ہندوستان میں مسلمانوں کا مستقبل قسط نمبر 6

ہندوستان میں مسلمانوں کا مستقبل 
قسط نمبر 6
از ؛ محمد ہارون قاسمی
بلند شہر ۔ یوپی ۔انڈیا
فون ، 9412658062

؛؛ قوم کہاں کھڑی ہے ؛؛

قوموں کے عروج و زوال کی تاریخ کا ایک نبض شناس مورخ بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ یہ قوم خطرہ میں ہے اور جس مقام پر آج یہ قوم کھڑی ہے وہاں کوئی بھی قوم بحیثیت قوم اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکی ہے کیونکہ جو شخص خود ہی اپنی زندگی کا دشمن بن جائے اور جو خود ہی اپنی جان دینے اور خود کشی پر آمادہ ہوجائے اس کو نہ کوئی بچا سکتا ہے نہ کوئی زندگی دے سکتا ہے ۔

غلامی ایک ایسا موذی اور متعدی مرض ہے کہ جب کوئی قوم اس کا شکار ہوتی ہے تو اس کے اندر افلاس ۔ خود غرضی ۔ نفاق ۔ بزدلی اور نفس پرستی جیسی مہلک اور گھناؤنی بیماریوں کا پیدا ہوجانا بالکل ایک فطری اور لازمی امر ہے ۔

غلام قوموں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے جس کے نتیجہ میں ان کے اندر بھوک افلاس ذلت اور رسوائی کا احساس شدت اختیار کرجاتا ہے اور پھر اس افلاس کی ماری اور عزت کی بھوکی قوم کو جہاں کہیں اور جس شکل میں بھی روٹی کے چند ٹکڑے اور عزت کے چند کھلونے نظر آتے ہیں وہ ان پر ٹوٹ کر پڑتی ہے
ان کے لئے وہ اپنے دین و ایمان کو بیچ سکتی ہے اپنی قومی غیرت اور اپنے ضمیر کا سودا کرسکتی ہے اور اپنے قومی مفادات کو داو پر لگا سکتی ہے ۔۔۔
اس کے اندر عزت شرافت اور قومی غیرت کے تمام احساسات ختم ہو جاتے ہیں بہمیت اس پر غالب آجاتی ہے اور نفس کی بندگی اس کی زندگی کا مقصد بن جاتا ہے ۔۔۔

؛ غلامی کی دو سطحیں ؛

غلامی کی ایک سطح وہ ہوتی ہے جہاں کسی قوم کے اندر اپنی غلامی کا احساس باقی رہتا ہے یہاں تک اس کا علاج بھی ممکن رہتا ہے
انگریز کے دور میں مسلمان قوم غلامی کی اسی سطح پر تھی ۔۔۔

دوسری سطح غلامی کی وہ ہوتی ہے جہاں کسی قوم کے اندر غلامی کا احساس ہی فنا ہوجاتا ہے وہ غلامی کے رنگ میں پوری طرح رنگ جاتی ہے غلامی اس کا مزاج بن جاتی ہے غلامی میں اس کو مزہ آنے لگتا ہے اور وہ غلامی پر فخر کرنے لگتی ہے ۔۔۔
اس سطح پر پہنچکر یہ مرض لا علاج ہو جاتا ہے اور یہ وہ سطح ہوتی ہے جہاں کوئی شخص اگر اس قوم کو اس کی غلامی پر متنبہ کرتا ہے تو قوم اس پر غراتی ہے کوئی شخص اگر اس کی آزادی کی بات کرتا ہے تو قوم اس کو پھاڑ کھانے کو آتی ہے ۔۔۔

البتہ اگر کوئی شخص اس کی غلامی پر اس کی ہمت افزائی کرتا ہے تو قوم اس کو سرپر بٹھا لیتی ہے اور کوئی شخص اگر اس کو غلامی میں پختہ تر کردینے والی تدبیریں سجھا تاہے تو قوم اس کو سینے سے لگا لیتی ہے ۔۔۔
آج ہندوستان میں آباد مسلم قوم غلامی کی اسی سطح پر کھڑی ہے وہ غلامی کی خوگر ہوچکی ہے غلامی اس کے رگ و ریشے میں سرایت کرچکی ہے غلامی اس کا مزاج بن چکی ہے غلامی میں اس کو مزہ آنے لگا ہے اور غلامی اس کی فطرت میں ڈھل چکی ہے ۔۔۔
اس کی زندگی کا ہر شعبہ غلامی کی کثافتوں سے آلودہ ہوچکا ہے

علم و تعلیم دعوت و تبلیغ تجارت و معیشت اور سیاست و حکومت جیسے اہم ترین اور انقلابی شعبوں کی حقیقی روح فنا ہوچکی ہے اور وہ اپنی اصل معنویت کھوچکے ہیں ۔۔۔۔۔
غلامی کے محافظوں نے ان کی اس طرح تجدید کاری کی ہے اور انہیں اس طرح ترتیب دیا ہے کہ وہ قوم کی رفعت و عروج کا ذریعہ تو کیا ثابت ہوتے وہ قوم کو مزید زوال و انحطاط کی طرف دھکیل
رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔

؛؛ علاج کی ناکام تدبیریں ؛؛

ایسے حالات میں (چند گنے چنے نفوس قدسیہ کے استثنی کے ساتھ) جو مصلحین اور بہی خواہان قوم اپنی قوم کی صلاح و فلاح کے لئے اٹھے ہیں ان کی فکر کسی انقلابی نظریہ ۔ کسی اعلی منصوبہ اور کسی بلند نصب العین سے یکسر خالی ہے اور ان کی اصلاح کا طرز و طریقہ مضحکہ خیز حد تک عجیب و غریب ہے ۔۔۔۔۔
وہ گندے تالاب میں کھڑے ایک شخص کو کہ رہے ہیں کہ
؛؛ اللہ پاک ہے اور پاکی کو پسند کرتا ہے ؛؛
لہذا اے بندہ خدا ڈبکی لگا اور پاک ہوجا ۔۔۔۔۔

ایک صاحب فرماتے ہیں کہ ایمان بنا لیجئے ۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر ان کے پاس ایمان کا جو موڈل ہے وہ وہی ہے جو غلامی کے سانچے میں ڈھال کر تیار کیا گیا ہے اور جس کے خمیر میں جاہلیت عجمیت اور ہندویت کی بہت سی کثافتیں شامل ہیں ۔۔۔ جس کے اندر قرآن کے ایک بڑے حصہ کو جذب کرنے کی صلاحیت نہیں اور جو ؛ انتم الاعلون ان کنتم مومنین ؛ کی تاثیر سے خالی ہے ۔۔۔۔۔

* ایک صاحب فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کو دعوت و تبلیغ کا اپنا فرض منصبی ادا کرنا چاہیئے ۔۔۔۔۔۔۔۔
کیونکہ جب ان کی دعوت کے ذریعہ سارے ہندو مسلمان بن جائیں گے تو پھر تو مسلمان ہی مسلمان رہیں گے اور کوئی مسئلہ ہی باقی نہیں رہیگا ۔۔۔
منصوبہ تو اتنا اعلی ہے کہ سو جان قربان ۔۔۔۔۔۔
مگر ان داعیوں کو کون سمجھائے کہ آپ مکی دور میں جی رہے ہیں جہاں دعوت کے مطلوبہ نتائج کے لئےحالات ناسازگار ہونے کے سبب کائنات کی افضل ترین ہستی داعئ اعظم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ترک وطن پر مجبور ہونا پڑا تھا ۔۔۔

ان کو کون بتائے کہ دعوت اسوقت تغیر اور انقلاب کا ذریعہ ہوتی ہے جب مدعو کو بحیثیت قوم مخاطب کیا جائے اور داعی بحیثیت امت ۔۔امر و نھی ۔۔ کی پوزیشن میں ہو ۔۔۔۔
انفرادی دعوت کے ذریعہ چند لوگوں کو مسلمان بنا لینے سے آپ کو شہرت تو مل سکتی ہے دولت بھی حاصل ہوسکتی ہے عقیدت مندوں کی تعداد میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے اور اگر خلوص ہو تو جنت بھی مل سکتی ہے مگر اس کے ذریعہ قوم کو جہنم سے نہیں نکالا جاسکتا ۔۔۔۔۔
انہیں یہ یاد رکھناچاہئیے کہ کپکپاتے ہونٹوں اور لرزتے ہوئے ہاتھوں سے دی جانے والی دعوت کبھی کسی انقلاب کا ذریعہ ثابت نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔۔

* ایک صاحب کا فرمان ہے کہ مسلمانوں کو موجودہ مصائب و مشکلات سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے حصول علم کی طرف توجہ دینی چاہیئے ۔۔۔۔ نعرہ بہت پیارا ہے ۔
مگر انہیں اس کا کوئی علم نہیں کہ غلامی کے نقشہ کے مطابق تیار شدہ ان کے موجودہ نظام تعلیم سے پڑھے لکھے نفس پرست غلام تو پیدا ہوسکتے ہیں مگر اس سے کوئی تعلیم یافتہ خدا پرست آزاد مرد پیدا ہوجائے ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ تو کسی خدائی معجزہ ہی سے ممکن ہوسکتا ہے ۔۔۔
اس قوم نے تو بڑے بڑے نامور ذی علم اور سائنٹسٹ بھی پیدا کئے ہیں مگر ان کے علم سے قوم نے کس قدر بلند درجات طے کئے اس کا شاید ان کے پاس کوئی حساب نہیں اور اگر ان جیسی اور لاکھوں علمی ہستیاں پیدا ہوجائیں تو یہ قوم رفعت و عروج کے کتنے مقامات طے کر سکتی ہے اس کا بھی کوئی تخمینہ ان کے پاس نہیں ہے ۔۔۔۔

* ایک صاحب ملت کے مسائل کا حل کچھ یوں بیان کرتے ہیں کہ مسلمان آپس میں متحد ہوجائیں ۔۔۔۔ تو کفر کی ساری طاقتیں ان کے قدموں میں آجائیں گی ۔۔۔
مگر کیا دیوبندی بریلوی ایک ہوسکیں گے کیا شیعہ سنی اپنے اختلافات ختم کرکے ایک دوسرے میں ضم ہوسکتے ہیں یا پھر مختلف سیاسی پارٹیوں میں بکھرے ہوئے سیاسی لوگ اپنی اپنی پارٹیوں کو چھوڑ کر کسی ایک پلیٹ فارم پر اکھٹے ہونے کی زحمت کریں گے ۔۔
یا پھر شہد کی مکھیوں کی طرح سارے ہندوستان کے مسلمان ایک جگہ جمع ہوسکتے ہیں ۔۔۔۔؟
اس معجزاتی اتحاد کا نہ ان کے پاس کوئی پیمانہ ہے اور نہ ان کے پاس اس کا کوئی ممکنہ نقشہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔

* ایک صاحب نے پیام امن اور حسن اخلاق کے ذریعہ قوم کے مسائل کے حل کا فارمولا پیش کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر ۔۔۔۔۔۔۔ خرگوش کی زبانی بھیڑیئیے کے رو برو امن کی باتیں ۔۔۔۔۔۔۔
کیا کچھ عجیب سا نہیں لگتا ؟؟؟؟؟؟

ایک اور مسیحائے ملت کا ارشاد عالی ہے کہ مسلمان سیاسی قوت حاصل کرلیں ۔۔۔۔۔۔ ان کی تقدیر پر لگی ہوئی ساری گرہیں کھل جائیں گی ۔۔۔۔۔۔
اور ان کی اس سیاست سے مراد یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو زیادہ تعداد میں پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں بھیجا جائے جن کے نام مسلمانوں جیسے ہوں ۔۔۔۔۔۔
اور جب پارلیمنٹ اور اسبملیاں ان سے بھر جائیں گی تو پھر کسی کی کیا مجال کہ مسلمان کی طرف آنکھ اٹھاکر بھی دیکھ سکے ۔۔۔۔۔۔۔

اور جو کچھ زیادہ ملت کے خیرخواہ اور ذہین سیاست داں تھے انہوں نے تھوڑا آگے بڑھ کر کچھ غیر مسلم لیڈران کی چمکدار سیاست سے کچھ کل پرزے حاصل کئے اور انہیں کے نقشہ کے مطابق اپنا ذاتی اسٹیمیر تیار کرلیا ۔۔۔۔۔
یعنی ان کی اسلامی سیاست کا روڈ میپ بھی وہی ہے جو ایک غیر مسلم کا ہے ان کی منزل بھی وہی ہے جو کسی غیر مسلم کی ہوسکتی ہے ۔۔۔۔
عہدہ منصب اور دولت کا حصول یعنی تجارت کا عنصر ان کی سیاست میں بھی غالب درجہ میں موجود ہے
زیادہ سے زیادہ کسی خدا پرست نے اپنی سیاست میں اگر کچھ تغیر کیا ہے تو بس یہ کہ اس نے اپنے اسٹیمر پر جلی حروف سے
؛؛ مسلمان ؛؛ لکھوا دیا ہے ۔۔۔
جبکہ رخ سب کا ترکستان کی طرف ہے بیت اللہ شریف کسی کی منزل نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ستر سال کا تجربہ بتا رہا ہے کہ یہ ساری آرٹیفیشل اور بے روح تدبیریں(اپنی موجودہ شکل میں) نہ ملت کے حق میں کارگر ثابت ہوئی ہیں اور نہ ہوسکتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس قوم کو زندگی نہیں مل سکتی تا آنکہ قوم کے خدا پرست اور خدا ترس ذی علم ذی شعور اور دانشور حضرات غلامی کی فکر و فضا سے متاثر ان تمام عظیم الشان شعبوں کو خود غرضی ۔ نفاق ۔ بزدلی اور نفس پرستی کی گندگی اور غلاظتوں سے پاک صاف کر ان کی تجدید نو کرکے ان کا رخ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہیں پھیر دیتے ۔۔۔

اور اگر آپ اس کے لئے تیار نہیں ہیں اور یوں ہی آنکھیں بند کرکے انہیں راہوں پر چلتے رہنا چاہتے ہیں تو کبھی بھی آپ اپنی منزل کو نہیں پا سکتے ۔۔۔
اور پھر اگر ایک ہزار سال تک بھی آپ اپنی نامرادی پر ماتم اور چیخ وپکار کرتے رہیں گے تب بھی ہاتف غیب کی طرف سے آپ کو یہی جواب ملے گا ۔۔۔
انکم ماکثون ۔۔۔ تم یہیں رہوگے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (جاری)

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے