گھر کا سربراہ کون مرد یا عورت

*گھر کا سربراہ کون، مرد یا عورت ؟*
(٢)

*محمد قمرالزماں ندوی*
*مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ*

*اللہ تعالیٰ* نے مرد اور عورت کو بے شمار صلاحیتوں اور انگنت خصوصیات و امتیازات سے نوازا ہے، بعض خصوصیات میں دونوں باہم مشترک ہیں، اور بہت سی خصوصیات میں دونوں ایک دوسرے سے ممتاز اور علحیدہ ہیں، لیکن مجموعی طور پر مرد کو عورت پر قوامیت اور حاکمیت کا درجہ حاصل ہے۔ مردانہ قوت و دماغی صلاحیت میں مرد عورت سے خلقی طور پر ممتاز ہے۔ اسی عورت کو بہت سے امور کا مکلف اسکی فطری کمزوری اور مخصوص تعلیمات کی وجہ سے جو اسلام نے عورت کی عفت و حیا اور اس کے تقدس کے تحفظ کے لیے ضروری بتلاءی ہیں نہیں بنایا اور اس کا مکلف صرف مرد کو بنایا۔
استاد محترم جناب مولانا برہان الدین صاحب سنبھلی رح نے سورہ نساء کی مذکورہ آیت کی تفسیر میں دوران درس فرمایا تھا کہ من حیث المجموع وہبی اور کسبی دونوں اعتبار سے مرد عورت سے عقل و شعور ذھن و دماغ اور صلاحیت و استعداد کے اعتبار سے فاءیق اور نمایاں و ممتاز ہے۔ ہاں بعض استثنائی مثالیں ہیں کہ بعض عورتیں ہزاروں مردوں پر بھاری ہوجاتی ہیں۔ مثال کے طور پر ایک زمانہ میں وزیراعظم اندرا گاندھی تھیں جو ہزاروں مرد پر بھاری تھیں۔
یہ سچ ہے کہ ایک مخصوص داءیرے میں عورت کے اندر کوئی صلاحیت نمایاں ہوتی ہے، لیکن اس داءیرے اور حدود کے باہر پھر وہ پیچھے ہو جاتی ہے۔ مثال کے طور افراد خانہ کے لیے اور دس بیس مہمانوں کے لیے عورت بہترین کھانا اور ڈش تیار کرلیتی ہے وہاں وہ اپنے ہنر میں ممتاز رہتی ہیں ، لیکن دو سو چار سو اور ہزار لوگوں کے لیے کھانہ بنانا اس کے بس میں نہیں ہے، وہاں اس مورچہ کو مرد ہی سنبھالتا ہے، وہ اپنے گھر کی زیب و زینت اور رکھ رکھاو تو عمدہ انداز سے کرسکتی ہے، لیکن ہزاروں کے مجمع کا انتظام و انصرام اور ڈیکوریش وہ نہیں کرسکتی، اس مورچہ کو مرد ہی کو سنبھالنا ہوتا ہے۔ آپ سب اس کا مشاہدہ کرتے رہتے ہیں۔
معلوم یہ ہوا کہ قوام یعنی ایک بہترین منتظم،نگراں، محافظ، مدبر، اور ناظم و محاسب بننے کی تمام صلاحیتیں مرد کے اندر عورت سے زیادہ ہے۔
چنانچہ *حافظ ابن کثیر رح* نے لفظ *قوام* کی تشریح میں لکھا ہے:
*ای ھو رئیسھا و کبیرھا و الحاکم علیھا و مودبھا اذا اعوجت*
یعنی مرد عورت کا سربراہ ہے ،اس پر حاکم ہے اور غلط روی کی صورت میں اس کو ادب سکھانے والا ہے ۔
خلاصہ یہ کہ شریعت اسلامی میں مرد کو عورت کے مقابلے میں یہ جو مقام ملا ہے اس کی اللہ تعالی نے دو وجہیں بیان فرمائیں ایک وہبی ،خداداد اور دوسرا کسبی و اختیاری، وہبی اور فطری یہ کہ اللہ تعالی نے مرد کو عورت پر بڑائ دی، بعض مرد کو جسمانی و عقلی قوتیں عورت سے زائد اور بہتر عطا فرمائیں جس کے نتیجہ میں مرد علمی و عملی کمالات میں عورت سے فائق ہوا ۔ اور ظاہر ہے کہ علمی و عملی کمالات ہی پر ترقئ درجات کا انحصار ہے ۔ ماضی قریب کے مشہور عالم دین اور مفسر قرآن علامہ رشید رضا مصری رح لکھتے ہیں :
*مرد کے اعضاء عورت کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہیں، مرد کے جسم کا تناسب عورت کے مقابلہ میں زیادہ حسین ہے ،اور یہ بات تمام حیوانات میں پائ جاتی ہے ۔ مرغا، مرغی سے ،بھیڑ بھیڑی سے اور شیر شیرنی سے زیادہ حسین ہوتا ہے،نیز مرد کا مزاج عورت کے مزاج سے زیادہ کامل و معتدل ہے، اعضاء کی قوت اور مزاج کے اعتدال پر عقلی و فکری قوتوں کا کمال منحصر ہے ۔ اطباء کا مشہور قول ہے کہ صحیح جسم میں صحیح عقل ہوتی ہے ،جسمانی اور عقلی قوتوں کے اس کمال کا قدرتی ثمرہ یہ ہے کہ مرد زندگی کی جدو جہد میں حصہ لینے کے لئے عورت سے زیادہ صلاحیت رکھتا ہے ۔ اور کسب و ایجاد اور انتظام و تدبر امور پر بہتر طور پر قادر ہے*
(تفسیر المنار از رشید رضا مصری)
کسبی و اختیاری یہ ہے کہ مرد حکم خدا وندی کی تعمیل میں عورتوں کو مہر ،پوشاک اور رہائش وغیرہ مہیا کرتے ہیں اور ان کی تمام خانگی و معاشی ضروریات کے کفیل ہیں ۔ اگر مرد ایسا نہ کرے تب بھی وہ فطرت کے تقاضوں کے مطابق عورتوں کے نگران اور حاکم ہی رہتے ۔
*بہرحال* ان وہبی و کسبی وجوہ فضیلت کی بنا پر اسلام نے مردوں کو عورتوں کی ذمہ داری، نگرانی سرداری کے مقام پر فائز فرمایا ۔
*مولانا زین العابدین سجاد میرٹھی رح* مرد اور عورت کے باہم تقسیم کار کے حوالے سے لکھتے ہیں :
*گھر کے مختصر سے معاشرہ میں بھی مرد کو ریاست کا درجہ عطا فرمایا، کسب معاش کا بوجھ اس کے کاندھے پر ڈالا اور خاندان کی صلاح و فلاح اور ان کی حفاظت و حمایت کی ذمہ داری اس کے سپرد کی اور ملک و ملت کی وسیع سوسائٹی میں بھی دشمنوں سے حفاظت، تدبیر امور مملکت اور عمومی نظم و نسق کی گراں بار ذمہ داریاں مرد کے سپرد کیں چنانچہ جس طرح امامت کبری (نبوت) اور امامت صغری (نماز کی امامت) مردوں سے متعلق رہی ہیں اسی طرح خلافت امارت اور قضا کے فرائض بھی مردوں ہی کے سپرد کئے ہیں ۔ *حافظ ابن کثیر رح* لکھتے ہیں :
*ولھذا کانت النبوة یختصه بالرجال و کذلک الملک الاعظم بقوله صلی اللہ علیه وسلم لن یفلح قوم ولوا امرھم امرأة (رواہ البخاری ) وکذا منصب القضا و غیرہ.
اور انہی وجوہ سے نبوت مردوں کے ساتھ مخصوص رہی ہے اور اسی طرح خلافت و امارت ،کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ قوم ہرگز فلاح نہ پائے گی جس نے اپنے امور مملکت عورتوں کے سپرد کر دیئے ۔ اور اسی طرح قضا وغیرہ کے مناصب بھی مردوں سے متعلق رہے ہیں ۔
البتہ ملک و ملت کے وہ مسائل جو عورتوں ہی سے متعلق ہیں، ان میں عورتوں کی مدد لی جاسکتی ہے اور ضرورت پڑنے پر وقتی طور پر دوسری ذمہ داریاں بھی عورتوں کی صنفی خصوصیات کو ملحوظ رکھتے ہوئے عورتوں کے سپرد کی جاسکتی ہیں ۔ اس فرق مراتب اور تقسیم فرائض سے عورتوں کے احترام اور ان کی عزت و حرمت میں کسی قسم کی کمی نہیں آتی ۔ ( قاموس القرآن صفحہ ۴۲۹ از مولانا زین العابدین سجاد میرٹھی رح)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*سورہ نساء* کی مذکورہ آیت کریمہ سے یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ عورت کی سربراہی اور اس کا زمام اقتدار سنبھالنا از روئے شرع درست نہیں ہے ۔ اور عورت کی سربراہی کے خلاف قرآن کریم کی یہ نص، نص قطعی کے درجہ میں ہے ،جس کی تائید صحیح بخاری کی اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ۰۰ وہ قوم ہرگز فلاح یاب اور کامیاب و کامران نہیں ہوگی جس بے اپنے امور عورت کے سپرد کر دیئے ۔
بعض حضرات حضرت عائشہ رضی عنہا کی جنگ جمل میں شرکت اور گروپ کی قیادت سے خواتین کے لئے سیاسی اور عسکری قیادت کا جواز ثابت کرتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ کے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی جنگ جمل میں شرکت قائد فوج کی حیثیت سے نہیں تھی اور نہ سپاہی کی حیثیت سے وہ شریک ہوئ تھیں ،حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا مقصد محض قتل عثمان ( رضی اللہ عنہ) کے قصاص کا مطالبہ تھا، اس کے علاوہ اکثر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور دوسری ازواج مطہرات کو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے اس اقدام سے اتفاق نہیں تھا، اور خود ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھی اپنی اس اجتہادی غلطی کا احساس ہو گیا تھا اور مہم میں شرکت پر آپ کو پچھتاوا تھا ،اس لئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس عمل سے عورت کے لئے حکومت و سیاست کا جواز فراہم کرنا محض حقیقت کو منھ چڑھانا ہے ،جب مذہب اسلام نے عائلی نظام کے لئے مرد کو سربراہ کی حیثیت سے منتخب کیا تو یہ کیوں کر ممکن ہے کہ وہ خواتین کو گھر سے بے گھر کرکے حکومت و مملکت کا بار گراں صنف نازک کے کندھے پر ڈال دے اور وضع الشئی علی غیر محلہ کا مصداق قرار پائے ۔
مضمون کو ختم کرنے سے پہلے ایک اور نکتہ کی طرف اشارہ کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے وہ یہ کہ خدائے وحدہ لا شریک نے انسانوں کے درمیان صلاحیتوں کو تقسیم کر دیا ہے تاکہ دنیا کا نظام مستحکم و منظم اور مرتب انداز میں چلتا رہے اور اسی تقسیم کی طرف قرآن حکیم میں یوں اشارہ کیا گیا ہے ۔ *ولا تتمنوا ما فضل اللہ به بعضکم علی بعض للرجال نصیب مما اکتسبوا و للنساء نصیب مما اکتسبن و اسئلوا اللہ من فضله ان اللہ کان بکل شئی علیما* ( سورہ نساء آیت ۳۲)
اور جو کچھ اللہ تعالی نے تم میں سے کسی کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ دیا ہے اس کی تمنا نہ کرو ،جو کچھ مردوں نے کمایا ہے اس کے مطابق ان کا حصہ ہے اور جو کچھ عورتوں نے کمایا ہے اس کے مطابق ان کا حصہ ہے ،ہاں اللہ تعالی سے اس کے فضل کی دعا مانگتے رہو یقینا اللہ تعالی ہر چیز کا علم رکھتا ہے ۔
*مولانا امین احسن اصلاحی رح* اس آیت کریمہ کی تفسیر کے ضمن میں تحریر فرماتے ہیں:
*قرآن نے اس ایت میں یہی بتایا ہے کہ مقابلہ کا میدان پیدائشی صفات یا فطری ترجیحات کا نہیں بلکہ اکتسابی صفات کا میدان ہے ، یہ میدان نیکی،تقوی ،عبادت، ریاضت،توبہ اور جامع الفاط میں ایمان و عمل صالح کا میدان ہے ،اس میں بڑھنے کے لیے کسی پر روک نہیں، مرد برھے وہ اپنی جدوجہد کا ثمرہ پائے گا، عورت بڑھے گی وہ اپنے سعی کا پھل پائے گی ،آزاد ،غلام باندی،شریف،کمینہ ،بینا،نابینا سب کے لئے میدان یکساں کھلا ہوا ہے ،خدا نے طبعی طور پر فضیلتیں بانٹی ہیں، ان سے ہزار درجے زیادہ اس کا فضل یہاں ہے،جو فضیلت کے طالب ہیں وہ اس میدان میں اتریں اور خدا کے فضل کے طالب بنیں* ۔
(تدبر قرآن جلد دوم صفحہ ۶۲)

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے