موجودہ حالات سے مایوس نہ ہوں

*قند مکرر*

*موجودہ حالات سے مایوس نہ ہوں*

*محمد قمرالزماں ندوی*
*مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ*

*دار الحکومت* *دھلی میں فرقہ پرست طاقتوں نے جو قہر برپا کیا ہے اور خون کی جو ہولی کھیلی جا رہی ہے، وہ ہندوستانی جمہوریت کے لئے ایک بدنما داغ اور سیاہ دھبہ ہے ۔ ہندوستان کے امن پسند اور جمہوریت نواز لوگوں کے لئے دہلی کا یہ فساد ایک چیلنج ہے کہ آگے ہندوستان کی تاریخ اور نقشہ کیا ہوگا ؟ امن و شانتی اور گنگا جمنی تہذیب والا یہ ملک کس طرح فسطائیت اور بربریت کی طرف جارہا ہے ۔ اب تو حد ہوگئ کہ عدل و انصاف ، امن و سلامتی،مانوتا اور محبت و شانتی کی بات کرنے والے کو ہی مجرم اور مشکوک قرار دیا جا رہا ہے ۔ عدالت عالیہ کے منصفوں کو بھی صحیح فیصلہ کرنے سے روکا جارہا ہے اور سچ اور حق کہنے والے ججوں کا تبادلہ کر دیا جارہا ہے ۔ موجودہ حکومت اور پولیس کا رول انتہائی مشکوک اور غیر ذمہ دارانہ ہے ،اب ایسے وقت میں کن سے انصاف کی امید کی جا سکتی ہے ۔ ملک کی موجودہ صورتحال بالکل شاعر کے اس شعر کے مصداق ہے کہ* ۔۔۔۔۔۔
*تیغ منصف ہو جہاں دار و رسن ہو شاہد*
*بے گناہ کون ہے اس شہر میں قاتل کے سوا*

*لیکن* *حالات سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے ،ایک اور عدالت ہے جو آخری عدالت ہے،اور سب سے بڑی عدالت ہے جہاں کا فیصلہ آخری فیصلہ ہوتا ہے، وہاں ان ظالموں کو ان کے ظلم کا بدلہ ضرور ملے گا، اور بعید نہیں کہ اس دنیا میں ہی ان کو ان کئے کی سزا مل جائے ۔ ذھن منتشر ہے لکھنے کی ہمت اور سکت بالکل نہیں ہے، اس لئے ایک پرانی تحریر جو حالات حاضرہ کی مناسبت سے ہے قند مکرر کے طور پر قارئین باتمکین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں ۔ م ق ن*

*ہندوستان* کے موجودہ حالات، ملک کے سارے باشندوں کے لئے،خاص طور پر مسلمانوں کے لئے یقینا انتہائی نازک، مشکل، دشوار اور ناگفتہ بہ ہیں ۔ ان حالات نے ہم میں سے ہر شخص کو جن کے اندر ذرا بھی انسانیت، ملی درد اور تڑپ ہے حالات کے تجزیے پر مجبور کر دیا ہے ۔ ہمارے مذہبی اور ملی قائدین بھی ان حالات کے تدارک کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں اور دکھتی رگ پر انگلی رکھنے کے ساتھ مرض کی تشخیص، اور اس کے طریقئہ علاج کو بتا رہے ہیں ۔ جن سخت حالات سے ہم مسلمان دو چار ہیں اور نفرت و تعصب منافرت و عصبیت ظلم و سفاکی اور حیوانیت و درندگی کی جو آندھی چل رہی ہے ، ملک میں جو آگ لگی ہوئی ہے ،تعلیمی اداروں میں جو افراتفری کا ماحول ہے ،اور وہاں کے طلبہ پر ظلم و زیادتی اور جور و جفا کا سماں اور ڈر اور خوف کا جو ماحول ہے، اس نے پورے ملک کے شہریوں اور دیش کے باشندوں کو ،خاص طور پر پڑھے لکھے اور دانشور طبقہ کو تشویش میں ڈال دیا ہے، وہ ہندوستان کے مستقبل کے بارے خوف و تشویش میں مبتلا ہیں ۔
حالات بے قابو ہیں ۔ ایمرجنسی جیسی کیفیت ہے، اے ایم یو، جامعہ ملیہ اور کل جے این یو میں جو نگا ناچ ہوا اس نے تو پورے ملک کی شبیہ خراب کردی اور پوری دنیا میں ملک کی بدنامی ہوئی ہے ۔ معلوم نہیں اس ملک کو کس کی نگاہ بد لگ گئی ہے ۔
لیکن ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے حالات کا مقابلہ اور سامنا کرنا چاہیے اور یہ یقین رکھنا چاہیے کہ قوموں اور ملتوں کی تاریخ میں ایسے حالات ہمیشہ آئے ہیں اور ہر زمانہ کے لوگوں کو باطل اور مخالف طاقتوں کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ بادئ تند مخالف کبھی ہماری پرواز میں بلندی کے لئے بھی آتے ہیں اس لئے اس سے خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے ۔ شاعر نے اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*بادی تند مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب*
*یہ اڑتے ہیں تجھے اونچا اڑانے کے لئے*

*تاریخ* میں بے شمار ایسے واقعات اور مواقع ائے ہیں جب یہ محسوس ہو رہا تھا کہ اب اسلام کا چراغ گل ہوجائے گا ؛ لیکن جو چراغ ہمیشہ جلنے کے لئے آیا تھا ،اسے کیوں کر بجھا سکتا ہے ۔

*نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن*
*پھونکوں سے چراغ بجھایا نہ جائے گا*

*ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز*
*چراغ مصطفوی سے شرار بو لہبی*

*ملک* میں مسلمانوں کے خلاف سخت نفرت پائ جارہی ہے، ان کے خلاف گہری سازشیں ہورہی ہیں ۔ نفرت اور تعصب کا ماحول پیدا کیا جارہا ہے ۔ ان کو دورسرے درجہ کا شہری بھی ماننے کے لئے دشمن تیار نہیں ہیں،پلانگ یہ ہے کہ ان کو ملک بدر کردیا جائے ۔ ان کی شناخت چھین لی جائے اور انہیں ملک بدر کردیا جائے یا ان کو کیمپوں میں محبوس کرکے ان کی زندگی کو جہنم بنادیا جائے ،اور ان سے سارے جمہوری حقوق چھین لئے جائیں اور سب سے بڑا حق جو حق رائے دہی ہے اس سے ان کو محروم کردیا جائے ۔ یہاں اسپین و اندلس اور فلسطین ماڈل کا تجربہ کیا جائے ۔
*جب* ایمان والوں پر اس طرح کے حالات ہیں اور اس طرح کے نازک مواقع ہیں، تو انھیں اپنے عزم و حوصلے صبر و استقامت حالات کا رخ موڑنا چاہیے ۔ اور اس کے لئے ٹھوس اور مضبوط حکمت عملی طے کرنی چاہیے ۔ موجودہ حالات میں مایوسی یا شکست خوردگی اور پست حوصلگی کی ضرورت نہیں ۔ بلکہ ضرورت ہے کہ قرآن و حدیث کا گہرائ سے مطالعہ کیا جائے اور نقوش سیرت، آثار صحابہ اور مکی اور مدنی حالات کا جائزہ لیا جائے اور ان حالات کا جائزہ اور تجزیہ آج کے حالات کے تناظر میں کیا جائے ۔
راقم الحروف کے نزدیک سیرت نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے مطالعے کی روشنی میں آج کے حالات پر قابو پانے کے لئے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان فاصلے، نفرت اور دشمنی کو ختم کرنے کے لئے ضروری ہے، کہ برادران وطن سے سماجی تعلقات قائم کئے جائیں،ان سے خوش گوار تعلقات پیدا کئے جائیں ، سیکولر سیاسی جماعتوں سے معاہدے کئے جائیں، جائز اور مباح حد تک ان سے راہ و رسم قائم کئے جائیں ان کے ساتھ حق پڑوس نبھایا جائے کسی بہانے ان کی دعوتیں کی جائیں ان کو ہدیہ تحفہ بھی دیا جائے غیر مسلم بھائیوں کے یہاں کسی کی موت ہوجائے تو شریعت کی حد میں رہتے ہوئے ان کی مدد کی جائے ، ان کی خوشی کے موقع میں بھی شریک ہوا جائے ، جو سماجی قدریں مشترک ہیں انسانی فطرت سلیمہ کا تقاضا ہیں اور ہر مذہب اور سوسائٹی میں ان کو تسلیم کیا جاتا رہا ہے ان قدروں میں برادران وطن کے ساتھ بھی یکساں سلوک کیا جائے ۔ مثلا ان کے بڑوں کی عزت کی جائے ہم عمروں کی توقیر کی جائے ان کا خیال رکھا جائے ان کے چھوٹوں کو بھی اپنے ہی چھوٹوں کی طرح سمجھا جائے ان سے شفقت کا معاملہ کیا جائے ۔
غیر مسلموں کے ساتھ سماجی تعلقات قائم کرنا اور ان کے ساتھ حسن سلوک یہ اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے یہ کسی طرح شریعت کے منافی چیز نہیں ہے ارشاد خداوندی ہے:
لا ینھاکم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم الخ( الممتحنة ۸)
جو لوگ تم سے دین کے معاملے میں جنگ نہیں کرتے ،اور نہ انہوں نے تم کو تمہارے گھر سے نکالا ہے ،اللہ تعالی تم کو ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور انصاف برتنے سے نہیں روکتے ،بیشک اللہ تعالی انصاف کرنے والوں کو پسند کرتے ہیں ۔
یہ آیت کریمہ بنیادی اہمیت کی حامل ہے اور اس سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ جو غیر مسلم مسلمانوں سے بر سر پیکار نہ ہوں ،مسلمانوں پر ان کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کرنا ضروری ہے ۔ قرآن مجید نے اس کی بھی وضاحت کر دیا کہ کسی قوم کا ہدایت کے راستہ پر آنا اور دین حق کو قبول کرنا یہ خدا واحد کی توفیق پر منحصر ہے اس کی وجہ سے کسی گروہ کے ساتھ بے تعلقی کا معاملہ کرنا اور حسن سلوک سے رک جانا درست نہیں، مسلمان ان کے ساتھ جو بہتر سلوک کریں گے انہیں بہر حال اس کا اجر مل کر رہے گا سورہ بقرہ کی آیت ۲۷۲ میں اللہ تعالی نے اس کی جانب اشارہ کیا ہے ۔
حدیث شریف میں بھی اس کی تفصیلات موجود ہے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ بعض انصار کی بنو قریظہ اور بنو نضیر کے یہودیوں سے قرابت تھی ،انصار ان پر اس لئے صدقہ (نافلہ) نہیں کیا کرتے تھے کہ جب ضرورت مند ہوں گے تو اسلام قبول کریں گے ،اللہ تعالی نے ان کے اس رویہ کو پسند نہیں کیا اور فرمایا ان کی ہدایت کا تعلق اللہ سے ہے لیکن تم اس کی وجہ سے اپنا دست تعاون نہ کھینچو کیونکہ تم کو تمہارے انفاق اور خرچ کا اجر مل کر رہے گا ۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے رفقاء نے عملی طور پر اس کو برت کر دکھایا ،مکہ میں شدید قحط پڑا، لوگ مردار وغیرہ کھانے پر مجبور ہو گئے، یہ زمانہ مسلمانوں اور مشرکین مکہ کے درمیان شدید اختلاف اور گرما گرمی کا تھا ،اس کے باوجود آپ نے مکہ کے قحط زدہ مشرکین کے لئے پانچ سو دینا بھیجا،حالانکہ اس وقت خود مدینہ کے مسلمان سخت مالی دقتوں اور فاقہ مستیوں سے دوچار تھے ، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ رقم سرداران قریش ابو سفیان اور صفوان بن امیہ کو بھیجی ،جو مسلمانوں کی مخالفت میں سب سے پیش پیش تھے اور مشرکین مکہ کی قیادت و سیادت کر رہے تھے ( رد المحتار ۳/۳۰۲ بحوالہ حقائق اور غلط فہمیاں از مولانا خالد سیف اللہ رحمانی)
ملک کے موجودہ ستم ظریفانہ حالات میں ہم مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور اسوئہ صحابہ سے سبق حاصل کریں اور ان کی روشنی میں حالات کا تجزیہ اور پھر اس کا مقابلہ کریں اور اس حقیقت کو ذھن میں رکھیں کہ اگر نفرت کے رد عمل میں نفرت کا اظہار ہوگا تو ہر طرف نفرت ہی کے کانٹے اگ جائیں گے، محبت کے پھول باقی نہیں رہیں گے اس لئے ہم مسلمانوں کا فریضہ ہے اس نفرت انگیز مہم کا جواب محبت انسانیت مانوتا اور اخلاق کے ذریعہ دیں برادران وطن سے (کفر و شرک میں بلا کسی سمجھوتے کے) خوش گوار تعلق قائم کریں اس کے ساتھ پیار و محبت سے پیش آئیں ان کے دل اپنے مومنانہ زندگی اور کردار سے جیت لیں اور اس تدبیر کے ذریعہ موجودہ ماحول کو بدلنے کی کوشش کریں ۔
*اس* وقت ملک کو بچانے کے لئے ہر حساس ،غیرت مند ۔ مخلص و خیر خواہ، امن پسند اور جمہوریت نواز شہری کو سامنے آنا ہوگا اور ملک کی بقا و سالمیت کے لئے اپنی طاقت اور صلاحیت کو لگانا ہوگا ۔ امن و سلامتی اور محبت و شانتی کا ماحول قائم کرنا ہوگا ۔ پورے ملک سے ظلم و تشدد اور نفرت و تعصب کا ماحول ختم کرنا ہوگا،اور مانوتا اور انسانیت کی حفاظت کے لئے ایک ہونا پڑے گا ۔ اگر ہم لوگ ملک کی حفاظت کے لیے کھڑے نہ ہوئے اس کے لئے ایک نہیں ہوئے تو بعید نہیں یہ ملک ٹوٹ جائے خانہ جنگی کا شکار ہوجائے ،اس لئے قبل اس کے کہ وہ وقت آئے ہم سب اپنے فرض کو ادا کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوں اور ملک و ملت کو بچا لیں ۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے