سادگی اپنوں کی اور غیروں کی عیاری بھی دیکھ

سادگی اپنوں کی اور غیروں کی عیاری بھی دیکھ
ــــــــ
از ـ محمود احمد خاں دریابادی

مسلمانوں کے درمیان فقہی اختلافات توصدیوں سے ہیں، خود حضرات صحابہ کے درمیان بھی متعدد مسائل پر اجتہادی اختلاف رہا ہے، ………. مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ وقت گذرنے کے ساتھ آہستہ آہستہ یہ اختلاف محض اجتہادی نہیں رہا بلکہ اس میں عصبیت اور نفسانیت بھی شامل ہوتی گئی، ………، ایک زمانہ وہ تھا جب اپنے تمام تر اندرونی اختلاف کے باوجود مسلمان باطل کے مقابلے میں ” بنیان مرصوص ” بن جایا کرتے تھے ……. مگر اب ہم لوگ خود اپنے اختلافات کو نمایاں کرکے غیروں کو اسلام پر حملہ کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں ـ
تین طلاق کا مسئلہ لے لیجئے ہندوستانی مسلمانوں کا ایک چھوٹا طبقہ ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک مانتا رہا ہے، موجودہ حکومت نے جب مسلم عورتوں سے نام نہاد ہمدردی کی دہائی دیتے ہوئے تین طلاق پر پابندی کا ارادہ ظاہر کیا تو ہمارے درمیان ہی کے کچھ افراد یہ کہتے ہوئے سامنے آگئے کہ ” بالکل ٹھیک ہے، ہم بھی مسلمان ہیں ہمارے یہاں تین طلاق کی گنجائش نہیں ہے، قران بھی یہی کہتا ہے حدیث میں بھی یہی ہے "
لیجئے صاحب! حکومت کو تو تنکے کا سہارا چاہئیے ہی تھا! پہلے عدالت کا فیصلہ آیا کہ تین طلاق ختم …… پھر قانون اور اب آرڈینس بھی آگیا، اس کے مطابق اگر کسی نے ایک مجلس میں تین طلاق دیدی تو وہ بالکل ہی نافذ نہیں نہیں ہوگی یعنی اس کو ایک طلاق بھی شمار نہیں کیا جائے گا،…….. اس کا مطلب یہ بھی ہوا کہ کسی دوسری مجلس پھر تین طلاقیں دی گئیں تو وہ بھی نافذ نہ ہوگی، یعنی اب اگر کوئی شخص سینکڑوں ہزاروں مجلسوں میں تین یا تین ہزار مرتبہ طلاق کے الفاظ ایک ساتھ دہرادے تب بھی قانونی طور پر بیوی اس کی زوجیت سے خارج نہ ہوگی، البتہ حرجے خرچے کے ساتھ تین سال کی جیل ضرور ہوجائے گی ـ یہ صریحا مسلم پرسنل لاء پر حملہ ہے اور مسلم مکاتب فکر میں کوئی بھی اس کا قائل نہیں ہے ـ مگر یہ بات بھی ماننی پڑے گی کہ حکومت کو یہ حوصلہ ہمارے آپسی اختلاف کی نمائش سے ہی حاصل ہوا ـ
آج کل ایک بار پھر مسلکی تفاخر زوروں پر ہے، اللہ نہ کرے اس بار بھی اس کاناقابل تلافی نقصان اسلام اور مسلمانوں کو اُٹھانا پڑسکتا ہے ـ
میڈیا کی خبروں کے مطابق متعدد مسلم بچیاں غیر مسلم نوجوانوں سے شادی کرکے مرتد ہورہی ہیں، یقینا یہ ہم سب کے لئے انتہائی شرم، تشویش اور فکر کی بات ہے، …….. ایسے میں بجائے اس کے کہ اس ارتداد کی بنیادی وجوہات تلاش کرکے ان کے تدارک کی کوششیں کی جائیں کچھ ” واٹس ایپی مفکرین ” اور ” فیس بکیا دانشور ” یہ فرماتے نظر آرہے ہیں کہ چونکہ ہمارے یہاں عورتوں کی مسجد میں حاضری پر پابندی ہے اس لئے ان کے اندر دین کی سمجھ نہیں ہے اور دین سے دوری کی وجہ سے ہی عورتوں میں ارتداد پھیل رہا ہے اس لئے ان کو مسجد میں آنے دینا چاہئیے ـ
بے شک دین سے دوری ارتداد کا ایک سبب ہوسکتا ہے، مگر اس کے کچھ دوسرے بھی سماجی اور معاشرتی عوامل ہیں ان سب کو سامنے رکھ کر اس ہولناک مسئلے کا تدارک کرنا ہوگا ـ
اگر صرف دین سے دوری ہی واحد سبب ہوتا تو مبینہ طور پر بعض عالمائیں اور عالم ومفتی کی لڑکیاں کیوں غیروں سے شادیاں کرکے مرتد ہوگئی ہیں ـ باغپت کے علاقے میں جو ایک خاندان کے ارتداد کا واقعہ حال میں پیش آیا ہے اس میں بھی عرف عام میں ” دین سے دورجاہل ” لیکن غیرت مند مسلم خاتون نے مرتد ہونے سے انکار کردیا اور اپنے شوہر کو چھوڑ کر میکے چلی گئی ـ ایک طرف باقاعدہ دینی تعلیم سے آراستہ نام نہاد عالمہ اور دوسری طرف دیہات کی انتہائی کم پڑھی لکھی مسلم خاتون! دونوں کے کرداروں کا تجزیہ کیجئے اور ارتداد کے اسباب تلاش کیجئے ـ
مردوں کو تو مسجدوں میں آنے کی اجازت بلکہ ترغیب بھی ہے ، بلا عذر غیر حاضری پر وعیدیں بھی بیان کی گئی ہیں پھر مرد کیوں مرتد ہوئے ہیں ـ
بلاشبہ عہد رسالت اور اس کے کچھ بعد تک عورتیں مسجدوں میں حاضر ہوتی رہی ہیں، مگر ایسی کوئی روایت ہماری نظروں سے اب تک نہیں گذری جس میں عام طور پر خواتین کو مسجدوں میں آنے کی ترغیب دی گئی ہو اس کے فضائل بیان ہوئے ہوں، بلا عذرحاضر نہ ہونے پر گناہ یا عذاب کی وعیدیں سنائی گئی ہوں ـ بلکہ متعدد ایسی روایات ہیں جن میں گھر اور گھر میں بھی کسی گوشے کے اندر عورت کی نماز کو بہتر کہا گیا ہے ـ
بے شک دنیا کے کچھ ممالک اور ہندوستان کے کچھ طبقات کی خواتین مسجدوں میں حاضر ہوتی ہیں، حرمین میں بھی یہی دستور ہے، لیکن اس کو عام کرنے کا مطالبہ کرنا مسلم دشمنوں کے ہاتھ میں ایک اور ہتھیار تھمانے کے برابر ہوگا ـ
یاد رکھئے پھر مسئلہ صرف عورتوں کی مسجد حاضری تک محدود نہیں رہے گا، حقوق نسواں کے نام نہاد علمبردار نماز کی صفوں میں بھی مردوں کی برابری کا مطالبہ کریں گے، عورت کو موذن اور امام بنانے کا مطالبہ بھی ہوگا ………. کیا اس کے لئے تیار ہیں؟ اب ذرا دوسرا رخ بھی دیکھ لیجئے عموما برادران وطن کی عورتیں مندروں میں حاضر ہوتی ہیں مگر کیرالا میں سبری مالا مندر ایسا ہے جہاں دس سے پچاس سال کی عورتوں کو داخلے کی اجازت نہیں ہے، پچھلے دنوں ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ وہاں ہر عمر کی عورتوں کو داخلے کی اجازت ہے ……. اس فیصلے پر وہ لوگ جو مسلم خواتین کے غم میں دبلے ہورہے تھے، مسلم عورتوں کو برابری کے حقوق دلانے کے نام پر اسلام کی بنیادوں کو ہلانے کی کوششیں کررہے تھے سب کے سب روایت اور ” پرمپرا ” کی حفاظت کے نام پر عدالت کے فیصلے کے خلاف کھڑے ہوگئے، انھوں نے یہ نہیں سوچا کہ لاکھوں مندروں میں تو عورتیں حاضر ہوتی ہی ہیں ایک اور سہی ! وہاں ہزاروں کی بھیڑ جمع ہے، سب سے بڑی عدالت کے خلاف نعرے لگ رہے ہیں، خدانخواستہ اگر مسلمان اپنے جائزحقوق کی حفاظت کے لئے ایسی جسارت کرتے تو اب تک وہاں کشتوں کے پشتے لگ گئے ہوتے ـ مگر مظاہرہ کرنے والے برادران وطن یہ جانتے ہیں کہ چونکہ ان کے ” سیاں کوتوال ” ہیں اس لئے انھیں کوئی ڈر نہیں ہے ـ چنانچہ کئی دن گذرجانے کے بعد بھی مندر جانے کی خواہش مند ہندو عورتیں اب تک حاضری سے محروم ہیں اور بظاہر مقامی پولیس اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود انھیں مندر تک پہونچانے میں ناکام نظر آرہی ہے ـ
ایک طرف باطل کی یہ مذہبی غیرت ……. اور دوسری طرف ہماری یہ ناعاقبت اندیشی اور بے حمیتی ……… !!
محمود دریابادی

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے