شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی
انسانی زندگی کا بنیادی اثاثہ اور اساسی حق یعنی آزادی کی نعمت جو ایک صدی سے انگریزی استعماریت کی تاریکیوں میں گم تھی ،اور صدیوں کی آبلہ پائیوں اور سرفروشانہ قربانیوں کے نتیجے میں غلامی کی زنجیریں پگھلیں، اور آزادی کا سورج 1947میں ہند کے افق پر طلوع ہوا، برطانوی مصنوعات کی بہت ساری چیزوں میں سے اس کے مخصوص نظام حکومت اور ایکٹ کو بھی یہاں کے رہنماؤں نے ریجیکٹ کردیا چنانچہ بھارت پر برطانوی ایکٹ جو 1935سے نافذ تھا اسے منسوخ کرکے ایک جمہوری نظام اور سیکولر دستور مرتب کرنے کا منصوبہ بنایا گیا 15/اگست 1947کو بھارت آزاد ہوا اور 26/جنوری 1950/کو ایک جمہوری نظام کے نفاذ کے حوالے سیکولر اسٹیٹ کی صورت میں دنیا کے نقشے پر ابھرا،اس سے پہلے کہ آزاد بھارت کے آزاد اور سیکولر آئین اس کی خصوصیات،اس کی جامعیت،اس کے نظام حکمرانی ونگہبانی، اس کے انفرادی واجتماعی قوانین اور اس کی عدلیہ کی حیثیت کے بارے میں گفتگو کی جائے۔کچھ ذکر جمہوری نظام اور اس کی خوبیوں وخامیوں اور اس کے حقائق کا۔۔۔۔۔
جمہوریت یا ڈیموکریسی۔۔
ملوکیت یا بادشاہت کے متوازی اور مخصوص فرد کی بلاشرکت غیرے حکمرانی اور اہلیت ومحاسن سے بے پروا موروثی بادشاہت کے مقابلے میں عوام اور رعایا کی حکومت وحاکمیت اور عوام کے آزادانہ حکومت سازی کے اختیارات،
ان کے افکار وخیالات کی آزادی، زندگی کے ارتقاء کے تمام وسائل پر جائز حدود میں ملکیت اور اس کے استعمال کی اتھارٹی جس سے غیر کو کسی قسم کا نقصان نہ ہو، اور زبان و بیان کے علاوہ نظریات کے لحاظ سے ہر فرد آزاد ہو،مذکورہ تمام انسانی حقوق اور بنیادی حقوق کی پاسداری پر مشتمل نظام کو جمہوریت سے یا ڈیموکریسی سے تعبیر کیا جاتا ہے مختصر لفظوں میں اس نظام کی تعریف یوں کی جاسکتی ہے،،Role of the people عوام کی حکمرانی اور اس کی فرمانروائی،،یونانی مفکر ہیروڈوس کے قول کے مطابق جمہوریت ایسی حکومت ہوتی ہے جس ریاست کے حاکمانہ اختیارات قانونی طور پر پورے سماج کو حاصل ہوتے ہیں،سابق امریکی صدر ابراہیم لنکن کے یہاں اس کی بڑی جامع تعریف ان الفاظ میں مشہور ہے،
Government of the people by the people for the people
عوام کی حاکمیت،عوام کے ذریعے عوام پر،،
جمہوری نظام دو قسموں اور دو شکلوں میں وجود میں آیا پہلی شکل یاقسم وہ ہے جس میں عوام اپنے تمام اجتماعی امور براہ راست انجام دیتی تھی وہ عائلی نظام ہو یا فوجداری مقدمات تمام معاملات اور مسائل عوام ہی کے جرگے میں حل ہوتے تھے اسی وجہ سے اس کا نام ڈائریکٹ ڈیموکریسی direct democracy رکھا گیا ہے
دوسری شکل بالواسطہ جمہوریت یعنی ان ڈائیریکٹ ڈیموکریسیIndirect democracy, کے نام سے متعارف ہے’ جس میں بڑھتی ہوئی آبادی انسانی دائرے کی وسعت، کے باعث براہ راست جمہوریت کے قانون پر عمل ممکن نہیں رہا، ارتقاء پذیر انسانی دنیا نے نمائندگی کا تصور دریافت کیا، جس میں عوام اپنی حق رائے دہی کے ذریعے اپنے منتخب نمائندوں کو پارلیمانی ایوانوں میں بھیجتی ہے اور یوں ان نمائندوں کے ذریعے عوام کی حاکمیت وجود میں آتی ہے، اس وقت یہی نظام عام طور سے دنیا کے اکثر خطوں میں رائج ہے ارسطو نے یہی نظریہ پیش کیا تھا لیکن علی الاطلاق وہ جمہوری نظام کا قائل بھی نہیں تھا بلکہ اس کے یہاں ہر فرد کو نمائندگی حاصل نہیں ہوسکتی تھی یا عوام اپنی مرضی سے ہر کس و ناکس کو وزارت یا صدارت پر یا حاکمیت کے کسی مقام پر نہیں بٹھا سکتی تھی بلکہ حکمرانی کاحق یا حاکمیت کا اہل وہی افراد ہو سکتے تھے جو باشعور اور تعلیم یافتہ ہوں یہی وجہ ہے کہ آج بھی یورپ کے کئی ممالک میں انتخابات کے قوانین میں سے بنیادی قانون گریجویشن اور ساتھ ساتھ کیریکٹر کے لحاظ سے شفاف اور بے داغ بھی ہونا ضروری ہے،تاکہ ملک اور معاشرہ بدعنوانیوں سے،
انتہا پسندانہ نظریات سے، دہرے پیمانوں سے محفوظ رہے،
بھارت میں جمہوری نظام حکومت
اسے وقت کی ستم ظریفی کہئیے یا ملت اسلامیہ ہند کی بد قسمتی کہ برسہا برس کی قربانیوں کےبعد جب سحر نمودار ہوئی تو اس کے اجالے بے شمار مظلوموں کے خون سے داغدار تھے اسی شب گزیدہ سحر میں آزادی کے ساتھ نظریات کی بنیادپر ملک کا ایک حصہ علحدہ ہو گیا لیکن یہ کیسی عجیب بات ہے کہ اسلام کے نام جو ملک وجود میں آیا وقت کے ساتھ ساتھ اس میں سیکولرازم کا ایسا نشہ سوار ہوا کہ آج تک وہاں اسلام کا کوئی نظام مرتب یا نافذ نہ ہوسکا،
دوسری طرف بھارت میں سیکولرازم کا قانون وضع کیا گیا اسے سیکولر اسٹیٹ کا نام دیا گیا جمہوری نظام نافذ ہوا مگر جیسے جیسے وقت گذرا اس نظام کی گرفت کمزور ہوتی چلی گئی اور اب صورتحال یہ ہے کہ اسے مذہبی جنونیت اور تہذیبی انتہا پسندی کے ذریعے بالکل بے اثر اور بے معنی کردیا گیا ہے’، بہرحال تاریخی لحاظ سے اس کی حیثیت پر جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو یقین نہیں آتا کہ اس قدر مضبوط ہاتھوں کے ذریعے مرتب ہونے والے نظام کی حالت کیونکر اس قدر کمزور ہوسکتی ہے،تفصیل اس اجمال کی کچھ یوں ہے کہ 1946میں یوپی کے الیکشن کے بعد کانگریس اکثریت میں آئی اور اسی اکثریت کی طاقت سے قانون ساز اسمبلی وجود میں آئی جس میں دیگر اراکین کے علاوہ خاص طور سے امام الہند ابو الکلام آزاد بیرسٹر آصف علی،خان عبد الغفار خان محمد سعد اللہ، عبد الرحیم چودھری،بیگم اعزاز رسول، اور مولانا حسرت موہانی قابل ذکر ہیں اس کا پہلا اجلاس اسی سال 1946 کو ہوا اور ڈاکٹر راجندر پرساد اس کے چیرمین مقرر ہوئے 1947 میں وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو بھارت کا گورنر جنرل منتخب کیا گیا اور انہیں کی نگرانی میں آئین ساز کمیٹیاں تشکیل دی گئیں ان کی رپورٹ کی روشنی میں ایک مرکزی آئین ساز کمیٹی تشکیل دی گئی جس کے سربراہ ڈاکٹر امبیڈکر تھے اس کمیٹی نے مستقل اور مفصل سیکولر آئین مرتب کیا فروری 1948میں اس کا مسودہ شائع کیا گیا 26نومبر 1949کو اس قانون کو منظوری ملی اور بھارت کے دستور کے لئے متعین کرلیا گیا،اور 26 جنوری، 1950کو ملک میں اسکے نفاذ کا اعلان کیا گیا،اس طرح ہندوستان میں پارلیمانی نظام اور جمہوری دستور قائم کرکے سیکولر اسٹیٹ کی صف میں اسے شامل کیا گیا، جس میں مذہب کا احترام تو ہوگا مگر مذہبی قانون نہیں ہوگا مذہب کی حفاظت تو ضرور ہوگی مگر اس کی حکمرانی نہیں ہوگی، مذہب کے تمام بنیادی اور جزئی اصولوں پر عمل اور اس کی تبلیغ واشاعت کی آزادی تو ہوگی ،تمام قوموں کو اپنے پرسنل لا پر عمل کرنے کا اختیار تو ہوگا مگر اجتماعی سیاسی اور فوجداری معاملات میں یہ دستور وآئین کا حصہ نہیں بنیں گے،
بھارت کے آئین کی خصوصیات
بھارت کے جمہوری نظام کو یہ خصوصیت حاصل ہے’ کہ وہ کسی ایک ذہن کی پیداوار نہیں ہے بلکہ ملک کے بہترین،روشن دماغ، اعلیٰ دماغ، چیدہ، لاء اسپیشلسٹ افراد پر مشتمل متعدد ذیلی مجلسوں اور مرکزی آئین ساز کمیٹی کی دماغ سوزی کا نتیجہ ہے یہی وجہ ہے کہ نسبتاً اس دستور میں ملک وانسانیت کے تحفظ وارتقاء کے حوالے سے اس میں خامیاں بہت کم ہیں،وجہ یہ ہے کہ اس آئین کی ترتیب کے وقت دنیا کے بہترین اور جامع سمجھے جانے والے قوانین سامنے تھے ان کے تجزیے گہرے مطالعے نے قانون سازوں کو غلطیوں سے جہاں محفوظ رکھا وہیں جامعیت کی راہیں بھی ہموار کیں،نتیجتا کہا جاسکتا کہ اس میں دنیا کے دساتیر کے بہترین اور کامیاب نکات شامل ہیں’،مکمل طور پر یہ سیکولر ازم کے اصولوں پر مرتب ہے،اس میں مرکزی حکومت کے ساتھ ریاستی حکومت کے قوانین کی تفصیلات بھی موجود ہیں، عوام کے بنیادی حقوق،بنیادی فرائض، ریاستی پالیسیوں کے متعلق ہدایات،مرکز اور ریاستی حکومتوں کے درمیان تعلقات، تمام وزارتوں کے فرائض، ہائی کورٹ سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار،اس کے اصول وضوابط، پبلک سروس کمیشن، الیکشن کمیشن، اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق پوری وضاحت کے ساتھ اس میں تفصیلات درج ہیں، اور درحقیقت یہ چھ بنیادی اصولوں میں سمٹی ہوئی ہیں'(1) برابری کا حق (2) آزادی کا حق (3) استحصال کے خلاف حق (4) مذہبی آزادی کا حق (5)تعلیمی و ثقافتی حق (6)آئینی چارہ جوئی کا حق۔۔
اس کے وہ خاص دفعات اور آرٹیکل جس پر ملک کے تحفظ اور اس کی عوام کی بقاء وانسانی مساوات وحقوق کی عمارت کھڑی ہے’ اس کی تفصیل ذیل میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے جسے مالیگاؤں کے ایک ریسرچ اسکالر نے لکھا ہے'(1)آئین ہند نے ہندوستانی عوام کو خود اپنی حکومت منتخب کرنے کے لئے خود مختار بنایا ہے اور ہندستانی عوام کو سرچشمہ اقتدار و اختیار مانا ہے جسے صاف الفاظ میں دستور کی تمہید میں بیان کردیا گیا ہے
(2)دستور نے پارلیمانی طرز کی جمہوریت کے سامنے کابینہ کو اپنے فیصلے قانون سازی اور اپنی پالیسی کے لئے جواب دہ بنایا ہے اور تمام باشندے بلا تفریق مذہب وملت ایک مشترکہ جمہوریت میں پرو دئیے گئے ہیں
(3) جمہوریت میں مذہب کی اہمیت کا بھی اعتراف کیا گیا ہے کہ ملک مذہب کی بنیاد پر حکومت نہیں کرے گا دستور کی 42ویں ترمیم کی رو سے اسے سیکولر اسٹیٹ کہا گیا ہے جہاں ہر مذہب کا احترام ہوگا اور مذہب گی بنیاد پر کسی قسم کا کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا
(4) مذہب یا ذات پات کی بنیاد پر کسی شہری کو شہریت کے حقوق سے محروم نہیں کیا جائے گا اور ہر شہری کو ملکی خدمات سے متمتع ہونے اور فائدہ اٹھانے کا پورا موقع ملے گا