???? *آج کی تاریخ* ????
☪ ٢ذی قعدہ١٤٤٠ھ
???? 6جولائی2019
???? بروز۔ *سنیچر* ؛
????کتاب المعاملات والمعاشرت????
???? *حدیث النبیﷺ*
???? *..نکاح اور شادی کی ذمہ داری* ????
????..حدیث نمبر: 1396
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” مَنْ وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ فَلْيُحْسِنِ اسْمَهُ وَأَدَبَهُ، فَإِذَا بَلَغَ فَلْيُزَوِّجْهُ فَإِنْ بَلَغَ وَلَمْ يُزَوِّجْهُ فَأَصَابَ إِثْمًا، فَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى أَبِيهِ ” (رواه البيهقى فى شعب الايمان)
ترجمہ:حضرت ابو سعید خدری اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ : جس کو اللہ تعالیٰ اولاد دے تو چاہئے کہ اس کا اچھا نام رکھے اور اس کو اچھی تربیت دے اور سلیقہ سکھائے ، پھر جب وہ سن بلوغ کو پہنچے تو اس کے نکاح کا بندوبست کرے ، اگر (اس نے اس میں کوتاہی کی اور) شادی کی عمر کو پہنچ جانے پر بھی (اپنی غفلت اور بےپروائی سے) اس کی شادی کا بندوبست نہیں کیا اور وہ اس کی وجہ سے حرام میں مبتلا ہو گیا تو اس کا باپ اس گناہ کا ذمہ دار ہو گا ۔ (شعب الایمان للبیہقی).أوکماقال النبی ﷺ۔
(مستفاد:معارف الحدیث
???? *۔معارف الحدیث حدیث نمبر۔۔١٣٩٦۔* ????
????????????????????????????????????????????????
????کتاب النکاح ????
???? *آج کامسٸلہ* ????
???? *۔کیا لڑکی سے اجازت لیتے وقت گواہوں کی موجودگی شرط ہے۔* ؟????
???? ۔وکیل جب لڑکی سے اجازت لینے کے لئے جائے تو اس وقت گواہوں کی موجودگی شرط نہیں ہے یعنی وکالت کی درستگی کے لیے گواہ شرط نہیں ہے تاہم اگر احتیاطاگواہ لے لیے جائیں تو منع نہیں ہے لیکن یہ سب لڑکی کے محرم ہونے چاہیے۔۔واللہ اعلم بالصواب۔
(مستفاد:کتاب المساٸل
???? *۔۔۔فتاوی شامی جلد نمبر 4 صفحہ نمبر 221 الفقہ الاسلامی وادلہ جلد نمبر 7 صفحہ نمبر 219*????
*اسکو پڑھئے، سمجھئے،عمل کیجٸے،اورآگےبھیجئے*
ناقل✍ھدایت اللہ۔خیرون۔گریڈیہ۔جھارکھنڈ. خادم مدرسہ رشیدیہ ڈنگرا،گیا،بہار
HIDAYATULLAH
KHERON BAGODIH SURIYA GIRIDIH JHARKHAND INDIA PIN NO 825320
TEACHER MADARSA RASHIDIA DANGRA GAYA BIHAR INDIA
نــــوٹ:دیگر مسائل کی جانکاری کے لئے رابطہ بھی کرسکتے ہیں
CONTACT NO
????+916206649711
????????????????????????????????????????????????