آج کی تاریخ

???? *آج کی تاریخ* ????
☪ ١٨ ذی قعدہ١٤٤٠ھ

????22 جولائی2019

???? بروز۔ *پیر.* 

????کتاب الأضحیة????
???? *حدیث النبیﷺ*
????.۔عَنْ اُمِّ سَلْمَۃ قَالَتْ قَالَ رَسُول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ وَ اَرَادَ بَعْضُکُمْ اَنْ یُّضَحِّیَ فَلَا یَمَسَّ مِنْ شَعْرِہٖ وَبَشَرِہٖ شَیْئًا وَّفِیْ رِوَایَۃٍ فَلَا یَأْ خُذَنَّ شَعْرًا وَّلَا یُقْلِمَنَّ ظُفْرًا وَفِیْ رِوَایَۃٍ مَنْ رَأْی ھِلَالَ ذِی الْحَجَّۃِ وَ اَرَا دَ اَن یُّخَحِّیَ فَلَا یَأْ خُذْ مِنْ شَعْرِہٖ وَلَا مِنْ اَظْفَا….( رواہ المسلم (مشکوٰۃ ص ۱۲۷))
ترجمہ: سیّدہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول خدا حبیب ِ کبریا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ جس وقت عشرہ ذی الحجہ داخل ہوجائے اور تمہارا کوئی آدمی قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو چاہیے کہ بال اور جسم سے کسی چیز کو مس نہ کرے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ فرمایا کہ بال نہ کترائے اور نہ ناخن اتروائے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ جو شخص ذی الحجہ کا چاند دیکھ لے اور قربانی کا ارادہ ہو تو نہ بال منڈائے اور نہ ناخن ترشوائے۔..أوکماقال النبی ﷺ۔
????????????????????????????????????????????????
????کتاب الأضحیة ????
???? *آج کامسئلہ* ????
???? *۔قربانی کس پرواجب ہے۔۔* ؟????
???? ۔۔جس کی ملک میں ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کے بقدر روپئے یا اتنی قیمت کی کوئی اور چیز حاجتِ اصلیہ سے زائد ہو اس پر قربانی واجب ہے۔ یہی حکم اس صورت میں بھی ہے جب کہ کچھ سونا، کچھ چاندی، کچھ نقدی اور کچھ سامان حاجتِ اصلیہ سے زائد ہو اور ان کی قیمت 52.5 تولہ چاندی کی قیمت کو پہنچ جائے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اگر ایک سے نصاب پورا نہ ہوتا ہو اور دوسرے کے ملادینے سے نصاب پورا ہوجاتا ہے، تو دونوں کو ملاکر نصاب پورا کرلیں گے اور ایسی صورت میں اس پر قربانی واجب ہوگی۔واللہ اعلم بالصواب۔
(مستفاد:فتاوی دارالعلوم دیوبند
???? *۔۔والموسر في ظاہر الروایة: من لہ مائتا درہم أوعشرون دینارًا أو شيء یبلغ ذلک سوی مسکنہ ومتاع مسکنہ․․․ فعلیہ الأضحیة (الہندیة: ۵/۲۹۲، شامي: ۹/۴۵۳، مجمع الأنہر: ۴/۱۶۷)۔*????
*اسکو پڑھئے، سمجھئے،عمل کیجٸے،اورآگےبھیجئے*
ناقل✍ھدایت اللہ۔خیرون۔گریڈیہ۔جھارکھنڈ. خادم مدرسہ رشیدیہ ڈنگرا،گیا،بھار

HIDAYATULLAH

KHERON BAGODIH SURIYA GIRIDIH JHARKHAND INDIA PIN NO 825320
TEACHER MADARSA RASHIDIA DANGRA GAYA BIHAR INDIA

نــــوٹ:دیگر مسائل کی جانکاری کے لئے رابطہ بھی کرسکتے ہیں

CONTACT NO
????+916206649711
????????????????????????????????????????????????

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے