پندرہویں شعبان میں روزہ رکھنا

???? *پیام شریعت* ????
_*☪ ١٥شعبان المعظم١٤٤١ھ*_
_*???? 10 اپریل2020*_
???? بروز۔ *جمعہ*
???? *مسٸلہ* ????
✒ پندرہویں شعبان میں روزہ رکھنا۔
???? پندرہویں شعبان میں روزہ رکھنا بہتر ہے، حدیث شریف میں آیا ہے: قوموا لیلھا وصوموا نھارھا (ابن ماجة) پندرہ کی شب میں شب بیداری کرو اور پندرہویں کے دن میں روزہ رکھو۔ یہ روزہ رکھنا یا عبادت کرنا فرض وواجب یا سنت موٴکدہ نہیں ہے بلکہ مستحب ہے، یعنی جو کوئی کرے گا اجر و ثواب پائے گا اور جو نہیں کرے گا، اس پر کوئی گناہ نہیں۔واللہ اعلم بالصواب۔
(مستفاد: فتاوی دارالعلوم دیوبند
???? عن علي بن أبي طالب كرم الله وجهه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا كان ليلة النصف من شعبان فقوموا ليلتها وصوموا يومها …………. (سنن ابن ماجة ۹۹ رقم: ۱۳۸۸، شعب الإيمان ۳۸۹/۳ رقم: ۳۸۲۲)قال العراقي في تخريج الإحياء (۱۸۲/1 ) إسناده ضعيف، وقال السندي:(۲۱۷/۱ ) في الزوائد: إسناده ضعيف لضعف ابن أبي سبرة. (بحواله: نوادر الحديث ۲۱۹)عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله : كم من صائم ليس له من صيامه إلا الظمأ، وكم من قائم ليس له من قيامه إلا السهر. (مشکوة شریف ۱۷۷)والقول الثاني يكره الاجتماع لها في المساجد للصلاة وهذا قول الأوزاعي إمام أهل الشام وفقيههم وعالمهم. (طحطاوي على المراقي أشرفية ۶۰۲) فقط ????
حدیث النبیﷺ۔۔عَن المِسْوَرِ وَمَرْوَانَ: أَنَّهُمُ اصْطَلَحُوا عَلَى وَضْعِ الْحَرْبِ عَشْرَ سِنِينَ يَأْمَنُ فِيهَا النَّاسُ وَعَلَى أَنَّ بَيْنَنَا عَيْبَةً مَكْفُوفَةً وَأَنَّهُ لَا إِسْلَالَ وَلَا إِغْلَالَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
حضرت مسور اور مروان سے روایت ہے کہ انہوں نے دس سال لڑائی بند رکھنے کا معاہدہ کیا ، اس عرصہ میں لوگ امن سے رہیں گے ، کسی غلط فہمی کا شکار ہوں گے اور نہ ایک دوسرے پر ہاتھ اٹھائیں گے (جان و مال کا تحفظ ہو گا) ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
أوکماقال النبی ﷺ۔
(مشکوةشریف حدیث نمبر ٤٠٤٦ )
ناقل✍ہدایت اللہ قاسمی
خادم مدرسہ رشیدیہ ڈنگرا،گیا،بہار
HIDAYATULLAH
TEACHER MADARSA RASHIDIA DANGRA GAYA BIHAR INDIA
نــــوٹ:دیگر مسائل کی جانکاری کے لئے رابطہ بھی کرسکتے ہیں
Whatsapp.NO
6206649711
????????????????????????????????????????????????

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے