امربالمعروف کے بعض حدودو شرائط

از : حکیم الامت مجددالملت مولانا شاہ

اشرف علی تھانوی نوراللہ مرقدہ ۔

بہت سی اصولی باتیں ان احکام وشرائط کی حضرت نے اپنی کتابوں اور مواعظ میں بیان فرمادی ہیں۔مثلاََ ارشاد فرمایاکہ خطاب عام یاوعظ صرف علماء کا کام ہے۔عوام پرصرف خطاب خاص, وہ بھی زیادہ تر اہل وعیال واتباع کے حق میں واجب ہے یاکوئی بات جو ہم کو معلوم ہےاور دوسرا اس سے لاعلمی کی وجہ سے غلطی یا کوتاہی کررہا ہے, تو اسکو بتادینا واجب ہے اور اگرلاعلمی نہیں, بلکہ سستی, کج فہمی ,جہالت یابدعت وغیرہ میں ابتلا ءکاسبب ہے تو اگر تمہارا اتنااثرہو اورکسی وجہ سے قرائن سے گمان غالب ہو کہ تمہارا کہنا مان لیگا تو ہی واجب ورنہ مستحب, اور اگر قرائن سے گمان غالب ہو کہ ماننا تو کیا الٹا فتنہ وفساد, لڑائی جھگڑے پر آمادہ ہوجائیگا جسکا تم مقابلہ یا تحمل نہیں کرسکتے یا تمہاری کم علمی یا مغلوب الغضب ہو نے کی بنا پر حدود سے نکل جانے کا اندیشہ ہے توایسی صورتوں میں تبلیغ مستحب بھی نہیں۔ بلکہ ممنوع ہے۔ اسلئے کہ جسطرح ہرچیز کے حدود ہیں۔ ألاٰمرون بالمعروف والناّھون عنِ المنکرکے بعد ساتھ ہی, الحافظون لحدوداللہ,, لگاہے, لہذا, امربالمعروف ونہی عن المنکر,, توسرسے پیر تک حدودوضوابط سے مقید ہے, جسکے جاننے کیلئے نصاب الاحتساب کافی ہے.جاہل کو امربالمعروف جائز نہیں۔ کیونکہ وہ اصلاح سے زیادہ فساد کریگا۔ اس سلسلہ میں خود حضرت نے اپنا ایک واقعہ بیان فرمایا ہے.,, ارشاد فرمایا, کہ مکہ میں مجھے ایک جاہل نے امر بالمعروف کیا کہ تم عمامہ کیوں نہیں باندھتے یہ سنت ہے۔ میں نے کہا تم لنگی کیوں نہیں باندھتے یہ بھی سنت ہے ,سوچکر کہنے لگا میں بوڑھا ہوں لنگی مرے جسم پر ٹھر تی نہیں. میں نے کہا, کہ میں جوان ہوں, عمامہ سے گرمی لگتی ہے۔ اسپر بہت جھلائے کہنے لگے خدا کرے تمہارے دماغ میں اورگرمی بڑھ جائے۔بھلا ایسے جاہلوں کو امربالمعروف کیونکر جائز ہو سکتا ہے,

(الحدود والقيود ص٣٥) تجديد تعليم وتبليغ ص١٨٢‘١٨٣

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے