کرونا وائرس کی وجہ سے مرغیوں کو دفن کرنا

*⚖سوال و جواب⚖*

*مسئلہ نمبر 1087*

*کرونا وائرس کی وجہ سے مرغیوں کو دفن کرنا*

*سوال:* کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ میرے پاس 2500 مرغیاں ہیں جنہیں ہم فروخت کرتے تھے، اب کرونا وائرس Corona) Virus) کیوجہ سے نہیں رکھنا چاہتے ہیں کوئی مفت میں بھی نہیں لے رہا تو ان مرغیوں کو دفنانا چاہتے ہیں تو انکو دفنا سکتے ہیں؟ کیا اگر دفنا سکتے ہیں تو ذبح کرکے یا بغیر ذبح کرے؟ برائے مہربانی جلد از جلد جواب دیں۔
(محمد طہ مدھوبنی،
مرسل: محمد مکرم پالنپوری)

*بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم*

*الجواب وباللہ التوفیق*

کرونا وائرس اس وقت سب سے زیادہ چین میں ہے اور یہ وہیں کی پیداوار ہے جو عذاب الہی کی طرح ان پر مسلط ہے، ہندوستان میں یہ بیماری وبا کی صورت میں نہیں پھیلی ہے، سوا کروڑ کی آبادی میں بمشکل تمام چالیس پچاس لوگوں میں اس کے اثرات دریافت ہوئے ہیں، اس لئے اس سے بہت زیادہ خائف ہونے کی ضرورت نہیں ہے، اور مرغی کے گوشت سے اس درجہ احتیاط کی ضرورت بھی نہیں ہے(١)۔

اب رہی یہ بات کہ اگر آپ کے علاقے کے لوگ غایت احتیاط کی وجہ سے بالکلیہ مرغی کا گوشت چھوڑ چکے ہیں اور کوئی خریدنے کو تیار نہیں ہے تو ان مرغیوں کو ذبح کر کے دفن کیا جاسکتا ہے کیونکہ ذبح کر کے دفن کرنے سے ایک تو مرغیوں کو غیر فطری تکلیف نہیں ہوگی دوسرے یہ کہ ان کی بدبو سے ماحولیات پر برا اثر نہیں پڑے گا(٢)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔

*????والدليل على ما قلنا????*

(١) ملاحظہ ہو
Total number of passengers screened at airport : 10,57,506
Total number of confirmed COVID 2019 cases across India * : 60

(Ministry of health and family welfare)

بھارت میں کرونا وائرس کی تفصیل کے لئے جائیے اس لنک پر

http://www.mohfw.gov.in/

(٢) عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ : ثِنْتَانِ حَفِظْتُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : ” إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ فَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ ". (صحيح مسلم رقم الحديث ١٩٥٥ كِتَابٌ : الصَّيْدُِ وَالذَّبَائِحُ، وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ | بَابٌ : الْأَمْرُ بِإِحْسَانِ الذَّبْحِ)

(فأحسنوا القتلة) بكسر القاف أي: هيئة القتل، والإحسان فيها اختيار أسهل الطرق وأقلها إيلاما. (عون المعبود شرح سنن أبي داود رقم الحديث ٢٨١٥ كِتَابٌ : الضَّحَايَا | بَابٌ : فِي النَّهْيِ أَنْ تُصْبَرَ الْبَهَائِمُ)

أما إن كان الحيوان مما يُؤْكل ، وبلغت الحال به إلى حد لا يُمْكن الانتفاع به ولا إعطاؤُه لمن ينتفع به فإن حكمه حكم الحيوان مُحرّمُ الأكْلِ ، أيْ أنه يجوز له أن يتلفه ، سواء بذبحه أو قتله بالرصاص ، وافعل ما يكون أريح له (الإسلام سؤال وجواب رقم السؤال 8814)

*كتبه العبد محمد زبير الندوي*
دار الافتاء و التحقیق مدرسہ ہدایت العلوم بہرائچ یوپی انڈیا
مورخہ 15/7/1441
رابطہ 9029189288

*دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے*

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے