جرأت ہو نمو کی تو فضا تنگ نہیں ہے

از: محمد قمرالزماں ندوی

*مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ*

*انسان* کی ایک بہت بڑی کمزوری یہ ہے کہ اکثر لوگ محنت ،کوشش اور جد و جہد سے جی چراتے ہیں، منزل پانے کے لئے جس ٹرپ جذبہ،حوصلہ اور دھن اور لگن کی ضرورت ہے اس کی طرف توجہ نہیں کرتے اور حالات اور ماحول کے ناموافق ہونےکا صرف شکوہ کرتے ہیں۔ حالات موافق نہیں ہے ۔جگہ جگہ دشواریاں اور رکاوٹیں ہیں۔ افراد ساتھ نہیں دیتے۔ اپنے ہی لوگ پاوں کھنچتے ہیں ۔قدم قدم پر دقتیں اور زحمتیں ہیں ۔ یہ اور اس طرح کے اعذار اور مجبوریاں لوگ بیان کرتے رہتے ہیں اور حالات کے شکوے کے ساتھ حالات کا رونا روتے رہتے ہیں ۔
*یہ* کامیاب و بامراد اچھے اور باکمال افراد کا طریقہ اور شیوہ نہیں ہے ۔ باکمال افراد وہ حالات کا رونا نہیں روتے ،شکوہ شکایت نہیں کرتے، شکوہ سنجی ان کی عادت نہیں ہوتی، اور دوسرے کے سر الزام نہیں رکھتے بلکہ اپنی منزل اور اپنا ہدف اور راستہ خود تلاش کر لیتے ہیں وہ کسی بے ساکھی کا سہارا نہیں لیتے ۔ وہ اپنے اندر جرآت کی نمو پاتے اور محسوس کرتے ہیں اور پھر فضا کو تنگ محسوس ہونے دیتے ۔ راہیں اور منزلیں خود بخود تلاش کر لیتے ہیں وہ اپنے عزم و ہمت حوصلہ و استقامت اور جذبے کی وجہ سے سامنے حائل رکاوٹوں اور دشواریوں کودور کر لیتے ہیں ۔
ان کے سامنے شاعر کا یہ شعر ہوتا ہے جس کو وہ اپنے لئے مشعل راہ بناتے ہیں اور خضر راہ خیال کرتے ہیں کہ

*جرآت کی نمو ہو تو فضا تنگ نہیں ہے*
*اے مرد خدا ملک خدا تنگ نہیں ہے*

*مل جائے گی کبھی منزل لیلی اقبال*
*کچھ دنوں اور ابھی بادیہ پیمائ کر*

*دنیا* میں لاکھوں، کروڑوں انسان آئےاور مٹی کے نیچے دب گئے، کروڑوں نے جنم لیا مگر وقت کی تیز دھار نے انہیں کاٹ کر رکھ دیا، اربوں پیدا ہوئے مگر خاک میں مل گئے، نہ کوئی مقصد و مشن، نہ اعلی نظریات،نہ ارفع سوچ، بس کمایا، کھایا، سویا اور مرگئے۔ لیکن کچھ شخصیتیں اور ہستیاں ایسی بھی ہیں جو اپنے نمایا کارناموں، اچھوتے کرداروں، بامقصد طرز حیات کی بنا پر آج بھی بدر منیر کی طرح ضوفشانی اور آفتابِ صبح کی طرح نور و روشنی بکھیر رہی ہیں۔ کہنے کو تو یہ سب انسان تھے مگر ان میں زمین و آسمان کا فرق ہے، کہاں محنت، مشقت، جہد اور لگن میں گندھا ہوا مرد آہن اور کہاں سستی،غفلت اور بےکاری میں پلا بڑھامٹی کااک ڈھیر۔
*اس* حقیت سے کسی کو انکارنہیں کہ رات کی بھیانک تاریکی میں سے ہی صبح پرنور نمودار ہوتی ہے، غم واندوہ کے پہاڑوں کے بیچ ہی سے خوشی، مسرت اور شادمانی کی راہیں نکلتی ہیں۔ تکلیف، دکھ، مصیبت. کے بعد ہی راحت سکون آرام میسر ہوتا ہے۔ رب فرماتا ہے ان مع العسر یسرا، فتح کے لطف، کامیابی کےمزے کو تکلیف ہی دوبالا کرتی ہے۔
کامرانی کے راستے میں آلام، مصائب، غم وکرب کے طوفان درپیش ہوتے ہیں۔ درد وغم، بے چینی ومایوسی بعض مرتبہ اس طور پر گھیرلیتی ہے کہ تمام راہیں مسدود اور تمام امیدیں الٹتی دکھائی دیتی ہیں، یہیں پر کامیاب و ناکام انسان کی راہیں الگ ہوجاتی ہیں۔ بزدل ڈر کر گھبراکر راہِ فرار اختیار کرکے نا مراد ہوجاتاہے۔ جبکہ مردِ خدا ان نامساعد حالات میں ہنس کر ابھرتا ہے، وہ موت سے آنکھیں لڑاتا، غم، مصائب و آلام سے پنجہ آزمائی کرکے خود اپنی دنیا آپ پیدا کرتاہے، جہد مسلسل، ہمت، جرأت اور بہادری کی بنا پر وہ سب کر گزرتاہے جو نکمے انسان کے وہم و گمان تک میں نہیں ہوتا۔
سوباتوں کی ایک بات، ہزار سوالوں کا ایک ہی جواب، لاکھوں نسخوں کا ایک ہی نچوڑ، "جہد مسلسل” ہے، یہ وہ چیز ہے جو انسان کو فرش سے اٹھاکر ثریا تک لے جاتی ہے۔ آپ کے پاس کچھ نہ ہو، نہ صاحب زادگی، نہ شہزادگی، نہ خاندانی رسوخ، نہ مال ودولت مگر آپ محنت پسند طبیعت کے مالک ہیں تو واللہ سب کچھ حاصل ہے۔ اس کے بالمقابل آپ کی علامہ کی اولاد ہیں، یا پیر سائیں کے شہزادے، کسی صاحب ثروت کے جگر پارے ہیں کہ کسی کرپٹ سیاست داں کے لاڈلے، یا کسی صاحب سطوت کے راج دلارے لیکن سستی نکماپن کے جراثیم سے آلودہ ہیں تو سن لیں، جان لیں، اچھی طرح سے ذہن کی سلوٹوں میں بٹھالیں کہ آپ ناکام ہیں، نامراد ہیں
کہتے ہیں کہ غریب پیدا ہونے میں کوئی بری بات نہیں، مگر مکمل زندگی بسر کرکے اسی حال پر مرنا بہت ہی براہے۔ غلامی، کم مائیگی، اور پستی میں آنکھیں کھولنا کچھ برا نہیں، مگر اسی پر قانع رہنا، حالات کے رحم وکرم پر بےدست وپا پڑے رہنا، تبدیلی، خوشگواری، رفعت اور عروج کے لیے ہاتھ پیر نہ مارنا انسانیت نہیں، بلکہ عار، شرمدگی، اورذلت ہے۔
والٹیئر کا قول ہے کہ میں نے اکثر بڑے لوگوں کو جھونپڑوں سے نکلتے دیکھاہے، تاریخ گواہ ہے اور ماضی شاہد ہے کہ کم رتبے کے لوگوں نے محنت، جہد مسلسل، جرأت اور غیرت سے وہ سب کچھ پایا جسے دیکھ کر آج بھی انسانیت مبہوت ہے۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ حبشی النسل کالے کلوٹے غلام تھے، مگر حضرت عمر جیسا قریشی، نڈر فاتح انہیں سیدنا سے مخاطب فرمایاکرتے تھے۔
"جرأت ہونمود کی توفضا تنگ نہیں ہے
اے مردِ خدا ملکِ خدا تنگ نہیں ہے”

فاتح اندلس طارق بن زیاد ایک غلام تھے، عظیم جرنیل شیر شاہ سوری ایک سپاہی تھے، افغان صدر نادرشاہ ایک چرواہے تھے، سلطان ناصرالدین ٹوپیاں بیچا کرتے تھے اور ہندوستان کے حالیہ وزیراعظم موذی خوانچہ فروش کے بیٹے ہیں اور خود نے کئی سالوں تک چائے بنائی اور کیتلی گھمائی ہے۔
آپ بھی گر دنیا میں کچھ کر گزرنا چاہتے ہیں، اونچی اڑان بھرنے کے متمنی ہیں، زندگی کو بامقصد بنانے کے آرزو مند ہیں، تو آج ہی سے محنت کو اوڑھنا اور مشقت کو بچھونا بنالیں، اپنے قیمتی سرمایہ وقت کو کام میں لائیں، اور دنیا کو منوا کر چھوڑیں،اس طرح دین و ایمان کی خدمت کر جائیں ۔ (امیر سندھی کی تحریر سے ماخوذ و مستفاد )
مذکورہ بالا تحریر کا مقصد دوسرے کو نصیحت کرنا بالکل نہیں ہے راقم خود پہلے اس کا مخاطب ہے ۔ اس لئے خود کی زندگی بھی غیر مرتب ہے ۔ وقت کی پابندی اور اوقات کی کوئ ترتیب نہیں ہے ۔لیکن احساس ضرور ہوتا ہے کہ پیدا کرنے والے کے مقصد کو پورا نہیں کر پا رہا ہوں اور امت کے لئے اپنے کو نافع نہیں بنا پارہا ہوں اس کی بنیادی وجہ صلاحیت و استعداد کی کمی بھی ہے اور ہدف و مقصد کا فقدان بھی ، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہم سب کو اپنی مرضی پر چلائے اور ہم سب کی ذات کو امت کے لئے نفع بخش بنائے نیز جرآت کی نمو عزم و ہمت اور حوصلہ کی دولت سے مالا مال کردے آمین

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے