موجودہ حالات میں علماء کرام کی ذمہ داری

*محمد قمر الزماں ندوی*

*مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ*

*علماء کرام* یہ در حقیقت وارثین انبیاء اور نائبین رسول ہیں، *آپ صلی اللہ علیہ وسلم* نے فرمایا :
*عالم کے لیے زمین و آسمان کی تمام چیزیں دعاء مغفرت کرتی ہیں، یہاں تک کہ پانی کی آغوش میں رہنے والی مچھلیاں بھی ،عالم کی فضیلت عبادت گزار شخص پر ایسی ہی ہے جیسے چودھویں شب کے چاند کی فضیلت تمام ستاروں پر،علماء انبیاء کے وارث ہیں ،کہ انبیاء نے درہم و دینار روپئیے پیسے کی میراث نہیں چھوڑی، بلکہ علم کی میراث چھوڑی ہے۔ جو علم سے سرفراز ہو،اس نے انبیاء کی میراث سے بڑا حصہ پایا*۔ ( ترمذی حدیث نمبر ۲۶۸۲)
*اس* حدیث سے جہاں امت میں علماء کی فضیلت اور ان کا بلند و بالا مقام واضح ہوتا ہے کہ اگر عابد ستارہ ہے تو عالم چودھویں کا چاند ہے اور علماء کو میراث نبوت کا حامل قرار دیا گیا ہے ۔
لیکن اگر اس حدیث کی گہرائی و گیرائی پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جن الفاظ و کلمات سے عالم کی فضیلت اور ان کا مقام و مرتبہ بیان کیا گیا ہے وہیں اس حدیث سے یہ پیغام اور اشارہ ملتا ہے، اور یہ صاف معلوم ہوتا ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت خوش اسلوبی اور حکمت کے ساتھ مدح و ستائش کے پیرایہ میں علماء کو ان کی ذمہ داریاں یاد دلائی ہیں اور ان کی طرف متوجہ فرمایا ہے ۔
آپ غور کریں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عالم کو چاند کے مشابہ قرار دیا ان کو چاند سے تشبیہ دی۔ چاند کا کیا کام ہے؟ اندھیروں کو روشن کرنا،راہ گیروں کے لئے راستہ کی پہچان کو آسان کرنا ،گم گشتوں اور راہ کے بھٹکے ہووں کو راہ دکھانا اور اپنا دل اور قلب و جگر کو جلا کر پوری دنیا کو روشن و منور کرنا ۔ اس بلیغ تمثیل نبوی سے معلوم ہوا کہ ایک عالم کا فرض منصبی یہ ہے کہ وہ پوری انسانیت کے لئے رہنمائی کا فریضہ انجام دے ۔وہ اپنے ماحول ۔گرد و پیش اور سماج و سوسائٹی کے لئے قبلہ نما کی حیثیت رکھتا ہے، جس کے ذریعہ لوگ اپنے کعبئہ مقصود اور منزل مقصود کو جان سکیں ۔ عابد کی عبادت کا نفع اس کی ذات تک محدود رہتا ہے، جبکہ عالم کے علم کی روشنی سے پوری دنیا مستفید ہوتی ہے، تبھی تو عالم کو پیارے آقا صلّی اللہ علیہ وسلم نے چاند سے تشبیہ دی ۔
ایک اور موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علماء کی حیثیت ،مقام و مرتبہ اور ان کی ذمہ داریوں کو بہت خوبصورتی کے ساتھ بیان فرمایا ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ حدیث کے راوی ہیں وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : زمین میں علماء کی مثال ایسی ہے جیسے آسمان میں ستاروں کی، جن سے خشکی اور تری کی تاریکیوں میں راستے کی رہنمائی حاصل کی جاتی ہے، پھر اگر ستارے ڈوب جائیں تو قریب ہے کہ راہ چلنے والے راستہ بھٹک جائیں ۔ (مسند احمد حدیث نمبر ۱۲۱۸۹)
یہ نبوی تعبیر اور تشبیہ و تمثیل کتنی بلیغ ہے کہ جیسے ستارے رات کی تاریکی میں سفر کرنے والے راہ زدوں اور مسافروں کے لیے راستہ بتانے کا کام کرتے ہیں، اسی طرح جو لوگ بے دینی ،بے عملی اور فساد عقیدہ کی تاریکیوں میں بھٹک رہے ہوں انہیں منزل مقصود تک جانے والا راستہ دکھانا اور ان کے سمت قبلہ کو درست کرنا علماء کی ذمہداری اور ان کا فرض منصبی ہے ۔
اس وقت پوری دنیا میں جو انتشار اور بدامنی ہے ۔ خلق خدا جس طرح بے چین و مضطرب ہے،انسانیت جس طرح کراہ رہی ہے،اور خاص طور پر اسلام اور مسلمانوں پر ہر طرف سے جو حملہ ہورہا ہے اور چومکھا جو یلغار ہے کئی جہتوں سے بیک وقت دین حق پر جو یورشیں کی جارہی ہیں ایسے وقت میں علماء کرام کی ڈیوٹی ڈبل ہوجاتی ہے ۔ ایسے ماحول میں خاص طور پر طبقئہ علماء کو اس حقیقت کو جان لینا ضروری ہے کہ ان کی حیثیت کسی اسکول اور آفس کے ملازم کی سی نہیں ہے بلکہ ان کی حیثیت سرحد پر مقرر و متعین فوجیوں کی ہے ۔ ایک ایسے سپاہی اور فوجی کی ہے جو صرف خدا سے اجر پانے کے لئے کام کرتا ہے اور جو اپنی سرحد کی حفاظت کے لیے اس طرح کام کرتا ہے کہ ایک ایک انچ کی حفاظت کے لیے خون جگر کا تحفہ پیش کرنے کو تیار رہتا ہے ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اہل مصر کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ تم مسلسل سرحد کی حفاظت پر مامور ہو ،گویا جنگ کی حالت میں ہو،حالانکہ کہ اس وقت مصر کی سرحدوں کو کوئ قابل ذکر خطرہ درپیش نہ تھا ۔ (دینی و عصری تعلیم مسائل اور حل صفحہ ۸۵)
یقنیا یہ وقت بہت نازک ہے ،اس وقت پوری طاغوتی طاقتیں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف متحد اور یک جٹ ہیں اور یہ اس لیے ہے کہ ان کو یقین ہے اور یہ خطرہ ہے اسلام اور مسلمان آج نہیں تو کل پھر غالب ہوجائیں گے کیونکہ اس امت کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے اندر قوت احتاسب ہے جس دن اس امت نے اپنا محاسبہ کر لیا اور اپنے دلوں پر جمے ہوئے زنگوں کو دور کرلیا اور اپنے مقام و ذمہ داری کو سمجھ لیا تو باطل طاقتوں اور طاغوتی نظاموں کو یہ تہہ و بالا کردیں گے اور پوری دنیا میں ایک انقلاب برپا کر دیں اور علم اسلام کو پوری دنیا میں گاڑ دیں گے، پھر تو ہم ناکام و نامراد ہوجائیں گے ۔ ابلیس کی مجلس شوری میں سب سے دانا شیطان نے اس خطرہ اور اندیشہ کا اظہار کیا تھا اور جس پر سارے ارکان شوری فکر مند ہو گئے تھے ۔علامہ اقبال رح نے اس کی ترجمانی اپنے اشعار میں بہت خوبصورت انداز کی ہے، جس کا ایک شعر یہ ہے ۔۔۔۔۔

*ہے اگر مجھ کو خطر کوئ تو اس امت سے*
*ہے حقیقت جس کے دیں کی احتساب کائنات*

آج بھی شیطان اور ابلیسی طاقتوں کو سب سے خطرہ اس امت سے اور خاص طور پر علماء سے ہے یہی وجہ ہے کہ شیطان سب سے زیادہ اس امت کو اور خاص طور پر طبقئہ علماء کو منتشر و گمراہ کرنے اور ان کے درمیان خلیج پیدا کرنے پر لگا ہوا ہے کہ کس طرح اس طبقہ کو اس کے مقام اور اس کی ذمہ داریوں سے بھٹکا دے اور انہیں باطل اور طاغوتی طاقتوں کا ہمنوا بنادے ۔
اس لئے ہم طبقہ علماء کو آج کے حالات میں بہت ہی بیدار مغز ہونے کی ضرورت ہے اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کی سخت ضرورت ہے ۔
آج ہمارے سامنے خطرناک چیلنجز ہیں ۔ آج ہمارے سامنے وجود و بقا کی جنگ ہے، تہذیب و تمدن کی جنگ ہے ۔آج مسلمانوں کو شعائر اسلام پر باقی رکھنے کی جنگ ہے ۔ ہزاروں لاکھوں مسلمانوں کے ایمان و عقیدہ کے حفاظت کی جنگ ہے ۔ اس جنگ کو اس وقت لڑنے کی ضرورت ہے اور ماضی ہی کی طرح اس کی کمان کو علماء کرام اور اہل علم کو اپنے ہاتھ میں لینی ہے ۔ یہ جنگ تیغ و تفنگ اور شمسیر و سناں کی کم ہے بلکہ دعوت و اصلاح تذکیر و تذکیہ اور امت کے مسائل کے بارے میں فکر مندی اور درد مندی کی ہے۔
آج علماء کرام کی ڈیوٹی ڈبل ہوجاتی ہے کیونکہ وہ انبیاء کرام کے وارث ہیں، اس لئے ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس درد کی میراث میں بھی حصہ دار بنیں ۔ جس طرح انبیاء کرام علیہم السلام اور رسولان عظام نے امت کے لئے اپنی آنکھوں کو اشکبار کئے ان کی انکھیں رات رات بھر خدا کے سامنے بہتی رہیں ۔ رات رات بھر وہ امت کی ہدایت کے لئے روتے رہے ۔یا قومی اعبدوا اللہ کی ڑٹ لگاتے رہے ۔انسانیت کی بقا اور توحید کی حفاظت کے لئے صبح و شام گشت کرتے رہے ایک ایک کی خوشامد کرتے رہے اور یہ یقین دلاتے رہے کہ اس دعوت کے بدلہ ہم تم سے کوئ معاوضہ نہیں چاہتے میرا اجر تو اللہ کے یہاں ہے، میں تو تمہارے لئے مخلص اور غمگسار ہوں تمہیں جہنم کی آگ سے بچانا چاہتا ہوں ۔ آج یہ درد اور تڑپ پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔
غرض یہ کہ ہم وارثین انبیاء کو اس وقت اپنی ذمہ داریوں کو اچھی طرح سمجھنا ہے اور اپنے فرض منصبی کو ادا کرنا ہے اور زبان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند سے جو تشبیہ دی ہے اس کا صحیح مصداق اور نمونہ بننا ہے ۔ اب وقت نہیں ہے کہ صرف درسگاہوں اور خانقاہوں میں بیٹھ کر امت کی رہنمائی بات کریں اور سوچیں بلکہ ہر طرح سے میدان عمل میں آنا ہوگا اور اسلام کی تعلیمات اور اس کے پیغام کو دنیا تک پہچانا ہوگا ۔

*اٹھ کے اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے*
*مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے*

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے