وکیل نے دوسرے خاندان میں شادی کرادی

مؤکل نے وکیل بناتے وقت وکیل سے کہا کہ میری شادی فلانے قبیلے میں اور فلاں برادری میں کرا دینا لیکن انہوں نے اس کی مرضی کے خلاف دوسرے خاندان اور دوسری برادری میں اس کی شادی کرادی تو یہ نکاح جائز نہیں ہوگا۔
واللہ اعلم بالصواب۔
(مستفاد: کتاب المسائل
فتاویٰ ہندیه جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 296 فتاوی تاتارخانیہ جلد نمبر 4 صفحہ نمبر 147
ناقل✍ہدایت اللہ قاسمی
خادم مدرسہ رشیدیہ ڈنگرا،گیا،بہار
HIDAYATULLAH
TEACHER MADARSA RASHIDIA DANGRA GAYA BIHAR INDIA
نــــوٹ:دیگر مسائل کی جانکاری کے لئے رابطہ بھی کرسکتے ہیں
CONTACT NO
6206649711
????????????????????????????????????????????????

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے