مشترکہ نظام میں حدود اللہ کی خلاف ورزی

*”مشترکہ خاندانی نظام” غور و فکر کے چند پہلو”*

(16)

” *محمد قمر الزماں ندوی* "
*مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ*

*”مشترکہ نظام میں حدود اللہ کی خلاف ورزی”*

مشترک خاندان کے اصول، خد و خال اور ترکیبی ہئیت پر غور کیجئے تو سب سے بڑا اور تشویش ناک مسئلہ اللہ کے حدود کی حفاظت اور پاسداری ہے۔۔ اللہ تعالیٰ کو فرد اور معاشرہ کی طہارت و پاکیزگی اور تزکیہ مطلوب ہے، وہ گندگی، فحاشی،عریانیت اور بے حیائی کو سماج اور معاشرت سے ختم کرنا چاہتا ہے۔۔۔۔
اللہ تعالیٰ کو یہ بات قطعی پسند نہیں کہ معاشرہ اور سماج بے حیائی، بے شرمی اور گندگی کے کاموں میں مشغول اور ملوث ہو۔۔ چنانچہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسلامی طرز معاشرت کو ان بنیادوں پر استوار کیا ہے، جس میں ان محرکات و امکانات کا بھی سد باب ہوگیا ہے، جو فتنوں کی پرورش کرتے اور فحاشی و عریانیت کو پروان چڑھاتے ہیں۔۔ سورہ نور جو معاشرتی اور سماجی سورہ کی تذکیر ہے، اس سورہ میں اللہ تبارک وتعالی نے ارشاد فرمایا:
اے ایمان والو! اپنے گھروں کے علاوہ دوسرے گھروں میں مت داخل ہو، سوائے اس کے کہ ان گھرانوں سے اجازت حاصل کر لو۔۔ اور ان سے سلام کر لو یہی تمہارے لئے بہتر ہے، امید کہ تم اس کا خیال رکھو گے۔۔ (سورہ نور ٢٧)
اور اے نبی! اہل ایمان خواتین سے کہہ دیجئے اپنے دو پٹے اپنے سینوں پر ڈالیں رہا کریں۔۔ اپنی آرائش کسی پر ظاہر نہ ہونے دیں، سوائے شوہروں، اپنے باپ، شوہر کے باپ، اپنے بیٹوں اور شوہروں کے بیٹوں اپنے شوہروں کے بیٹوں، بھائیوں، بھتیجوں، بھانجوں، اپنی عورتوں، لونڈیوں اور ان بچوں کے جو عورتوں کے اسرار راز اور بھید سے ناواقف ہیں۔۔ ا(سورہ لنور ٣١)
سورئہ نور کے اندر اور بھی بہت سی آیتیں اور ارشادات ہیں، جو نفس مسئلہ پر اچھی طرح وضاحت کرتے ہیں اور روشنی ڈالتے ہیں، مگر ان میں سے صرف دو آیتوں پر غور کیجئے، اہل ایمان کو صرف اپنے گھروں اور بیوی بچوں میں بلا تکلف آنے جانے کی اجازت دی گئی ہے، مگر دوسروں کے گھروں اور بیویوں سے اختلاط پر پابندی لگائی گئی ہے۔ بے ڈھڑک جب چاہو، کسی کے گھر میں داخل نہیں ہوسکتے، اجازت حاصل کرنا ضروری ہے، اور اگر اجازت نہ ملے تو واپس لوٹ جاو۔۔۔
اسی طرح اہل ایمان خواتین کو اپنی آرائش و زیبائش کے بے محابہ نمود و اظہار پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔۔ وہ صرف اپنے شوہر اور محرم مردوں کے سامنے ہی بے حجاب اور آرائش کے ساتھ آسکتی، ہیں، اب غور کیجئے کہ مشترکہ خاندان میں کیا ان اصولوں کی پابندی اور پاسداری ممکن ہے۔۔۔۔ اور عملا ایسے خاندان میں کیا حدود اللہ توڑے نہیں جا رہے ہیں؟ کیا اسلامی طرز معاشرت کی دھجیاں نہیں اڑ رہی ہیں، کیا غیر محرم کا بے جا آنا جانا نہیں ہوتا ؟ اور پھر جو فتنے آئے دن برپا ہوتے ہیں، اس سے کون انکار کر سکتا ہے؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے