???? *صدائے دل ندائے وقت*????(1020)
*ماہ محرم الحرام کی اہمیت سمجھئے!!*
*محرم الحرام کوئی عام مہینہ نہیں؛ بلکہ اسے شھر اللہ کا تمغہ حاصل ہے، یہ ان اشھر حرم میں سے ہے جن میں جنگ حرام ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مہینہ کی بڑی فضیلتیں بیان فرمائی ہیں، اکثر و بیشتر یوم عاشوراء کی اہمیت پر باتیں ہوتی ہیں، بلاشبہ یہ اس کا حق بھی ہے، عبادت و روحانیت کا سبب بھی ہے، قدیم زمانے سے اس دن روزہ کا اہتمام ہوتا آیا ہے، خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس دن کا روزہ رکھا کرتے تھے، چنانچہ آپ نے فرمایا: "مجھے اللہ تعالی سے امید ہے کہ عرفہ کے دن کا روزہ گزشتہ اور آئندہ سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا، اور مجھے اللہ تعالی سے امید ہے کہ یومِ عاشوراء کا روزہ گزشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا” (مسلم:١١٦٢)، ایک دوسری روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ : "میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنوں میں سے عاشوراء اور مہینوں میں سے ماہِ رمضان کے روزوں سے زیادہ کسی دن یا مہینے کے روزے رکھنے کا اہتمام کرتے ہوئے نہیں دیکھا” (بخاری:١٨٦٧)، اس سلسلے میں استاذ گرامی فقیہ عصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی مدظلہ تحریر فرماتے ہیں: "مسنون روزہ یوم عاشوراء (دس محرم) اور اس کے ساتھ نویں یا گیارہویں تاریخ کا روزہ ہے، حضرت ابو قتادہؓ سے مروی ہے کہ آپؐ نے فرمایا: خدا کی ذات سے امید ہے کہ اس دن کا روزہ گزرے ہوئے سال کے گناہوں کے لئے کفارہ ہوجائے گا۔ چوں کہ یہودی بھی اس دن روزہ رکھا کرتے تھے اس لئے آپؐ نے امتیاز کے طور پردس کے ساتھ نو محرم کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا ہے؛ بلکہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے خود آپ کا بھی یہی معمول نقول کیا ہے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتداء یہی روزہ فرض تھا اور ما قبل اسلام ہی سے قریش یہ روزہ رکھا کرتے تھے، بعد کو جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو اس روزہ کی فرضیت منسوخ ہوگئی، امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک تنہا دس تاریخ کو روزہ رکھنا مکروہ ہے، مالکیہ، شوافع اور حنابلہ کے یہاں مکروہ نہیں۔ خیال ہوتا ہے کہ چوں کہ فی زمانہ یہودیوں کے یہاں قمری کیلینڈر مروج ہے اور نہ اس دن روزہ رکھنے کا اہتمام ہے، اس لئے نو تاریخ کو روزہ رکھنے کی اصل علت یعنی یہود سے تشبہ اور مماثلت موجود نہیں، لہذا تنہا دس محرم کو روزہ رکھنا بھی کافی ہے۔ واللہ اعلم” (قاموس الفقہ: جلد٤ لفظ-صوم-).*
*حقیقت یہ ہے کہ یوم عاشوراء حق و باطل کی پہچان، دنیا و آخرت اور عداوت و محبت میں موٹی لکیر ہے، جب جب عاشوراء کی بات ہوگی، حق کا علم یاد آئے گا، فرد واحد (امام حسین رضی اللہ عنہ) کا وقت کے ظالم اور شیطان کے سامنے ڈٹ جانے اور اسلام کا پیغام، نبی مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مطھرہ کی تابندگی اور تازگی کیلئے جان کھپا دینے اور اس راہ میں بلاکسی خوف و تردد کے آتش نمرود میں کود جانے کی داستانیں گردش کریں گی، اور انسان ہمت و طاقت کا ایک مظھر بن کر ابھرے گا؛ لیکن واقعہ یہ ہے کہ یہ پورا مہینہ ہی قابل احترام ہے، یوم عاشوراء کے ساتھ ساتھ شریعت مطہرہ میں محرم کے پورے ہی مہینے کو خصوصی عظمت حاصل ہے، چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کسی شخص نے سوال کیا کہ ماہ رمضان المبارک کے بعد کون سے مہینہ کے میں روزے رکھوں؟ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: کہ یہی سوال ایک دفعہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کیا تھا، اور میں آپ کے پاس بیٹھا تھا، تو آپ نے جواب دیا تھا کہ: انْ کُنْتَ صَائِمًا بَعْدَ شَہْرِ رَمَضَانَ فَصُمِ الْمُحَرَّمَ فانَّہ شَہْرُ اللّٰہِا فِیْہِ یَوْمٌ تَابَ اللّٰہُ فِیْہِ عَلٰی قَوْمٍ وَیَتُوْبُ فِیْہِ عَلٰی قَوْمٍ آخَرِیْنَ․(ترمذی ۱/۱۵۷) یعنی ماہ رمضان کے بعد اگر تم کو روزہ رکھنا ہے تو ماہِ محرم میں رکھو؛ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ (کی خاص رحمت) کا مہینہ ہے، اس میں ایک ایسا دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ایک قوم کی توبہ قبول فرمائی اور آئندہ بھی ایک قوم کی توبہ اس دن قبول فرمائے گا؛ نیز حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: أفْضَلُ الصِّیَامِ بَعْدَ صِیَامِ شَہْرِ رَمَضَانَ شَہْرُ اللّٰہِ الْمُحَرَّمُ․ (ترمذی ۱/۱۵۷) اس کا مطلب یہ ہے کہ ماہ رمضان المبارک کے روزوں کے بعد سب سے افضل روزہ ماہ محرم الحرام کا ہے۔ اسی طرح ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مَنْ صَامَ یَوْمًا مِنَ الْمُحَرَّمِ فَلَہ بِکُلِّ یَوْمٍ ثَلاَثُوْنَ یَوْمًا․ (الترغیب والترہیب ۲/۱۱۴) یعنی جو شخص محرم کے ایک دن میں روزہ رکھے اور اس کو ہر دن کے روزہ کے بدلہ تیس دن روزہ رکھنے کا ثواب ملے گا۔*
✍ *محمد صابر حسین ندوی*
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
29/08/2020