آج کی تاریخ

???? *آج کی تاریخ* ????
☪ ٩ ذی قعدہ١٤٤٠ھ

???? 13 جولائی2019

???? بروز۔ *سنیچر.* ؛

????کتاب المعاملات والمعاشرت????
???? *حدیث النبیﷺ*
???? *..جنت ماں کے قدموں میں ہے* ????
????…حدیث نمبر: 1403
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ السَّلَمِيِّ، أَنَّ جَاهِمَةَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَدْتُ أَنْ أَغْزُوَ وَقَدْ جِئْتُ أَسْتَشِيرُكَ، فَقَالَ: «هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَالْزَمْهَا، فَإِنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ رِجْلِهَا» (رواه احمد والنسائى)
ترجمہ:معاویہ بن جاہمہ سے روایت ہے کہ میرے والد جاہمہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ : “میرا ارادہ جہاد میں جانے کا ہے اور میں آپ ﷺ سے اس بارے میں مشورہ لینے کے لئے حاضر ہوا ہوں ۔” آپ ﷺ نے ان سے پوچھا : کیا تمہاری ماں ہیں ؟ انہوں نے عرض کیا : “ہاں ! ہیں” ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : تو پھر انہی کے پاس اور انہی کی خدمت مین رہو ، ان کے قدموں میں تمہاری جنت ہے ۔ (مسند احمد ، سنن نسائی)أوکماقال النبی ﷺ۔
(مستفاد:معارف الحدیث
???? *۔معارف الحدیث حدیث نمبر۔۔٤٠٣۔* ????
????????????????????????????????????????????????
????کتاب النکاح ????
???? *آج کامسٸلہ* ????
???? *۔۔نکاح کے وقت لڑکی کے والد کا نام لینا* ؟????
???? ۔۔نکاح کے وقت کے لڑکی کے ساتھ اس کے والد کا نام لینا بہتر ہے تاکہ گواہوں کے سامنے لڑکی کا اچھی طرح تعارف ہو جائے لیکن اگر گواہ لڑکی کو پہچانتے ہو تو باپ کا نام لیے بغیر بھی نکاح درست ہو جائے گا۔واللہ اعلم بالصواب۔
(مستفاد:۔۔فتاوی دارالعلوم دیوبند جلد نمبر 7 صفحہ نمبر 121۔
???? *۔۔فتاوی عالمگیری جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 208 فتاوی تاتارخانیہ جلد نمبر 2 صفحہ نمبر 605۔*????
*اسکو پڑھئے، سمجھئے،عمل کیجٸے،اورآگےبھیجئے*
ناقل✍ھدایت اللہ۔خیرون۔گریڈیہ۔جھارکھنڈ. خادم مدرسہ رشیدیہ ڈنگرا،گیا،بھار

HIDAYATULLAH

KHERON BAGODIH SURIYA GIRIDIH JHARKHAND INDIA PIN NO 825320
TEACHER MADARSA RASHIDIA DANGRA GAYA BIHAR INDIA

نــــوٹ:دیگر مسائل کی جانکاری کے لئے رابطہ بھی کرسکتے ہیں

CONTACT NO
????+916206649711
????????????????????????????????????????????????

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے