*لاک ڈاؤن نے پوری دنیا کو قید وبند میں مبتلا کردیا ہے، یہ تالا بندی یوں تو ہر ایک کیلئے نفسیاتی اور ذہنی طور پر آزمائش ہے؛ لیکن خواتین کیلئے نفسیاتی اور تشدد کا بھی باعث ہے، آج پوری دنیا میں خواتین پر بند دروازے کے پیچھے تشدد ہورہا ہے، جس کی بنا پر وہ نفسیاتی طور پر عجیب و غریب کشمکش میں مبتلا ہوگئی ہیں، طبعی طور پر بے چینی اور بے اطمینانی کی کیفیت سے دوچار ہیں، وہ اپنے ہی گھروں میں ڈر و خوف کی زندگی جی رہی ہیں، اپنوں کے دوران رہ کر بھی ان پر ذہنی دباؤ بڑھ گیا ہے، افسوس کی بات یہ ہے کہ ان کے پاس کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں ہے، لاک ڈاؤن کے علاوہ دنوں میں وہ پولس، یا رشتہ داروں کی مدد لے سکتی تھیں، گھر چھوڑ کر جا سکتی تھیں، مگر فی الوقت ایسی کیفیت ہے کہ اس کا کوئی حل نہیں ہے، چنانچہ بعض ممالک میں خواتین نے اس تشدد سے بچنے کیلئے گھر کے باتھ روم میں خود کو پوشیدہ کیا، کسی نے اندرون کمرہ اپنے آپ کو بند کر لیا، اقوام متحدہ کے جنرل نے خود اس بات کا اعتراف کیا ہے؛ کہ کرونا وائرس کی مصیبت کے سامنے ایک بڑی مصیبت عورتوں کے ساتھ اس دوران مظالم ہیں، وہ گھروں میں بھی محفوظ نہیں ہیں، پوری دنیا میں گھریلو تشدد کے معاملے میں اضافہ پایا گیا ہے، بی بی سی کے مطابق فرانس میں ایک تہائی کیس، آسٹریلیا میں ٧٥/ فیصد اور لبنان میں دوگنا کیس پائے گئے ہیں، voice of America کی ایک رپورٹ کہتی ہے؛ کہ لاک ڈاؤن کے دوران ارجنٹینا میں بارہ خواتین کو قتل کردیا گیا، اور دیگر ممالک میں ان کے خلاف جرم میں ساٹھ فیصد اضافہ ہوا ہے، روس میں تشدد کے ساتھ ساتھ نوعیت میں بھی فرق پایا گیا ہے، چین کے اندر فروی کے مہینے میں تین گنا زیادہ معاملے درج کئے گئے ہیں، ڈان نیوز کے مطابق عرب ممالک میں بھی گھریلو تشدد میں خاصا اضافہ ہوا ہے، بھارت میں یوں تو کوئی شرح سامنے نہیں ہے؛ لیکن نیشنل وومن کمیشن نے تشویش کا اظہار کیا ہے، اور کہا ہے کہ بھارت میں گھریلو تشدد کے معاملے بڑھے ہیں.*
*یہ سب وہ ممالک ہیں جن کے متعلق عورتوں کو آزادی، ترقی اور مساوات کے خوب چرچے ہوتے ہیں، لیکن حقیقت کچھ اور ہی ہے، امریکہ میں تیزی کے ساتھ ایسے معاملات سامنے آرہے ہیں جن میں ایک مرد نے دوسری خاتون پر گولی چلائی، جو اس کا باپ ہے، بھائی ہے، یا پھر دوست و محوب ہے، افریقی ممالک میں اس وقت سب سے زیادہ خواتین زچگی کے دوران علاج نہ ہوپانے کی بنا پر مر رہی ہیں، کیونکہ کرونا وائرس کی وجہ سے ان پر کوئی توجہ نہیں دے رہا ہے، ظاہر ہے کہ دنیا نے عورت کو صرف ایک ضرورت کے طور پر استعمال کیا ہے، اس سے لذت حاصل کرنے اور کسی بھی طرح اس تک پہونچنے کی کوشش کی ہے، ترقی کا سہارا لیکر انہیں بازاروں میں گھسیٹنے اور اپنی ہوس کا شکار بنانے کا ہدف ٹھہرایا ہے، عورتوں کیلئے عزت و مرتبت کا کوئی سراغ نہیں ہے، ان ترقی یافتہ لوگوں کے دلوں میں عورتوں کیلئے کجی ہے، وہ اب بھی انہیں اپنے غصے اور مطلب کیلئے آسان ٹارگٹ مانتے ہیں، چنانچہ گھروں میں ایک ساتھ ہونے کے باوجود ان میں محبت و مودت کی فضا ہموار ہونے اور ان سے انسیت پیدا ہونے کے بجائے نفرت ہی پیدا ہورہی ہے، لہذا عورتوں کی زندگی محال ہوگئی ہے، اگر قدرتی عذاب انسان کو کھائے جارہی ہے، تو دوسری طرف وہ اپنے ہی پیدا کردہ مردوں کے عذاب سے دوچار ہورہی ہیں، اس ذہنی کشمکش نے کتنی ہی خواتین کو خودکشی کے دہانے پر پہنچا دیا، انہیں ڈپریشن میں ڈال دیا، وہ حرکت قلب کے بند ہوجانے کی وجہ سے مر گئیں، اقوام متحدہ صرف لوگوں کو تلقین کر سکتا ہے، ممالک پولس کو احکام جاری کر سکتے ہیں؛ لیکن لوگوں کا دل کیسے بدلیں گے، اور عورتوں کو تحفظ کیسے فراہم ہوگا؟ اس کا کوئی حل نہیں ہے، بلاشبہ ایسے وقت میں اسلامی تعلیمات کی یاد آتی ہے، جس نے عورت کو دنیا کا سب سے بہترین مخلوق قرار دیا، اس کے ساتھ حسن سلوک کو جنت کا انعام بتلایا، ان کی عزت و توقیر میں حج و عمرہ کی فضیلتیں مربوط کریں.*