جہان نو ہورہا ہے پیدا وہ عالم پیر مر رہا ہے

???? *صدائے دل ندائے وقت*????(1012)
*جہان نو ہورہا ہے پیدا وہ عالم پیر مر رہا ہے __!!*

*قضیہ فلسطین کے سلسلہ میں دنیا اسے دو نظریہ سے دیکھتی ہے، ایک کا حال یہ ہے کہ وہ فلسطین کو اسرائیلی دنیا کا مہرا، اس کے ہاتھوں کا کھلونا اور اس کی سیاست کا بازیچہ اطفال سمجھتا ہے؛ جبکہ دوسرا گروہ اسے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئیوں کی حقیقت جانتا ہے، اور واقعہ یہ ہے کہ دونوں ہی نظریئے اپنی اپنی جگہ پر درست ہیں؛ لیکن بحیثیت ایک مومن اور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا متبع ہونے پر دوسرا نقطہ نظر زیادہ صحیح تر سمجھنا چاہئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: "قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک کہ مسلمان یہودیوں سےقتال نہ کرلیں، پس مسلمان ان کو (خوب) قتل کریں گے، یہاں تک کہ پہودی پتھر و درخت کے پیچھے پناہ لے گا، تو درخت یا پتھر کہے گا: اے مسلمان __! اے اللہ کے بندے __! یہ یہودی میرے پیچھے ہے تو آکر اسے قتل. کردے،مگر غرقد نامی درخت (ایسا نہیں کرے گا)؛ کیوں کہ وہ یہودیوں کا درخت ہے”( صحیح مسلم: باب لا تقوم الساعۃ حتی یمر الرجل بقبر الرجل _ ٢٩٢٢) _ اس روایت کا حرف حرف درست ہے؛ کیونکہ یہ صادق مصدوق کا کلام ہے، جو” ماینطق الا وحی یوحی” کا تمغہ رکھتا ہے.*
*یہی وجہ ہے کہ اسرائیل میں غرقد نامی درخت لگائے جانے کا پورا اہتما کیا جاتا ہے، یہودی اسے ثواب سمجھتے ہیں اور عقیدہ کا حصہ مانتے ہیں. دراصل آج مسلمانوں سے زیادہ یہودی اس بات پر یقین کرتے ہیں؛ کہ وہ اپنے آبائی ورثہ کی طرف بڑھ رہے ہیں، توارت میں جس ارض موعود کا وعدہ کیا گیا ہے، جس کو کنعان کہہ کر ان کیلئے اللہ تعالی کا عطیہ بتایا گیا ہے وہ اسی مقصد کی جانب گامزن ہیں؛ مگر درحقیقت وہ اپنی موت کی طرف بڑھ رہے ہیں، وہ موت کے کنویں کو اپنا ٹھکانہ مان کر اجل کو گلے لگانے پر آمادہ ہیں، چنانچہ فلسطین پر قبضہ اور بیت المقدس کو ہتھیانے کا خواب وہی دجال کو دعوت دینا ہے جس کے ساتھ ملکر وہ حضرت مسیح عیسی علیہ السلام کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں، اور یہ نادان مسلمان نہ صرف اس کی جانب للچائی آنکھوں سے دیکھتے ہیں؛ بلکہ معانقہ بھی کئے جاتے ہیں، اسرائیل کا وجود غصب، ظلم اور ناانصافی پر مبنی ہونے کے باوجود اس کی طرف کھنچے جاتے ہیں، عرب امارات، مصر، اردن اور اب عمان و سوڈان کا نرم رویہ نیز سعودی کا یوں تو زبان سے اس کی خلاف ورزی کرنا اور پس دیوار اسرائیلی ہوائی جہاز کیلئے فضا مہیا کرنا بھی اسی بات کی تشریح ہے، ابھی آسماں کیا کیا رنگ دکھائے گا اور کس کس کے منہ سے پردے ہٹیں گے، نفاق کی زنجیریں کن کی بکھیریں گی اور کون کون اوندھے منہ جہنم کا ایندھن بنیں گے، وہ سب کچھ احادیث کی کتابوں میں مفصل مذکور ہے، کتاب الملاحم اور فتن کے ابواب ہر ایک کو پڑھنا چاہیئے.*
*بہر حال عرب مفتیوں کے بے تحاشہ ٹویٹ جو اس کی تائید کرتے ہیں؛ کہ فلسطینی ریاست کی کوئی اہمیت نہیں ہے، بیت المقدس کیلئے جہاد شرعی نہیں ہے وغیرہ عربی نسل کی بے بسی اور یہود نوازی کا پتہ دیتی ہے، بی بی سی نے رپورٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ دنیا تجارت کے روپ میں اپنی اپنی جگہ طے کر رہی ہے، خواہ ایران ہو یا پھر پاکستان، ترکی ہو یا پھر ہندوستان ___ اگر سبھی دو خمیوں میں تقسیم ہوتے نظر آتے ہیں تو اس کی وجہ کچھ اور نہیں، بلکہ ملکی مفاد اور تجارتی اغراض ہیں؛ لیکن ہم یہ جانتے ہیں کہ قصہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے، ظاہر بینی اگرچہ یہی کہتی ہو؛ مگر احادیث نبویہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی روشنی سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا اپنے اخیر دور میں حق و باطل کے دو دھڑوں میں تبدیل ہوجائے گی، مومنین جن کے دل میں خالص ایمان ہوگا وہ کمزور ہوں گے؛ لیکن حضرت مہدی اور حضرت عیسی مسیح علیہم السلام ان کی تقویت بنیں گے اور وہی دنیا کی باگ ڈور سنبھالیں گے؛ اس سے قبل اگرچہ باطل روز بروز طاقتور ہوگا، دنیا کی تمام قوت ان کے ہاتھوں میں سمٹ آئے گی، دجال اور اس کے کارندے دنیا کو مٹھی میں دبوچ لیں گے، وہ جو چاہیں گے ہوگا اور جو کوئی ان کی مخالفت کرے گا اس کی زندگی ان ہی کے رحم و کرم پر منحصر رہے گی، یہی وہ کشمکش ہے جس کی طرف پیش قدمی جاری ہے، اسرائیل قیادت سنبھالے ہوا ہے اور دنیا اس کے پیچھے دوڑی چلی جارہی ہے.*
*حقیقت یہ ہے کہ ظالم کتنا ہی سبز و شاداب ہوجائے، مظلوم کا خون ہی اصل رنگ لاتا ہے، زمین قابل کاشت ظالم کی نہیں؛ بلکہ مظلوم کی ہوتی ہے جس کے مظلوم لہو سے اس کی سینچائی ہوتی ہے، اور اسی زمین سے پھول بوٹے کھلتے ہیں جس سے دنیا معطر ہوتی ہے جس کی رعنائی کے آگے ظالم کا ظلم متعفن بن جاتا ہے اور لوگ اس سے متنفر ہو کر سبھی اسی مظلوم کے باغیچہ میں آرام فرماتے ہیں، چنانچہ دنیا کی یہ بڑی تبدیلی اگرچہ خون کی ندی پر ہوگی؛ لیکن ایک نئی صبح ہوگی، یہ ناقص سوجھ بوجھ کہتی ہے کہ دنیا ایک عظیم کروٹ لینے کو تیار ہے، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونے کو ہے، اس موقع پر مایوسی نہی؛ بلکہ دلوں کو گرمانے کی ضرورت ہے، حق کو پہچاننے، نگاہیں بلند کرنے اور خود کو تیار کرنے کی حاجت ہے، رات کی تاریکی خواہ کتنی ہی ہوجائے ایک نئی ضو تمام شب کو صبح میں بدل کر رکھ دیتی ہے، سورج نکلے گا، اندھیرا چھٹے گا، حق غالب آئے گا، قرآن و حدیث کا نور نظر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نیز صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کی امانت پھر سے بحال ہوگی، اس کی تقدیس کے گن گائے جائیں گے، نعرہ تکبیر بلند ہوگا، محبت کے گل کھلیں گے، مومین سرخرو ہوں گے اور ان کا انجام بہتر انجام ہوگا، اخیر میں شاعر مشرق علامہ اقبال (رحمہ اللہ) کے اشعار پڑھتے جائیے اور مزید دل میں بیت المقدس کی تپش اور ایک نئی کرن کی جوت جگاتے جائیے:*
جو تھا نہیں ہے، جو ہے نہ ہو گا، یہی ہے اک حرفِ محرمانہ
قریب تر ہے نُمود جس کی، اُسی کا مشتاق ہے زمانہ
مِری صراحی سے قطرہ قطرہ نئے حوادث ٹپک رہے ہیں
مَیں اپنی تسبیحِ روز و شب کا شُمار کرتا ہوں دانہ دانہ
ہر ایک سے آشنا ہوں، لیکن جُدا جُدا رسم و راہ میری
کسی کا راکب، کسی کا مَرکب، کسی کو عبرت کا تازیانہ
نہ تھا اگر تُو شریکِ محفل، قصور میرا ہے یا کہ تیرا
مِرا طریقہ نہیں کہ رکھ لوں کسی کی خاطر میء شبانہ
مِرے خم و پیچ کو نجومی کی آنکھ پہچانتی نہیں ہے
ہدَف سے بیگانہ تِیر اُس کا، نظر نہیں جس کی عارفانہ
شفَق نہیں مغربی اُفق پر یہ جُوئے خوں ہے، یہ جوئے خوں ہے!
طلوعِ فردا کا منتظر رہ کہ دوش و امروز ہے فسانہ
وہ فکرِ گُستاخ جس نے عُریاں کِیا ہے فطرت کی طاقتوں کو
اُسی کی بیتاب بجلیوں سے خطر میں ہے اُس کا آشیانہ
ہوائیں اُن کی، فضائیں اُن کی، سمندر اُن کے، جہاز اُن کے
گِرہ بھنور کی کھُلے تو کیونکر، بھنور ہے تقدیر کا بہانہ
جہانِ نَو ہو رہا ہے پیدا، وہ عالمِ پِیر مر رہا ہے
جسے فرنگی مُقامِروں نے بنا دیا ہے قِمار خانہ
ہَوا ہے گو تُند و تیز لیکن چراغ اپنا جلا رہا ہے
وہ مردِ درویش جس کو حق نے دیے ہیں اندازِ خسروانہ

✍ *محمد صابر حسین ندوی*
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
21/08/2020

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے