مشترکہ خاندانی نظام قسط نمبر 4

*”مشترکہ خاندانی نظام”، غور و فکر کے چند پہلو”*
(۴)
محمد قمر الزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام کنڈہ، پرتاپگڑھ

غرض خاندان کی طاقت و قوت مسلم ہے، خاندان انسان کی شہرت اور عزت کا ذریعہ بنتا ہے اسے نیک نامی بخشتا ہے، خاندان کی بنیاد پر لوگ سماج اور معاشرے میں پہچانے جاتے ہیں۔ زمانہ جاہلیت میں خاندان کی عزت و احترام کے بقا کے لیے لوگ اپنی جانیں دے دیا کرتے تھے، اگر خاندان کا کوئی فرد مدد اور نصرت کی گہار لگا دیتا یا کسی قوم کے خلاف مدد کی اپیل اور درخواست کرتا ، تو وہ دلیل اور وجہ نہیں معلوم کرتے، فورا مدد کے لیے ٹوٹ پڑتے تھے، عرب میں ہزار جہالت تھی، لیکن خاندانی نظام کا استحکام اور اس کو بہتر اور مضبوط رکھنا، اس کی شہرت و عزت پر آنچ نہ آنے دینا،یہ ان کی خصوصیت ، خوبی اور کمال تھا، خصوصاً چچا اور چچازاد بھائیوں سے محبت و تعلق اور الفت و مودت اور ایک دوسرے کے لیے دل و جان قربان کر دینے کی مثال اس قدر ہے کہ اس کو بیان کرنا مشکل ہے، جاہلی شعراء کے کلام میں ہزاروں اشعار موجود ہیں، جس کا پس منظر مشکل موقع پر خصوصا جنگ کے موقع پر خاندان کی مالی، جسمانی اور دفاعی مدد کے نمونے موجود ہیں، بعض شعراء کو جب ان کی بیویوں نے خاندان کی مدد اور چچا زاد بھائیوں کے لیے داد دہش پر کوسا، سخت سست اور برا بھلا کہا تو انہوں نے اپنے رویہ اور روش میں کوئی تبدیلی نہیں کی ، بلکہ داد و دہش اور عطیات میں اور اضافہ کر دیا اور صاف کہہ دیا کہ اگر تمہیں میرے ساتھ رہنا ہے تو رہو ورنہ رشتہ زوجیت ختم کر لو میں اپنے خاندان کی مدد اور نصرت و حمایت ترک نہیں کرسکتا میں اپنے چچا زاد بھائیوں کو بے یارو مددگار نہیں چھوڑ سکتا، اس موقع پر جو اشعار کہہ کر انہوں نے خاندان کی عظمت و اہمیت کو اجاگر کیا ہے اور ان کے کوسنے کی کوئی پرواہ نہیں کیا، وہ بہت ہی خاصا کی چیز ہے۔۔۔
میں نے اوپر بھی ذکر کیا تھا کہ خاندان کسی بھی قوم کا اہم ترین اور بنیادی ادارہ ہوتا ہے، اور نظام خاندان قوم کی تہذیب و تمدن اور معاشرتی اقدار و روایات کو استحکام عطا کرتا ہے، چنانچہ زمانہ قدیم سے یہ تصور چلا آرہا ہے کہ خاندان جتنا مضبوط ہوگا، قوم کی بنیاد اتنی ہی مضبوط ہوگی۔۔۔
قرآن مجید، خاندان کا ایک وسیع اور جامع تصور رکھتا ہے، اس کے نزدیک خاندان معاشرے کا اہم اور بنیادی ادارہ ہے۔ جس کی بہتری اور ابتری پر معاشرے کے مستقبل کا انحصار ہوتا ہے، اسی وجہ سے قرآن مجید میں خاندان کے استحکام کی طرف خصوصی توجہ دی گئی ہے۔۔۔ تاکہ اس کی تعلیمات کی روشنی میں ایک مضبوط اور مستحکم اور صالح معاشرہ وجود میں آئے جو انفرادی و اجتماعی حقوق و فرائض کے تحفظ کی ضمانت فراہم کرے۔۔۔ ( مستفاد ندائے اعتدال شمارہ مارچ ۔ اپریل ۲۰۱۴ء)
” :خاندانی نظام کا ڈھانچہ :”

اوپر کی تفصیلات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ خاندانی نظام کو بڑی اہمیت اور مقام حاصل ہے، اور جس طرح انسان کی ذاتی اور نجی زندگی کے لیے خاندان کی ضرورت ہے، اسی طرح دینی مقاصد میں اس کی بڑی اہمیت ہے، یہاں یہ بھی واضح ہو جائے کہ انسانی خاندان کی بنیاد تین حصوں میں محیط ہے۔۔۔۔۔۔۔
دادیھال، نانیہال اور سسرال۔۔۔۔۔۔۔۔ دادیہال اور نانیہال ماں باپ کی طرف سے ہوتے ہیں جن کو نسبی رشتہ کہا جاتا ہے، اور سسرال شوہر و بیوی کی طرف سے ہوتا ہے جسے قرآنی اصطلاح میں صھر کہا جاتا ہے۔
اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
و ھو الذی خلق من الماء بشرا فجعلہ نسباً و صھرا و کان ربک قدیرا * (الفرقان ۵۴)
اور وہی ہے جس نے انسان کو پانی سے پیدا کیا پھر اس کو خاندان والا اور سسرال والا بنا دیا، اور آپ کا پروردگار بڑی قدرت والا ہے۔

و اللہ جعل لکم من انفسکم ازواجا، و جعل لکم من ازواجکم بنین و حفدة و رزقکم من الطیبات۔۔۔۔( النحل ۷۲)
اور اللہ نے تم ہی میں سے تمہارے لئے بیویاں بنائیں اور تمہارے لئے تمہاری بیویوں سے بیٹے اور پوتے پیدا کئے، اور تمہیں لذیذ چیزیں کھانے کو دیں۔
و من آیاتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنوا الیہ و جعل بینکم مودة و رحمۃ ان فی ذلک لآیات لقوم یتفکرون۔ (انعام ۲۱)
اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ تم میں سے تمہارے واسطے جوڑے بنا دئیے کہ ان کے پاس چین و سکون سے رہو اور تمہارے بیچ میں پیار و محبت اور مہربانی رکھی، البتہ اس میں بہت پتے کی باتیں ہیں ان کے لیے جو دھیان کرتے ہیں،۔۔
*و اولو الارحام بعضھم اولی ببعض فی کتاب اللہ* (الاحزاب /۹)

اور قرابت والے ایک دوسرے سے لگاو رکھتے ہیں اللہ کے حکم میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے