گھر سے باہر نکلتے ہی آپ کا دو قسم کی عورتوں سے سامنا ہوتا ہے

گھر سے باہر نکلتے ہی آپ کا دو قسم کی عورتوں سے سامنا ہوتا ہے

*???? پہلی قِسم:*
ان عورتوں کی ہے جو عزیزِ مصر کی بیوی والی بیماری کا شکار ہیں. خوب بن سنور کر خوشبو لگائے بے پردہ….. زبانِ حال سے کہہ رھی ہوتی ہیں.
*هَيْتَ لَكَ (یوسف :23)*
*لو آجاؤ.*

*???? دوسری قِسم:*
وہ عورت جو ستر و حجاب کی پابند، لیکن کسی مجبوری نے اسے گھر سے نکالا…. وہ زبانِ حال سے کہہ رھی ہوتی ہے.
*لَا نَسْقِي حَتَّىٰ يُصْدِرَ الرِّعَاءُ ۖ وَأَبُونَا شَيْخٌ كَبِيرٌ (القصص: 23)*
*جب تک یہ چرواہے واپس نہ لوٹ جائیں ہم پانی نہیں پلاتیں اور ہمارے والد بہت بڑی عمر کے بوڑھے ہیں.*

*????پہلی قِسم کی عورتوں سے* آپ وہی معاملہ کریں، جو حضرت یوسف علیہ السلام نے کیا تھا، یعنی کہیں؛
*مَعَاذَ اللَّهِ ۖۖ (یوسف :23)*
*اللہ کی پناہ!*

*????دوسری قِسم کی عورتوں سے* آپ وہی معاملہ کریں جو موسی علیہ السلام نے کیا تھا، یعنی ادب و احترام سے ان کی مدد کریں اور اپنے کام میں مشغول ہو جائیں اور اللہ کا فرمان یاد کریں؛
*فَسَقَىٰ لَهُمَا ثُمَّ تَوَلَّىٰ إِلَى الظِّلِّ (القصص:24)*
*پس آپ نے خود ان جانوروں کو پانی پلا دیا پھر سائے کی طرف ہٹ آئے.*

*????کیونکہ یوسف علیہ السلام اپنی عفت و پاک دامنی کی بناء پر عزیزِ مصر???? بن گئے تھے.*
اور
*???? حضرت موسی علیہ السلام کے حسنِ تعامل کی بناء پر اللہ نے انہیں نیک بیوی اور پاکیزہ رہائش عطا فرمائی۔۔۔۔۔*????????????????????????محمداسماعیل شہزاد????????????????????

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے