ہماری سیاست ہماری قیادت کا فلسفہ

؛؛؛ ہماری سیاست / ہماری قیادت کا فلسفہ ؛؛؛

از ، محمد ہارون قاسمی

ایک حکیم صاحب کا قول ہے کہ حفظان صحت کے اصول کے مطابق انڈا ایک مکمل غذا ہے جو انسانی جسم کے تمام اعضاء کو قوت و توانائی بہم پہنچاتا ہے ۔۔۔۔
لیکن اگر انڈے کے اندر موجود اس کا جوہر مقوی گندا اور خراب ہوجائے تب یہ انڈا انسان کے لئے غذا نہیں رہتا بلکہ یہ انسانی صحت کے لئے ایک مہلک زہر بن جاتا ہے ۔۔۔
یہاں جملہ معترضہ کے طور پر یہ عرض کردینا بھی مناسب ہوگا کہ زمین پر کچھ ایسی مخلوقات ہوسکتی ہیں جن کی یہ گندا اور ناپاک انڈا بھی غذا ہو تاہم کسی اشرف المخلوقات کی یہ غذا ہرگز نہیں ہوسکتا ۔۔۔۔
سیاست انسان کی اجتماعی زندگی کا ایک نہایت اہم اور لازمی شعبہ ہے جو کسی بھی قوم کے لئے ایک مکمل غذا کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی زندگی کے تمام شعبوں کو یکساں طور پر قوت فراہم کرتا ہے ۔۔۔
سیاسی قوت کے بغیر کوئی بھی قوم بحیثیت قوم اپنا مقام حاصل نہیں کرسکتی اور جس قوم کے اندر کوئی سیاسی اجتماعیت نہو جس کی اپنی کوئی موثر قیادت نہ ہو وہ قوم کبھی غلبہ اور اقتدار حاصل نہیں کر سکتی ۔۔۔۔۔۔
لیکن اگر سیاست کا خمیر بگڑ جائے اور اس کے اندر گندے اور مہلک جراثیم پیدا ہوجائیں تب یہ سیاست قوموں کی خیر و فلاح تعمیر و ترقی اور رفعت و عروج کا ذریعہ نہیں ہوتی بلکہ یہ قوموں کی تباہی بربادی اور ہلاکت کا موجب بن جاتی ہے ۔۔۔
دور حاضر میں ہر قوم نے سیاست کی اہمیت اور حقیقت کو سمجھا ہے اور کسی نہ کسی سطح پر خود کو سیاسی اعتبار سے منظم اور منضبط کیا ہے اور کسی نہ کسی قیادت کے زیر سایہ خود کو وحدت و اجتماعیت کے سانچے میں ڈھال کر ایک موثر طاقت کے طور پر پیش کیا ہے ۔۔۔
تاہم مسلمان وہ تہ دامن قوم ہے جس نے سیاست کی حقیقت کو جاننے اور اس کی اہمیت کو سمجھنے کی بہت کم اور بہت ہی کم کوشش کی ہے اور شاید مسلمان ہندوستان کی وہ واحد قوم ہے جس کے اندر کوئی قومی اجتماعیت نہیں جس کی اپنی کوئی سیاست نہیں اور جس کی اپنی کوئی قیادت نہیں ۔۔
جو دوسروں کے نام کے پرجوش نعرہ لگاتی ہے جو غیروں کی متابعت اور محکومیت پر فخر کرتی ہے اور جو غلامی کے پنجرے میں اپنی جگہ کی تلاش اور جستجو کو سیاست کا نام دیتی ہے ۔۔۔
جس کا فطری نتیخہ ہے کہ ناکامی اور نامرادی ذلت اور محکومیت اور اراذل الاقوام کی ٹھوکریں اس کا مقدر بن گئی ہیں ۔۔۔

؛ ایک نئی سیاسی تعبیر ؛

سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر سیاست سے متعلق یہ منفی تصور کیوں اور کیسے پیدا ہوا ؟
کیا اسلام میں سیاست کوئی شجر ممنوعہ ہے یا اغیار کی سیاسی غلامی کسی موثر حکمت اور مصلحت کا تقاضہ ہے ۔۔۔۔۔ ؟

تو ہمیں یاد رکھنا چاہئیے کہ نہ اسلام میں سیاست کوئی شجر ممنوعہ ہے اور نہ غیروں کی سیاسی محکومیت کسی حکمت اور مصلحت کا تقاضہ ہے بلکہ مسلمانوں کے اندر سیاست سے متعلق یہ منفی تصور ان کی معصومیت اور ان کی اپنے کچھ ملکوتی صفات بزرگوں سے اندھی عقیدت کا تلخ ثمرہ ہے ۔۔۔
ہوا اصل میں یہ تھا کہ اب سے ٹھیک ایک صدی قبل ہمارے کچھ دور اندیش اور بلند نظر ارباب سیاست نے مسلمانان ہند کو تین دفعات پر مشتمل ایک عجیب و غریب سیاسی فلسفہ سجھایا تھا
جس میں اسلامی سیاست کی ایک نئی تعبیر پیش کی گئی تھی ۔۔

جس کی پہلی دفعہ یہ تھی کہ مسلمانوں کی قیادت مسلمانوں کے ہاتھوں میں نہیں بلکہ غیر مسلموں کے ہاتھوں میں ہونی چاہئیے ۔۔۔
جس کی رو سے موہن داس کرم چند گاندھی پنڈت جواہر لال نہرو اور سردار ولبھ بھائی پٹیل مسلمانوں کے اولین رہنما قرار پائے تھے ۔۔۔۔

دوسری دفعہ یہ تھی کہ ہندوستان میں آباد ہندو اور مسلمان دونوں ایک قوم ہیں لہذا مسلمانوں کو قومیت کی بنیاد پر اپنی علیحدہ سیاست کی بات کرنا کسی طرح روا نہیں ہے اور ان کی یہ فکر متحدہ قومیت کے سیکرلر نظریہ سے مطابقت نہیں رکھتی ۔۔
چنانچہ مسلمانوں کو سمجھایا گیا کہ انہیں اپنی الگ سیاسی جماعت کی کوئی ضرورت نہیں ہے کانگریس ہی ان کی اپنی پارٹی ہے اور یہی ان کےلئے کافی ہے ۔۔
اور تیسری دفعہ یہ تھی کہ جب ہندو اور مسلمان ایک ہی قوم ٹہرے تو مسلمانوں کا ہندووں کے ساتھ رہنا بھی واجب قرار پایا ۔۔
کیونکہ بڑے بھائی کی خدمت اور چاکری بھی نیکی اور پن کا کام ہے ۔۔۔
یہ تھا وہ فلسفہ سیاست جو ستر سال پہلے چند مقدس روحیں مسلمانوں کو بخش کر دنیا سے پردہ فرما گئیں ۔۔
اور آج تک مسلمان اسی فلسفہ کے اندر اپنی فلاح دارین کی جستجو میں سرگرداں ہے لیکن تاحال اس کو حسرت اور یاس کے سوا کچھ بھی نہیں مل سکا ہے اور اس سے زیادہ کچھ مل بھی نہیں سکتا ۔۔۔
ہر صاحب بصیرت بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ یہ عجیب و غریب سیاسی فلسفہ مسلم قوم کی فوز و فلاح کا ضامن نہیں ہوسکتا بلکہ یہ تو در اصل مسلمان قوم کے سیاسی قتل کا ایک نہایت خطرناک منصوبہ تھا ۔۔۔

مجموعی طور مسلمانوں نے اس کے دور رس خطرات اور خوفناک نتائج کو بھانپ لیا تھا لہذا ایک بڑا طبقہ اس سے بروقت چوکنا ہوگیا اور خود کو اس کے انجام بد سے کسی طرح بچا نے میں کامیاب ہو گیا ۔۔
مگر اندھی عقیدت میں غرق قسمت کا مارا ایک معتد بہ طبقہ اس کو ایک صحیفہ آسمانی سمجھکر اس پر ایمان لے آیا ۔۔
اور آج تک وہ اس ناموس مقدس کو پوری مضبوطی کے ساتھ اپنے سینے سے لگا ئے ہوئے ہے ۔۔۔
جس کے سبب پوری ایک صدی گذر جانے کے بعد بھی مسلمان قوم کے اندر اپنی سیاست اور اپنی قیادت کا کوئی شعور اور کوئی تصور ابھر ہی نہیں سکا ہے ۔۔۔۔

؛ سیاست کی حقیقت اور اہمیت ؛

سیاست اسلام کا ایک عظیم الشان شعبہ ہے جس کے بغیر اسلام کی تکمیل ہی نہیں ہو سکتی جو اسلام کے تمام دیگر شعبوں کو جلا بخشتا ہے اور ان کو تقویت فراہم کرتا ہے ۔
اورحقیقت تو یہ ہے کہ اسلام کے جوہر ہی اس وقت کھلتے ہیں اسلام کی خوبیوں اور برکتوں کا عملی ظہور ہی اس وقت ہوتا ہے جب سیاسی اقتدار اس کے ہاتھوں میں ہوتا ہے ۔
ایک مسلمان کےلئے یہ کسی طرح ممکن نہیں کہ وہ کسی ناخدا شناس گروہ کی سیاسی غلامی اور محکومی کے زیر سایہ اسلام کے تقاضوں پر پوری طرح عمل پیرا ہو سکے ۔
لہذا سیاسی قوت اور سیاسی غلبہ کا حصول ہر مسلمان کا اولین فریضہ ہے ۔۔۔
دوسرے ہمیں یہ ذہن میں رکھنا چاہئیے کہ موجودہ رائج الوقت سیاست وہ سیاست نہیں ہے جس کو اسلام کی اصطلاح میں سیاست کہا جاتا ہے یا جس کو اسلام کا شعبہ قرار دیا جاسکتا ہے بلکہ موجودہ سیاست اپنی غایت اور فطرت کے لحاظ سے اسلامی سیاست کی ضد واقع ہوئی ہے ۔۔
موجودہ سیاست کی اولین خصوصیت یہ کہ اس کی ساری عمارت جاہلی عصبیتوں پر قائم ہے نفس کی بندگی وطن پرستی فرقہ واریت قومی عصبیت مذہبی منافرت مصنوعی جمہوریت اور بے روح سیکولرازم یہ تمام اجزاء ترکیبی اس کے خمیر میں شامل ہیں ۔۔
اور اس میں سب سے زیادہ زہریلا اور خطرناک عنصر یہ ہے کہ اس سے خدا کی حاکمیت کو خارج کرکے اس کی جگہ بندوں کی حاکمیت کو تسلیم کیا گیا ہے ۔۔
موجودہ سیاست میں خدا کا کوئی دخل نہیں ہے اس کے سارے اصول انسانوں نے اپنی اپنی خواہشات اور سہولت کے مطابق مقرر کئے ہیں اور جب سیاست خدا کے نازل کردہ اصولوں کی پابندیوں سے آزاد ہوگئی اور اس کے اندر خوف خدا کا کوئی تصور باقی نہ رہا تو اس سیاست کی فطرت بدل گئی اس کا مزاج بگڑ گیا یہ سیاست آوارہ اور بے مہار ہوگئی اور اس کے اندر خود بخود صفات بہمیہ پرورش پاتی چلی گئیں اور ظلم نا انصافی وحشت بربریت ضمیر فروشی اور عیش پرستی کا دوسرا نام سیاست ہو گیا ۔۔
اور پھر اس سیاست نے روئے زمین پر وہ تباہی مچائی کہ آسمان ششدر رہ گیا قوموں کی قوموں کو نگل گئی یہ سیاست ملک کے ملک اس سیاست کی بھینٹ چڑھ گئے اس سیاست نے کرہ ارض کو درندوں کے جنگل میں تبدیل کردیا ۔۔۔ جہاں انسانی زندگی کے ہر شعبہ میں سچائی اور ایمان داری گھٹن محسوس کرنے لگی اور بدی اور برائی ایک پروفیشنل آرٹ کی شکل اختیار کرگئی ۔۔۔
اور جو سیاست ایک صالح اور صحت مند معاشرے کی تشکیل کا سب سے بڑا اور موثر ذریعہ تھی جو انسان کے جان و مال عزت و آبرو اور اس کے حقوق کی سب سے بڑی محافظ تھی آج وہی سیاست ان کی سب سے بڑی دشمن بن گئی اور انسانیت کا خون اس کی سب سے زیادہ مرغوب اور پسندیدہ غذا بن گیا ۔۔
ایسی متعفن اور پراگندہ سیاست کی آغوش میں ناخدا شناس قومیں تو پرورش پاسکتی ہیں مگر ایک ایسی قوم جو خدا اور رسول پر ایمان رکھتی ہو جس کی زندگی کتاب وسنت کے اصولوں کی پابند ہو کبھی نشو و نما نہیں پا سکتی ۔۔۔

؛ اسلامی سیاست کیا ہے ؟ ؛

جماعت ۔ قیادت اور اطاعت یہ تینوں چیزیں اسلام کی روح ہیں اور انہیں تین اجزاء سے ترکیب پاکر اسلامی سیاست وجود میں آتی ہے
حضرت عمر رض نے ایک موقع پر اس حقیقت کو کچھ ان الفاظ میں بیان فرمایا تھا ۔۔۔۔

لا اسلام الا بجماعتہ ولا جماعتہ الا بامیر ولا امیر الا بطاعتہ ۔۔۔

اسلام بغیر جماعت کے نہیں اور جماعت بغیر امیر کے نہیں اور امیر بغیر اطاعت کے نہیں ۔۔۔
یعنی بغیر اجتماعیت کے اسلام کے کوئی معنی نہیں اور بغیر امیر کے اجتماعیت کسی کام کی نہیں اور بغیر اطاعت کے امیر کی کوئی حیثیت نہیں ۔۔۔
یقینا یہ اسلامی سیاست کی نہایت شاندار اور اعلی ترجمانی ہے ۔۔۔
اسلام کا اپنے پیروں سے بنیادی مطالبہ ہی یہ ہے کہ ان کے اندر ایک منظم اجتماعیت ہونی چاہئیے ان کی ایک مضبوط تنظیم ہونی چاہیئے اور ان کا ایک با اختیار امیر اور رہنما ہونا چاہیئے جس کی مسلمانوں کو اطاعت کرنی چاہیئے ۔۔۔
مگر یہ بڑی حیرت کی بات ہے کہ مسلمانوں میں اسلام کے اس مطالبہ کی عملی جھلک اسلامی عبادات میں تو بڑی صاف اور واضح نظر آتی ہے مگر قومی اور سیاسی معاملات میں اس کا کوئی شائبہ تک نظر نہیں آتا ۔۔۔۔
اسلام کے اس عظیم مطالبہ کو سامنے رکھ کر ہمیں یہ سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہونی چاہئیے کہ کوئی بھی غیر مسلم جماعت (سیاسی پارٹی) آپ کی جماعت نہیں ہوسکتی کوئی بھی غیر مسلم لیڈر آپ کا امیر نہیں ہوسکتا اور کوئی بھی ایسا شخص جو غیر مسلم جماعتوں سے وابستہ ہے اگرچہ اس کا نام مسلمانوں جیسا ہی کیوں نہو آپ کا رہنما نہیں ہوسکتا ۔۔۔۔
مسلمانوں کی سیاست کا المیہ ہی یہ رہا ہے کہ ان کے سیاسی قائدین کی اکثریت ان لوگوں کی تھی جنہیں جہاں اور جس پارٹی میں عہدہ منصب کرسی عزت دولت اور شہرت کے کچھ مواقع نظر آئے وہ اس پر ٹوٹ کر پڑے اور اپنی ساری صلاحیتوں کو وہیں پر کھپا دیا ۔۔۔
اس کےلئے انہوں نے اپنے دین و ایمان کو بیچا اپنی خودی اور اپنے ضمیر کا سودا کیا اور اپنے قومی حقوق اور ملی مفادات کو بھی قربان کرنے سے بھی گریز نہیں کیا ۔۔
ان میں سے ہر ایک نے اپنی قوم کو اسی جماعت کی طرف بلایا جہاں اس کے اپنے مفادات وابستہ تھے اس طرح وہ قوم کے سیاسی افتراق اور تشتت کا سبب بنے اور قوم کی سیاسی اجتماعیت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوئے ۔۔۔

دوسری طرف جو لوگ اپنی سیاست اور اپنی قیادت کا نعرہ لیکر اٹھے ان کے مقاصد بھی کچھ زیادہ بلند اور امید افزا نہیں تھے انہوں نے اپنی اپنی تنظیمیں اور سیاسی پارٹیاں تشکیل دیں جن پر ان کی شخصی اجارہ داری قائم تھی ان کو لیکر وہ مسلمانوں کے درمیان پہنچے اور ان کو بتایا کہ دیکھو یہ آپ کی ۔ مسلم سیاسی پارٹی ۔ ہے اور ہم آپ کے قائد ہیں لہذا غیر مسلم لیڈرس کا دامن چھوڑو اور ہمیں اپنا قائد تسلیم کرو اور پہلے ہمیں آپ ۔ ایم ایل اے اور ایم پی ۔ بناو پھر دیکھو ہم کس طرح ملکی سیاست میں ارتعاش اور انقلاب برپا کرتے ہیں اور آپ کو کس طرح سیاست میں حصہ داری دلاتے ہیں ۔۔۔

مگر چونکہ ان کا ماضی کسی قابل ذکر قومی خدمات سے خالی تھا لہذا وہ قوم کا کامل اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب نہو سکے ۔۔۔۔
اور مزے کی بات یہ تھی کہ ان کی سیاست کی غرض و غایت اور اصول و مناہج بھی وہی تھے جو کسی غیر مسلم سیاست کے ہوسکتے ہیں ان کے پاس کوئی بلند نظریہ اور اعلی نصب العین نہیں تھا ۔۔۔

لہذا وہ بھی ملت کی سیاسی شیرازہ بندی میں کوئی مثبت رول ادا کر نے کے بجائے بالواسطہ طور پر مسلمانوں کے حریف عناصر کی تقویت کا ذریعہ ہی ثابت ہوئے ۔۔۔
ظاہر ہے کسی میکدہ پر ؛؛ اسلامی شراب خانہ ؛؛ کا بورڈ چسپاں کر دینے سے اس کی شراب کے اندر شہد کی تاثیر تو پیدا نہیں ہوسکتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

؛ ملی سیاست کی تعمیر جدید ؛

اب آخری سوال یہ ہے مسلم سیاست کیسے وجود میں آئے اور اس کا ڈھانچہ کیا ہونا چاہیئے ۔۔۔
تو اس کے لئے سب سے پہلے یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیئے کہ عشرت کدوں اور ایئر کنڈیشنوں میں بیٹھ کر قوموں کی تقدیر نہیں بدلی جاسکتی محض خشک تحریروں اور تقریروں کے ذریعہ جن کے ساتھ عملی تحریک نہو کبھی کوئی انقلاب برپا نہیں کیا جاسکتا ۔۔۔
زوال یافتہ قوموں کی تعمیر کوئی ہنسی کھیل یا کوئی آسان کام نہیں ہوتا اس کے لئے آگ کے سمندروں سے گزرنا ہوتا ہے اور بڑے بڑے طوفانوں سے ٹکرانا پڑتا ہے ۔۔
اس راہ میں بڑے صبر ضبط اور تحمل کی ضرورت ہوتی ہے یہاں اپنے جذبات اپنے مفادات اپنے تعلقات اپنی دوستی اپنی محبت اور اپنی عقیدت سب کچھ داو پر لگانا پڑتا ہے ۔۔
یہ مقدس فریضہ صرف وہی خوش نصیب سرفروش دیوانے انجام دیتے ہیں جو صرف اللہ کےلئے جینے اور اللہ کے لئے مرنے کا عزم جذبہ اور حوصلہ رکھتے ہیں ۔۔۔
لہذا سب سے پہلے ہمیں ملک بھر میں بکھرے ہوئے ایسے ہی پاک طینت بلند نظر ذی شعور اور باصلاحیت نفوس کو تلاش کرنا ہوگا جو ملت کے حالات و مسائل کا ادراک رکھتے ہیں جن کے سینے کے اندر دھڑکتا ہوا دل ہے جو ملت کے حالات پر فکر مند ہیں جو ملت کے لئے کچھ کرنے کا مخلصانہ جذبہ رکھتے ہیں اور جو کسی نہ کسی شعبہ میں ملت کے لئے خاموش خدمات انجام رہے ہیں ۔۔
گاہے گاہے سہی لیکن بہرحال اس قوم میں ابھی ایسے افراد موجود ہیں
ان کی شیرازہ بندی کی جائے اور ایسے پانچ سو افراد پر مشتمل ایک
؛؛ کل ہند قومی شوری ؛؛ کا قیام عمل میں لایا جائے
جس کا ایک امیر ہو جس کا انتخاب کسی اعلی حسب و نسب کسی موروثی نسبت یا کسی پراسرار بزرگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ خالص صلاحیت للہیت قربانی اور جذبہ عمل کی بنیاد پر عمل میں لایا جائے ۔۔
یہ قومی شوری مسلمانان ہند کی ایک نمائندہ جماعت ہو اور جملہ مسلمان۔اس کی اطاعت کے پابند ہوں ۔۔۔۔
اس کا ایک نظریہ ہو اس کا ایک مقصد ہو اس کا ایک نصب العین ہو اور اس کے اصول و مناہج قرآن و سنت کے مطابق ہوں ۔۔
ہر شعبہ سے متعلق اس کی ذیلی تنظیمیں قائم ہوں ۔۔
اور اسی شوری کے زیر نگرانی مسلمانوں کی ۔ قومی سیاست ۔ کا ایک متحرک مضبوط اور فعال آرگنائزیشن وجود میں لایا جائے ۔۔
یہ ملت کے حالات و مسائل سے متعلق صحیح منصوبہ بندی کرے اور ایک ٹھوس اور مضبوط لائحہ عمل کے ساتھ آگے بڑھے ۔۔۔
یہ منصوبہ عمل تھوڑا دیر طلب ہے جو بظاہر آسان نہیں لگتا مگر ناممکن ہرگز نہیں ہے ۔۔۔۔
اسلام میں مایوسی کی کوئی جگہ نہیں ہے اور مومن کبھی مایوسی کا شکار نہیں ہوتا لہذا ہم خدا پر یقین اور توکل کے ساتھ آگے بڑھیں نصرت الہی ہمارے ساتھ ہوگی اور منزل ضرور ملے گی انشاءاللہ ۔۔۔
اگر ہم تھوڑی حکمت اور فراست سے کام لیں اور اپنے مقصد کے حصول کےلئے آر ایس ایس کی شاہ راہ کو اختیار کرلیں تو شاید ہمارا کام بہت آسان ہوسکتا ہے ۔۔۔
ہزار چشمے تیرے سنگ راہ سے پھو ٹیں
خودی میں ڈوب کے ضرب کلیم پیدا کر

کیا ہے کوئی صاحب بصیرت صاحب دل اور صاحب حیثیت جو ملت کے اس تعمیری مشن پر غور کرے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے