
*مدارس میں نظام تعلیم کا المیہ*
✍ *محمد صابر حسین ندوی*
*مدارس کا قیام ان کی تعظیم و خدمات اور ضرورت و اہمیت سے کوئی انکار نہیں؛ لیکن ان میں موجود جمود و تعطل اور نظام تعلیم کی فرسودگی کی شکایت بھی بجا ہے، جہاں زمانہ بجلی کی رفتار سے ترقی کر رہا ہو وہاں پر ایک خاص نطریہ و حکم پر اپنی بنیاد قائم کردینا اور قرآن و سنت کو انہیں پر منحصر سمجھنا، ہر نظریہ اور فکر کی تحقیق اسی رو سے کرنا نیز اسے قرآن و سنت کا پرتو بتا کر نص صریح کو پس پشت ڈال دینا کیسے درست ہو سکتا ہے؟ کسی بھی باغ و چمن کی خوبصورتی یہی ہے کہ وہاں فصل بہار اور فصل خزاں دونوں کا گزر ہو تاکہ نئی نئی کونپلیں اور نئی نئی شاخیں نکل سکیں؛ لیکن اگر باغ کا یہ نظام معطل ہوجائے، تو اسے قدامت کا وہ مرض لگ جائے گا جس کا کوئی علاج نہیں، مدارس کے تعلق سے ندوہ نے جو کوششیں کیں وہ بھی قابل قدر ہے؛ مگر سچ یہی ہے کہ وہ بھی اپنے مشن میں خاطر خواہ کامیاب نہیں، اس جیسے متعدد اداروں نے ایک نئی دھارا دینے اور جدید تقاضوں کو پورا کرنے کی سعی کی؛ لیکن سبھوں کو تقریبا منہ کی کھانی پڑی، جس کی وجہ یہ تھی کہ ہندوستان میں قدامت کی پوجا کی جاتی ہے، اور ہر نئی چیز کو جن و بھوت سمجھ فرار اختیار کیا جاتا ہے، جناب وحید الدین خاں صاحب کی ایک تحریر وائرل ہوئی، جو مدارس کو آئینہ دکھاتی ہے، اگرچہ خان صاحب سے بہت سے افکار پر اعتراض کیا جاسکتا ہے؛ لیکن ان کی یہ بات جو” نظام تعلیم” کے عنوان سے ہے، قابل نظر ہے، افادہ عام کیلئے مکرر پیش کیا جاتا ہے، آپ رقمطراز ہیں:*
"چارلس ایڈمس ایک امریکی عیسائی تھے۔انہوں نے مصر میں رہ کر وہاں کی اسلامی تحریکوں کو گہرا مطالعہ کیا۔ اس کے بعد انہوں نے ایک کتاب لکھی جس کا نام ہے:Islam and modernism in Egypt__ اس کتاب میں ایک جگہ وہ جامعہ ازہر قاہرہ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں ” روایت پرستی کی روح صدیوں سے جامعہ ازہر کی تعلیمی سرگرمیوں میں سرایت کیے ہوئے ہے۔ تعلیم کا اصل مقصد یہ نہیں ہے کہ علمی تحقیق اور چھان بین کے ذریعے متعلقہ علوم کو ترقی دی جائے؛ تعلیم کا مقصد صرف یہ ہے کہ اس کے ذریعے قدماء کا ذہنی سرمایہ ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہوتا رہے۔ بعینہ اسی حالت میں جیسے کہ اسلاف نے اپنے بعدوالوں کو دیا تھا۔ آزادانہ تحقیق اور آزادانہ رائے قائم کرنے کا دروازہ اسلام میں تیسری صدی ہجری سے بند ہے۔اس لیے مذہب کو مستند شارحین صرف دور ماضی میں ملتے ہیں اور بعد والوں کے لیے صرف یہ کام رہ گیا ہے؛ کہ وہ اپنے اسلاف کے علمی سرمایہ کی شرح کرتے رہیں”۔
*اس کتاب کی اشاعت کے بعد مصر کی جامعہ ازہر میں کافی تبدیلیاں ہوچکی ہیں۔ مصنف کا تبصرہ اب اس پر جزئی طور پر ہی صادق آتا ہے۔ تاہم ہندوستان اور دوسرے بہت سے ملکوں کے اسلامی مدارس کے لیے یہ الفاظ آج بھی پوری طرح درست ہیں، یہ صحیح ہے کہ اسلامی تعلیم کا معاملہ عام سیکولر تعلیم سے مختلف ہے۔ سیکولر تعلیم مطلق طور پر آزادانہ تحقیق کی قائل ہے۔ جب کہ اسلامی تعلیم کی بنیاد ہمیشہ قرآن وسنت پر ہوتی ہے۔ مگر ہمارے مدارس میں آج جو تعلیم دی جارہی ہے، اس کے متعلق یہ بات بالکل درست ہے کہ اس کی بنیاد کتاب وسنت پر نہیں؛ بلکہ ایک خاص دور میں پیدا ہونے والے کتاب وسنت کے شارحین پرہے۔ کتابوں کی ایک خاص فہرست ہے جن کو مقدس مقام حاصل ہوگیا ہے۔ حتی کہ اب قرآن وحدیث بھی ان ہی کتابوں کی روشنی میں پڑھائے جاتے ہیں، نہ کہ ان کتابوں کو قرآن و حدیث کی روشنی میں پڑھایا جائے۔ اس طرز تعلیم کا براہ راست نتیجہ جمود اور تنگ نظری ہے۔یہ جمود اور تنگ نظری آج مسلم قوم کا سب سے بڑا خاصہ بن چکی ہے۔ اور ہم اس کے وہ تمام نتائج بھگت رہے ہیں جو ایسی ذہنیت سے لازما پیدا ہوتے ہیں”۔*
( اسباق تاریخ ص:283_بشکریہ: عبدالخالق القاسمی)
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
27/11/2019