مشترکہ خاندانی نظام میں مالی خسارہ

” *مشترکہ خاندانی” نظام غور و فکر کے چند پہلو* "
(14)
محمد قمر الزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام، کنڈہ، پرتاپگڑھ

*مشترکہ خاندانی نظام میں مالی خسارہ*

اگر مالیاتی اعتبار سے مشترکہ خاندانی نظام کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس نظام کا مطلوب یہ ہوتا ہے کہ گھر کا کمانے والا اپنی کمائی گھر کے مکھیہ یا نگراں اور ذمہ دار کے پاس جمع کرے،۔ انسان کی فطرت یہ ہے کہ وہ اپنی کمائی اپنے فائدے کے لیے استعمال میں دیکھنا چاہتا ہے، اس لیے اس نظام پر سو فیصد عمل کرنا اس کے لیے بے حد دشوار معلوم ہوتا ہے، چنانچہ وہ اپنی کمائی کا ایک حصہ خاندان کے مکھیہ اور سربراہ کے حوالے کرتا ہے تو ایک حصہ مخلتف چور دروازوں کو استعمال کرکے الگ پس انداز کرتا ہے، چونکہ کمائی میں یکسانیت اور برابری نہیں ہوتی، سب کی صلاحتیں اور مواقع یکساں نہیں ہوتے اس لیے دیر یا سویر اس غیر فطری نظام کا شیرازہ بکھرتا ہے، تو جو جتنا مخلص، گھر کے لیے خیر خواہ اور اپنے اہل و عیال کے مفادات سے جتنا لا پرواہ ہوگا انجام کار حسرت و ندامت بھی اس کے حصہ میں زیادہ سے زیادہ آئے گی۔۔۔۔
سینکڑوں مثالیں آس پاس میں مل جائیں گی کہ مشترکہ خاندان میں رہتے ہوئے کسی نے اپنی گاڑھی کمائی جھونک دی، پیسہ کو پیسہ نہیں سمجھا، لیکن اسی نظام میں بعض فریق نے چپکے چپکے اپنی زمین اور جائداد بنانا شروع کیا اور گھر کے دیگر لوگوں کو بھنک تک نہیں لگی، بعد میں جب خاندان تقسیم ہوا اور اور جائیداد تقسیم کا وقت آیا تو آپس میں وہ نزاع، لڑائی اور اختلاف ہوا کہ پھر ہمیشہ کے لیے تعلقات ختم ہوگئے، اور افراد خاندان خود باہم ایک دوسرے کے دشمن ہوگئے، بعض اوقات مقدمات عدالت میں پیش ہوئے اور ہنوز مقدمات جاری ہیں، ان مقدمات میں فریقین اپنی گاڑھی کمائی برباد کر رہے ہیں۔
مشترکہ نظام میں رہتے ہوئے کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ گھر کے افراد گھر کے مکھیہ اور نگران پر مکمل اعتماد کر لیتے ہیں، سب کی محنتوں اور کوششوں سے رقم اکھٹا ہوتی ہے تاکہ رہائش یا کھیتی کے لئے زمینیں خریدی جائیں، زمین کی خریداری اور رجسٹری کے وقت کبھی ایسا ہوتا ہے کہ گھر کا مکھیہ اپنے ہی نام سے رجسٹری کرلیتا ہے، بھائیوں کا نام اس میں شامل نہیں کرتا، یا اس میں وغیرہ وغیرہ نہیں لکھواتا، بھائیوں کو اعتماد ہوتا ہے کہ ان کا نام بھی ضرور شامل ہوگا ، اس لیے زیادہ دھیان نہیں دیتے، لیکن جب تقسیم کا وقت آتا ہے اور برادران باہم علاحدہ ہونے لگتے ہیں تو اس وقت مسئلہ کھڑا ہوتا ہے، بسا اوقات اس جائداد کو اس کے بچے اپنے چچا اور چچا زاد بھائیوں کو دینے سے انکار کر دیتے ہیں۔۔۔۔
مشترکہ خاندان میں کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جن بھائیوں میں فکری اور ذھنی مناسبت ہوتی ہے مشترکہ خاندان سے تقسیم اور عیلحدگی کے وقت وہ اپنا الگ محاذ بنا لیتے ہیں اور جو بھائی طاقت اور حیثیت کے اعتبار سے کمزور ہوتے ہیں ان کے ساتھ نا انصافی کرتے ہیں، اپنی مرضی سے فیصلہ کرتے ہیں، کبھی بنا بنایا مکان اور باغ باغیچہ میں اس کو حصہ نہیں دیتے اور اس کو اس کے بدلے میں خالی زمین دیتے ہیں، پھر پوری زندگی بھائیوں مین خلیج اور دوری بنی رہتی ہے ، ان میں ہر ایک اپنے کو مظلوم ثابت کرتے ہیں اور ہرکس و ناکس کے ساتھ اپنی مجبوری اور داستان مظلومیت بیان کرتے پھرتے رہتے ہیں۔ ہمارے ایک بے حد قریبی رشتہ دار ہیں، ان سے جب بھی ملاقات ہوتی ہے علیک سلیک کے بعد وہ اپنے بھائیوں کی داستان ظلم و ستم بیان کرنے لگتے ہیں، رو کر گا کر ایکٹنگ کے ساتھ جب وہ اپنی مظلومیت بیان کرتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ دنیا میں اس سے زیادہ مظلوم کوئی اور نہیں ہے، لیکن اپنی کوئی غلطی اور کمی نہیں بتاتے لگتا ہے کہ بالکل فرشتے ہیں۔ یہ سب مشترکہ خاندانی نظام کے منفی اثرات ہیں، اگر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں خاندانی نظام کو برتا جائے اور پہلے سے سارے معاملات شریعت کی روشنی میں طے ہو تو، بعد میں اس طرح کے حالات ہی نہ آئیں اور وہ دن نہ دیکھنا پڑے کہ بھائی بھائی اور خاندان کے سارے افراد ایک دوسرے کے دشمن بن جاتے ہیں اور تلخیوں کا دور شروع ہوتا ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔۔۔۔

*افراد خاندان میں فرق و امتیاز*

مشترکہ خاندان کے تمام افراد کے درمیان بظاہر یکساں سلوک ہوتا ہے، دیکھنے میں ایسا ہی لگتا اور محسوس ہوتا ہے ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ شعوری یا لا شعوری طور پر زیادہ کمانے والے کو کم کمانے والے کے مقابلہ میں زیادہ اہمیت اور عزت و توقیر حاصل ہوتی ہے، اور یہ عزت و توقیر اس کی بیوی بچوں تک کو مشتمل ہوتی ہے، ایسے نظام میں وہ بچے جن کے والدین زیادہ پیسے کماتے ہیں یا وہ بیوی جن کے شوہر گھر میں زیادہ آمدنی کا ذریعہ ہیں، شان و شوکت اور رعب و دبدبہ سے رہتے ہیں، ایسی بیویاں دوسری عورتوں کو جن کے شوہر ان کے شوہر کے مقابلہ میں کم کماتے ہیں طعنے دیتی ہیں اور اپنی شان امتیازی ظاہر کرتی ہیں۔ کبھی بچوں کے درمیان بھی باہم فرق روا رکھا جاتا ہے تمام تر مشترکہ خاندانی نظام کے ہوتے ہوئے بھی مالدار بیٹوں کے بچے دادا دادی کی نظر میں زیادہ محبوب ہوجاتے ہیں، کیونکہ ان کے والد جتنا گھر میں دیتے ہیں کمائی کے اعتبار سے کمزور لڑکے اتنا لاکر نہیں دے پاتے، گھر کے باشعور بچے بھی اس کو محسوس کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے