*محمد قمر الزماں ندوی*
*مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ*
*کرونا* وائرس پوری دنیا میں پھیل چکا ہے،جس کی وجہ سے زندگی کی رفتار تھم سی گئی ہے،تجارت،تعلیم، صنعت و حرفت،مذھبی اجتماعات، سیاحت غرض تمام شعبہائے زندگی بند، اور کومہ کی حالت میں ہین، آمد و رفت کے سارے وسائل کو کلوز کر دیا گیا ہے۔ ساری دنیا کی سات ارب ابادی شدید ذھنی دباؤ میں ہے۔ اس وائرس کے سامنے پوری انسانیت بے بس ہے نہ اس مرض کی صحیح تشخیص ہوسکی ہے اور نہ ہی علامات واضح ہیں۔ دوا???? تو ابھی دور کی بات ہے۔ کم ترقی یافتہ ممالک کو تو جانے دیجیئے ترقی یافتہ ممالک اور ترقی پذیر کنٹریز بھی اس وائرس سے مقابلہ کرنے کی ہمت نہیں رکھتے۔ بہت سے لوگوں کو تو اس کرونا، کے بیماری اور مرض ہونے ہی میں شبہ ہے۔ بلکہ اس کو ایک سانحہ اور سازش خیال کر رہے ہیں۔ جب کہ ایک بڑی تعداد ڈاکٹروں کی تحقیق کو بالکل صحیح مان رہے ہیں ۔تو بعض لوگ اس کو طاعون جیسا وبائی امراض کی طرح ایک وبا مان رہے ہیں۔
اس وایرس کو ایک طبقہ الومیناٹی ایجنڈا سمجھ رہے ہیں۔ ان کے خیال میں کرونا وائرس ایک مکمل پلان کے تحت دنیا میں پھیلای گئی ہے۔ جس کے پیچھے، عالمی خفیہ شیطانی تنظیم الومیناٹی کا ہاتھ ✋ ہے۔ اس تنظیم کے بنیادی مقاصد، میں سے دنیا ???? کی آبادی کو کم کرنا ہے۔ اس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ دنیا کی ابادی کو سات ارب سے کم کرکے ایک ارب کرنا چاہتی ہے۔ اور اس منصوبے اور پلانگ کا ایک حصہ، کرونا وائرس ہے جس کے ذریعے آبادی کو کم کرنا ہے۔ اس بارے میں لوگ دو خانے میں بٹ گئے ہیں اور دونوں گروہ دو حدوں پر ہیں۔ ممکن ہے۔ یہ سازش کا بھی ایک حصہ ہو لیکن حقیقت میں یہ ایک وبائی مرض ہے، ڈاکٹروں اور میڈیکل سانس کی پوری تحقیق سامنے آچکی ہے۔ اس ٹیم میں صرف عیسائی اور یہودی ڈاکٹرس ہی نہیں ہیں بلکہ بہت سے ماہر مسلمان ڈاکٹر بھی ہیں ۔ اس لیے اس وائرس کے بارے میں شک کرنا اور احتیاط و تدبیر اور پرہیز نہ کرنا اس کو ہلکے میں لینا یہ کسی طرح درست اور مناسب نہیں ہے۔
ہم کو یہ ماننا ہوگا کہ یہ وائرس اور قوت مدافعت کی جنگ ہے۔ اس وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں اپنی قوت مدافعت کو بڑھانا ہوگا اور اس کہ لئے ہمیں حساس اور سنجیدہ ہونا ہوگا۔ حفظان صحت کے ان اصولوں کو اپنانا ہوگا جس کی طرف اسلام اور جدید میڈیکل سائنس ہماری رہنمائی کرتا ہے۔
صحت کے بارے میں اسلام نے جن متعین باتوں پر زور دیا ہے ان میں سب سے زیادہ پاکی اور صفای کا اعلی تصور اور پاکیزہ نظام ہے۔ اسلام انسان کی اس فطری ضرورت کو تسلیم کرتا ہے کہ اسے صاف ستھری اور متوازن غذا ???????????????? ملنی چاہیے اس کے لیے وہ تگہ و دو کو کار ثواب خیال کرتا ہے۔ اگر فرد کو ضروریات زندگی فراہم نہ ہو تو ملک و معاشرہ اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ فرد کی ضرورت پوری کرے۔ اسلام اس کی قطعاً اجازت نہیں دیتا کہ کوئی شخص غذا ???????????????? کی کمی یا فقر و فاقہ کی وجہ سے زندگی کے حق سے محروم ہو جائے اور معاشرہ اپنی ذمہ داری محسوس نہ کرے اور حکومت اپنے دامن کو جھاڑ لے۔
غذائی ضروریات کی تکمیل کے لیے اسلام نے یہ قاعدہ بیان کیا ہے کہ تمام پاک اور طیب چیزیں استعمال کی جاسکتی ہیں ۔ البتہ ناپاک اور خبیث چیزیں ناجائز ہیں ۔ سوائے اضطرار کے کسی بھی صورت میں ان کا استعمال جائز نہیں ہے ۔ صحت کے نقطئہ نظر سے ورزش اور جسمانی محنت بھی بہت ضروری ہے ۔ اسلام انسان کے اندر جفاکشی پیدا کرتا ہے اوراپنے اندر قوت مدافعت پیدا کرنے کی ترغیب دیتا ہے ۔ اور اس سلسلہ میں ان تمام جائز اور مباح چیزوں کو اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے، جس صحت پر خوشگوار اثر پڑے۔ اسلام کے حفظان صحت کے اصولوں کو اگر اپنایا جائے تو بیماریوں اور وائرس سے مقابلہ کرنا آسان ہوگا اور انسان کے اندر بھرپور قوت مدافعت پیدا ہوگی ۔ لیکن ہمیں ہر وقت یہ عقیدہ رکھنا ہوگا کہ یہ ظاہری اسباب اور تدابیر ہیں اصل مرض اور صحت کا دینا اور لینا یہ سب خدا کے ہاتھ میں ہے ۔
اس وقت ہم اس وائرس کا مقابلہ کیسے کریں اس سلسلہ میں جو رہنمائ اطباء کر رہے ہیں اس کی کچھ تفصیلات بھی ذھن میں رکھیں اور اس پر عمل بھی کریں ۔
*صرف ہاتھ دھو نا اور ماسک پہننا کورونا وائرس کا حل نہیں ہے ۔۔۔کورونا وائرس سے لڑنے کے لیے قوت مدافعت کو بڑھانا انتہائی ضروری اور لازمی ہے۔۔*
*یاد رکھیں کورونا وائرس ایک ایسے منصوبے کا حصہ ہے جس سے دنیا میں بڑھتی آبادی پر قابو پانا ہے۔ یہ ایک بہت پرانا ایجنڈا ہے ۔ جب نیو کلیئر وار سے مسائل بہت زیادہ پیدا ہونے لگے تو بایولوجیکل وار کا سہارا لیا گیا ہے*