ہندو ہیں تو بچ جائیں گے

???? *صدائے دل ندائے وقت*(836)
*ہندو ہیں تو بچ جائیں گے__!!*

*ملک میں قانون و ضوابط کا حال یہ ہے کہ اسے مذہب کی بنیاد پر نافذ کیا جاتا ہے، اور جمہوریت کے معنی و مفہوم کو بے اعتبار کردیا جاتا ہے، اگرچہ انصاف کی دیوی اپنی آنکھوں پر سیاہ پٹی باندھتی ہے؛ تاکہ ہر کو یکساں سمجھے؛ لیکن وہ صحیح معنوں میں حقی سے عاری و نابینا ہے، چنانچہ ایک خاص طبقہ کو نشانہ بنا کر سارے معاملات انہیں کے سر ڈالنے کی کوشش ہوتی ہے، جب کوئی مسلم شخص کسی معاملہ میں معمولی بات پر بھی قابل گرفت ہو تو اسے بخشا نہیں جاتا ہے، دیش سے غداری، دہشت گردی اور انتہا پسندی کے الزام میں وہ ہمیشہ مطعون رہتے ہیں، جب کوئی جانکناں حادثہ پیش آتا ہے تو اسے سب سے پہلے کسی مسلم سے جوڑ کر ہی دیکھا جاتا ہے، اور تمام تر سعی یہ ہوتی ہے؛ کہ اسے اسی حد تک مرتکز کر کے رکھ دیا جائے، مگر کسی ہندو، سکھ، عیسائی یا کسی بھی دوسرے دھرم سے متعلق کا نام سامنے آجائے تو اک خموشی سی چھا جاتی ہے، جیسے پلواما حملہ آور سکھ آفیسر کے سلسلہ میں خموشی ہے، نیز اگر مسلمانوں کی کوئی جماعت اکٹھا ہو اور وہاں پر کسی بدمعاش و بدمزاج نے پاکستان کے نعرے لگادئے؛ خواہ اسے ثابت کرنا بھی مشکل ہو تب بھی ان سب پر کارروائی ہوجاتی ہے، لیکن اس کے برخلاف کسی ہندو کی جانب سے وہی نعرے لگائے جائیں اور اس میں کوئی شبہ نہ ہو تب بھی اسے مشتبہ قرار دے کر چھوڑ دینے یا پھر کم از کم کاروائی کر کے معاملہ ختم کردینے کی کوشش ہوتی ہے، انیس سالہ امولیا یا کنہیا کمار اور عمر خالد کی مثال موجود ہے.*
*ایک خوفناک واقعہ تو ڈاکٹر کفیل کے سلسلہ میں ہے، جس شخص نے گورکھپور اسپتال میں مرتے بچوں کیلئے آکسیجن کا بندو بست کیا اور ان سب کی جان بچانے کی کامیاب کوشش کی تھی، اسی کے خلاف یوگی سرکار نے بقیہ موتوں پر کیس درج کر کے کاروائی کردی، بڑی مشکل سے ان الزامات سے بری ہوئے اور خدمت خلق کیلئے خود کو وقف کردیا، نیز سوشل ورک اور انصاف کی جد و جہد میں لگ گئے، تو انہیں مختلف طریقوں سے پھنسانے کی کوشش ہوئی، نوبت یہاں تک آگئی کہ ایک عام تقریر کے سلسلے میں جو سی اے اے کے خلاف کی گئی تھی، انہیں دیش مخالف یا بھڑکاو بھاشن کہہ کر گرفتار کر لیا گیا، اس دوران ان کے بھائی اور رشتہ دار بھی جان سے مار دئے گئے، کس نے مارا اور کیوں مارا__؟ کسی کو نہیں معلوم. اسی کے برخلاف دہلی میں انوراگ ٹھاکر، کپل مشرا جیسے لوگوں نے متعدد ملک مخالف، اور گری راج سنگھ نے یہاں کی دوسری اکثریت مسلم قوم کے جلاف زہر اگلا اور لگاتار اسی نہج پر لگے رہے؛ لیکن ان کے خلاف کوئی بات تک نہیں کی گئی، وارث پٹھان جو کہ مجلس اتحاد المسلمین کے نیتا ہیں، انہوں نے ایک جذباتی تقریر کی جس کی مذمت ہر ایک طرف سے کی گئی؛ مگر ایسے جذباتی تقاریر کی کوئی حد نہیں جنہیں بی جے پی اور سنگھ کی جانب سے دیا جاتا ہے، مگر شاید ہی کبھی سنا گیا ہو کہ ان کے خلاف ایکشن لیا گیا ہو؛ بلکہ اکثر ان کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے، انہیں عہدے فراہم کئے گئے ہیں، اور پوری عزت کے ساتھ انہیں بری کیا گیا ہے؛ بلکہ حالت تو یہ ہے کہ جس کسی نے ان کے خلاف آواز اٹھائی ہے وہ خود ایک نئی مصیبت مول لے لیتا ہے.*
*جامعہ ملیہ، جواہر لال یونیورسٹی میں بہت سے بھگوا چولی میں لپٹے ہوئے نوجوانوں نے گھس کر غنڈہ گردی کی تھی، جس کی ہر ایک فوٹیج محفوظ ہے، مگر کیس تک درج نہیں کیا گیا، بقیہ کارروائی کی تو کوئی امید ہی نہیں ہے، اسی دوران کئی دفعہ سنگھ کی تقریروں سے متاثر ہو کر نوجوانوں نے بندوق اٹھائی، سر عام گولیاں چلائی، وے پکڑے گئے مگر کوئی نابالغ قرار پایا تو کسی کے معاملہ کو یوں پوشیدہ کردیا گیا جیسے مردہ کو قبر میں دفن کردیا جاتا ہے، جبکہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کی تقریر کسی دہشت گرد کے موبائل میں مل جاتی ہے تو انہیں دہشت گرد ثابت کردیا جاتا ہے، اسی طرح دہلی فساد بلکہ مسلم کشی کے دوران بھی بہت سے بھگوا کے سپاہی، اوباش لڑکے سڑکوں پر تھے، سبھی کی صورتیں محفوظ ہیں، لیکن ان پر کسی طرح کا کوئی اشکال نہیں کیا جارہا ہے، اسی کے بالمقابل ایک عام آدمی پارٹی کے مسلم. سیاست دان طاہر حسین کے گھر چند تحفظاتی سامان دریافت ہوئے ہیں، اب بس ساری میڈیا کا رخ انہیں کی جانب ہے، بلکہ تازہ ترین بات یہ ہے کہ ان کے خلاف ایکشن شروع ہوچکا ہے، ان کی دکان بند کردی گئی ہے، مگر کیا آپ نے سنا کہ کہ پچاس سے زائد موت کے ذمہ دار اور املاک و جان کو نقصان پہنچانے والے سنگھ کے غنڈے اور پولس کے خلاف کارروائی کی گئی ہو__؟ بلکہ ہر ممکن کوشش یہ ہے کہ ان میں سے بعض نوجوان مسلم کو گرفتار کیا جائے، شاید مستقبل میں یہی کچھ ہوگا، اور سارا الزام مسلم سماج پر ڈال دیا جائے گا.*
*تو وہیں سیاسی سطح پر بھی یہ دوغلاپن ہے، یوگی ایک مجرم شخص جس کا ہر پہلو سب کے سامنے ہے؛ لیکن اب وہ وزیر اعلی ہے، مگر اعظم خان جو کہ اس کی راہ اور فکر میں ایک رکاوٹ ہے، ان پر تیس یا چالیس کیسیس ڈال کر جیل بھیج دیا گیا ہے، بیوی اور بچہ بھی ساتھ ہے، الزامات کی فہرست اگر گنوائی جائے تو ماتھا پیٹنے کا من کرے گا، حیران و پریشان ہوجائیں گے، ان میں محمد علی جوہر یونیورسٹی کیلئے گاؤں والوں کی زمین ہڑپ کرنے، لائبریری کیلئے کتابیں چوری کرنے، بھینس چرانے وغیرہ جیسے بے بودہ اور مضحکہ خیز معاملات ہیں، جبکہ اسی ملک میں سینکڑوں کڑورپتی ہیں جنہوں نے ملک کو کنگال کردیا، یہاں سے اربوں لوٹ کر لے گئے؛ لیکن آج تک ان پر کوئی کارروائی نہ گئی، اسی طرح سنگھ کا ظلم پورے ملک پر چھایا ہوا ہے، ان کے مراکز میں تشدد کی تعلیم دی جاتی ہے، ہتھیار اور ملک مخالف نصاب پڑھایا جاتا ہے، اس بات سے کوئی ناواقف نہیں ہے؛ لیکن انہیں چھوڑ کر آئے دن مسلمانوں کے مراکز و مدارس کو نشانہ پر لئے رہتے ہیں، اور کسی بھی طرح یہ جتانے کی کوش کرتے ہیں؛ کہ بس کوئی غدار ہے، اور اس ملک کو کسی سے خطرہ ہے تو وہ صرف اور صرف مسلمان ہیں، چنانچہ حکومت، عدلیہ مقننہ ہر میدان سے مسلمانوں کو طعن و تشنیع کے سوا کچھ نہیں ملتا، انصاف انصاف کرتے کرتے نہ جانے کتنے مسلمان منصف اعلی سے جا ملتے ہیں، یہ ظلم ہے اور نا انصافی ہے، اور کسی بھی دھرم میں ناانصافی برداشت نہیں، اس کی سزا بھی دنیا میں ملتی ہے، چنانچہ وقت آئے گا کہ یہ خود اپنی پالیسیوں کے سامنے بے بس و لاچار ہوجائیں گے اور خود کا ظلم ہی برداشت کرنے کے قابل نہ رہیں گے.*

✍ *محمد صابر حسین ندوی*
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
27/02/2020

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے