہیں، سب کا کھانا ایک جگہ بنتا ہے، کپڑا اور دیگر اسباب و ضروریات ایک ساتھ خریدا جاتا ہے، دیگر اشیاء کی خریداری بھی مشترک طور پر کی جاتی ہے، ذاتی طور پر اپنے ذوق و شوق کے مطابق کھانے بہننے کی اجازت کسی کو نہیں ہوتی، اس نظام میں اپنی مرضی اور چاہت کے مطابق نہ کوئی کھا سکتا ہے نہ پہن سکتا ہے، الا یہ کہ وہ چھپ چھپا کر کہیں اور اپنی خواہش کے مطابق کھانے کا انتظام کر تا ہے، اس نظام اور اصول کی خلاف ورزی کی صورت میں اس کو وقتی طور پر گھر اور مکان و جائداد سے محروم ہونا پڑتا ہے، جب تک کہ وراثت کی تقسیم کا وقت نہ آجائے، اس کو الگ کرایہ کے مکان میں رہنا پڑتا ہے ،گھر میں کافی مقدار میں غلہ رہتے ہوئے اس کو خرید کر کھانا پڑتا ہے، اور اس کو ایک مجرم کی طرح زندگی گزارنی پڑتی ہے۔

*جدا گانہ خاندانی نظام کا سسٹم اور طریقہ*

اس کے برعکس دوسرا خاندانی نظام ہے جو کو سپریٹ یا علحدہ خاندانی نظام کہا جاتا ہے، اس میں صرف میاں بیوی اور ان کی غیر شادی شدہ یا نابالغ اولاد ایک ساتھ ایک مستقل گھر میں یا ایک بڑے گھر کے ایک علحیدہ یونٹ میں رہتے ہیں، بچوں کے بڑے ہونے اور شادی بیاہ کے مراحل گزرنے کے بعد انہیں ایک مستقل گھر میں منتقل کر دیا جاتا ہے، اور آمد و خرچ اور دیگر امور کے وہ خود ذمہ دار ہوتے ہیں،۔۔۔

یہ دونوں نظام دنیا میں رائج ہیں، زندگی گزارنے کے یہ دونوں طریقے اپنے اندر کچھ نہ کچھ اچھائیاں رکھتے ہیں، اور ان دونوں طریقے میں کچھ خامیاں، خرابیاں اور دقتیں اور زحمتیں ہیں، مشترکہ نظام میں دینی، تربیتی، معاشرتی، سماجی اور ہر طرح کی معاشی دقتیں، زحمتیں اور پریشانیاں ہیں، جبکہ جداگانہ خاندانی نظام میں زیادہ تر زحمتیں معاشی قسم کی ہوتی ہیں، جیسے چھوٹے چھوٹے بھائی بہنوں کی تعلیم، شادی بیاہ کا مسئلہ، بڑھاپے میں خاص طور پر والدین کی کفالت کا مسئلہ، کیونکہ گھر میں عورتیں الگ الگ مزاج اور خاندان کی ہوتی ہیں، بیویاں اہل خاندان کی مدد میں حارج بنتی ہیں،

*مشترکہ خاندان کا فائدہ*

اس حقیقت سے انکار نہیں، اور اس میں کسی کو شک نہیں کہ اجتماعیت میں برکت ہے، اس پر اللہ کی طرف سے نصرت بھی زیادہ آتی ہے، اجتماعیت ایک قابل رشک چیز ہے اور اسلام نے اس پر بہت زور دیا ہے، مشترکہ خاندانی نظام اجتماعیت کا مظہر سمجھا جاتا ہے، اور یہ اس نظام کا یقینا مفید پہلو ہے، مشترکہ خاندان کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اگر پورا خاندان یکجا ہو تو افرادی قوت کی کمی کا احساس نہیں ہوتا، یکسوئی اتحاد اور یگانگت کے نتیجہ میں قوت و طاقت اور شان و عظمت میں اضافہ ہوتا ہے، آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کے امکانات نسبتاً زیادہ ہوتے ہیں، خاندان کی ایک اکائی دوسروں کے لیے تقویت و توانائی کا سبب بنتی ہے، بچوں کی نشو و نما اور تربیت کے لیے بہت سے شفیق دست و بازو مہییا ہوتے ہیں۔۔ تنہائی و کسمپرسی کا احساس نہیں ہوتا۔۔ خاندان اور اس کی نئی پود کو متوازن اٹھان حاصل ہوتی ہے، بحیثیت مجموعی خوشحالی، عزت، قوت، وجاہت اور رسوخ مشترک خاندان کے ذریعہ آسانی سے حاصل ہوسکتا ہے۔

مشترکہ خاندان میں بیٹوں، بھائیوں کی یکجا محنت اور مشترکہ جد و جہد خاندان کو معاشی استحکام عطا کرتی ہے، خاندانی روایات کو برقرار رکھنے میں یہ نظام معاون بنتا ہے، بچے، بڑے سب مل کر رہتے ہیں، سب دکھ سکھ میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں، مل کر رہنے میں برکت ہوتی ہے۔۔ (مشترکہ خاندانی نظام اور اسلام / نوٹ اس مضمون کی تیاری میں اسعد اعظمی صاحب کے مضمون سے بھی استفادہ کیا گیا ہے، جو کسی نے مجھے بھیجا ہے اور یہ البلاغ ممبئی میں بھی شائع ہوا ہے جو سلطان احمد اصلاحی کی کتاب کے بعض حصے کی تلخیص ہے)

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے