*وارثین انبیاء کیلئے لمحہ فکریہ___!!!*
✍ *محمد صابر حسین ندوی*
کہاں تک اب مئے و مینا کے منتظر بیٹھیں
یہ کہدو پیر مغاں سے کہ بادہ خوار چلے
*اس وقت ملک ایک ایسے دورہے پر کھڑا ہے جہاں اسے حقیقی نمائندے و رہنما کی ضرورت ہے، سٹیزن شپ امینڈمنٹ ایکٹ کے خلاف ملک گیر احتجاج کو کامیاب بنانے کیلئے ان قائدین کا نکلنا بے حد ضروری ہے، جنہوں نے امت اسلامیہ کو ہمیشہ تھامے رکھا، ان کے شیرازے کو بکھرنے نہ دیا، کفر والحاد کی بستی میں للہت اور خشوع و خضوع کی جوت جگائے رکھی، ان کے احسان تلے امت کا ہر فرد دبا ہوا ہے؛ ماضی کی طرح اس وقت بھی انہیں وہی کردار ادا کرنا ہوگا جو کبھی ان کا امتیاز ہوا کرتا تھا، تسبیح خوانی اور دعا و مناجات سے کسی کو انکار نہیں، دعوت کے کام کئے جائیں، انسانیت کا کام کیا جائے؛ لیکن ابھی دعوت و انسانیت کا سب سے بڑا کام یہ ہے کہ ملک اور اس ملک میں رہنے والے تمام انسانوں کے ساتھ مسلمانوں کے وجود کی حفاظت کی جائے، صرف اتنی سی بات یاد رکھنے کی ہے کہ اگر مسلمان ہی نہ ہوں گے تو کسے دعوتیں دیں گے_؟ کون ہے جو ہندو راشٹر میں انہیں سر اٹھانے کی اجازت دے گا_؟ کھلی فضا سانس لینے کی طاقت کیسے پائیں گے_؟ اگر وقت کے ہاتھوں مجبور اور حکومت وقت کی چکی میں پس گئے، تو گلے میں بے بسی کی زنجیر پڑنے سے کیسے بچ پائیں گے۔*
*اگر ایک بار مشکوک قرار پا گئے، آپ کی پہچان کپڑوں کی بنیاد ہونے لگی، اور حکومت کے کسی بھی کارندے نے آپ کی فائل اٹھا کر پھینک دی، تو آپ معصوم ہو کر بھی دیس کے غدار اور گھسپیٹھئے بن جائیں گے، گھر، جائیدار سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے، معاشرت سے کٹ جائیں گے، اور پھر زندگی کہ اصل دھارا میں بہنے کیلئے ارتداد کا راستہ آسان تر ہوجائے گا، منافقت عروج پر ہوگی، جان بچانے اور عزتیں محفوظ کرنے کیلئے ممکن ہے کہ ایمانی مشعلیں ماند پڑ جائیں گی، بے چینی کے عالم میں دوڑ دھوپ کرتے ہوئے دل بجھ جائیں گے، اپنے اور پرائے کی بے کسی میں سب کچھ تنگ ہوجائے گا، تو کوئی کیونکر صراط مستقیم پر قائم رہے_؟ اور یقینا ان سب کی بیج ہم آج ہی رکھ رہے ہیں، اور ان کے ہاتھوں رکھا جارہا ہے جنہوں نے مسجدوں، مدرسوں، خانقاہوں اور جماعتوں کو ہی اصل مدار سمجھ لیا ہے، وہ یہ نہیں سمجھ پا رہے ہیں؛ بلکہ ممکن ہے کہ سمجھ رہے ہوں لیکن مصلحت کے پردوں میں پوشیدہ ہوکر یہ بھی بھول گئے ہیں، کہ جب انسان کے جسم سے جان نکال دی جاتی ہے، تو اسے پانچ ستارہ ہوٹل میں رکھا جائے یا کسی شمشان میں جلادیا جائے_ کوئی فرق نہیں پڑتا_*
*افسوس کی بات ہے کہ یہ ناشبیہ کردار وارثین انبیاء کا ٹیگ رکھتے ہیں، نبوی طریقہ اور سنت کی پابندی کی دہائیاں دیتے ہیں، ایک ایک نفل پر عمل شدت سے ہوتا ہے، اور ہونا بھی چاہئے؛ لیکن کیا انہیں بدر و حنین کا نبی یاد نہیں آتا، خندق میں پیٹ پر دو پتھر باندھے اور سخت سردی میں پہرا دیتا ہوا نبی امی نطر نہیں آتا، غزوہ تبوک میں نکلتا ہوا وہ بہادر سپہ سالار دکھائی نہیں دیتا_؟ اپنے دانتوں کو شہید کرواتا اور چہرہ مبارک پر چوٹ کھاکر خون آلود ہوتا ہوا محمد مصطفی کی خبر نہیں_؟ آخری سانس میں بھی جیش اسامہ کو روانہ کرنے والا ان کا نمونہ نہیں_؟ کیا ان سب کو سنت سے خارج کردیا جائے، یا پھر یہ سمجھ لیا جائے کہ حاشا و کلا__ جو لوگ آج دین اور اسلام کی آہیں بھرتے ہیں، ان کا خدا بھی کوئی اور ہے اور انہوں نے نبی بھی کسی اور کو مان لیا ہے_؟ انبیاء کے وارثین ذرا غور سے سنئے_! اور سیکھئے آپ کے مورث اعلی کیسے تھے_! چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہادری اور پائے ثبات کے متعلق حضرت علی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے؛ کہ جب زور کا رن پڑتا اور جنگ کے شعلہ بھڑک اٹھتے تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آڑ لیا کرتے تھے، آپ سے بڑھ کر کوئی شخص دشمن کے قریب نہ ہوتا تھا_ ( شفاء قاضی عیاض:۱/۱۸۹) ۔*
*اسی طرح حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک رات اہل مدینہ کو خطرہ محسوس ہوا، لوگ آواز کی طرف دوڑے، راستے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آتے ہوئے ملے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے پہلے ہی آواز کی جانب پہوچ کر خطرے کے مقام کا جائزہ لے چکے تھے، اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابوطلحہ کے ایک گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار تھے، گردن مین تلوار حمائل کر رکھی تھی اور فرمارہے تھے ڈرو نہیں_! ڈرو نہیں_! (بخاری:۱/۴۰۷_ مسلم: ۲/۲۵۳) آج وارثین انبیاء سب سے پیچھے ہیں، وہ خود پردہ مصلحت میں روپوش ہیں، کوئی ان کا دامن کیا تھامے وہ تو خود غیروں کی چادر سے لپٹے ہوئے ہیں_ آور ” واستعینوا بالصبر و الصلاة” سے حیران کن استدلال کر رہے ہیں، کاش وہ صبر کہ تشریح کم از کم ریاض الصالحین کی اردو شروحات میں ہی پڑھ لیتے_! عالم یہ ہے کہ آج اگر کسی احتجاج میں جائیں تو سب کم تعداد انہیں وارثین کی نطر آتی ہے، اور اس کی اعلی صفوں نے تو گویا زبان ہی سل لی ہے، خدا جانے اب بھی وہ کونسی حکمت ہے جنہوں نے انہیں روکے رکھا ہے، اللہ کرے وہ حکمت عند اللہ قابل قبول ہو ورنہ انجام خطرناک نظر آتا ہے____!!*
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
21/12/2019