آیا صوفیہ کا قضیہ حقائق اور غلط فہمیاں

از: محمد قمر الزماں ندوی

مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

آیا صوفیہ کی بازیابی، اور دوبارہ مسجد کے لیے اس کی بحالی، یقیناً ہم مسلمانوں کے لیے ایک عظیم خوشخبری، اور فتح و جشن کا موقع ہے، سلطنت عثمانیہ کے زوال کے بعد مصطفیٰ کمال اتاترک نے ۱۹۳۱ء میں اس عظیم مسجد کو میوزیم میں تبدیل کردیا تھا، آذان پر اور تمام مذہبی شعار پر پابندی عائد کردی تھی،اور اس ظالم نے کھرچ کھرچ کر اسلامی، علامات و نشانات کو مٹا دیا تھا۔ اس وقت پوری دنیا کے مسلمانوں پر بجلی گر گئی تھی، پورے عالم اسلام میں سوگ اور ماتم کا سماں تھا، ان کے سامنے اندھیرا چھا گیا تھا۔ علماء اور اہل علم مایوس ہو گئے تھے، اور ان پر حزن و ملال کی کیفیت طاری ہوگئی تھی،علامہ اقبال مرحوم پر خلافت عثمانیہ کے سقوط کا اتنا گہرا اثر تھا کہ انہوں نے ہاشمیوں کو مخاطب کرکے کہا تھا۔۔۔۔۔

بیچتا ہے ہاشمی ناموس دین مصطفیٰ

خاک و خوں میں مل رہا ہے ترکمان سخت کوش

اور ظالم اور منحوس اتاترک کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چاک کر دی ترک ناداں نے خلافت کی قبا

سادگی مسلم کی دیکھ اوروں کی عیاری بھی دیکھ

ترکی کی عدالت کے اس عظیم اور تاریخی فیصلے پر مسلمانوں کو خدائے وحدہ لاشریک کا شکر گزار ہونا چاہیے، نماز شکرانہ ادا کرنا چاہیے، اور اس عظیم فیصلہ پر اپنی خوشی و مسرت کا اظہار کرنا چاہیے، الحمد للہ پوری دنیا میں مسلمان خوش ہیں اور ایک طرح سے جشن کا اظہار کر رہے ہیں۔ لیکن دوسری طرف مسلمانوں میں ایک طبقہ وہ ہے جو ترکی کی عدالت کے اس تاریخی فیصلے پر افسوس کا اظہار کر رہے ہیں، اور اس کے خلاف مغلظات بک رہے ہیں۔ یاد رہے یہ مخالفین اس نظریہ کے پروردہ ہیں، جو خلافت عثمانیہ کے مخالف تھے، اور جنہوں نے انگریزوں سے سازش کرکے خلافت عثمانیہ کو زوال و انحطاط سے دوچار کرایا تھا۔

آیا صوفیہ قسطنطنیہ موجودہ استنبول کا مشہور چرچ تھا، اسے آرتھوڈوکس کلیسا کے عالمی مرکز کی حیثیت حاصل تھی۔ اس کی بنیاد چوتھی صدی عیسوی میں رومی بادشاہ قسطنطین نے ڈالی تھی۔ ایک ہزار برس تک یہ عمارت عیسائیوں کے مذھبی و روحانی مرکز کے طور استعمال ہوتی رہی تھی۔

آیا صوفیہ کی مختصر تاریخ یہ ہے کہ قسطنطنیہ کو ۱۴۵۳ء میں فتح کرنے کے بعد آیا صوفیہ کو سلطان محمد فاتح نے خطیر رقم دیکر (جس کے شواہدات اب تک موجود ہیں، انٹر نیٹ پر بھی دیکھا جاسکتا ہے)عیسائیوں سے خرید کر مسجد میں منتقل کیا تھا، جو باہمی رضا مندی سے تھا، سلطان فاتح نے زبردستی آیا صوفیہ پر قبصہ کرکے اسے مسجد میں تبدیل نہیں کیا، ۔۔۔۔۔۔۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ ۱۴۵۳ء میں جب آیا صوفیہ مسجد بنی تھی، تب بھی صلیبی اور بازنطینی دنیا میں سوگ اور ماتم کی لہر دوڑ گئی تھی، آیا صوفیہ تب خلافت عثمانیہ کی نشانی بن گئی تھی، فتح قسطنطنیہ کے لیے اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشن گوئی کی تھی، یہ پیشن گوئی اس وقت مکمل ہوئی جب آیا صوفیہ جو عیسائیوں کی قوت اور عروج کی نشانی تھی وہاں اذانوں کی گونج شروع ہوئی۔ عثمانی دور خلافت میں آیا صوفیہ میں شاندار تعمیراتی کام بھی ہوئے ، اس میں کچھ تبدیلیاں کی گئیں، مینار بنوائے گئے، فن تعمیر کی اعلی ترین کاریگری اور نقش و نگار سے آراستہ کیا گیا۔ چرچ میں جو تصاویر اور مجسمے تھے ان میں سے کچھ کو مٹا دیا گیا اور کچھ کو چھپا دیا گیا، اس وقت سے خلافت عثمانیہ کے خاتمہ تک یہ عمارت مسجد آیا صوفیہ کے نام سے مشہور رہی اور اس میں نمازیں ادا ہوتی رہیں۔ کمال اتاترک نے ۱۹۳۱ء میں جب خلافت کے خاتمہ کا اعلان کیا تو اس میں تالا ڈلوا دیا، چار سال بعد ۱۹۳۵ء میں اسے دوبارہ کھولا گیا لیکن مسجد کے لیے نہیں بلکہ میوزیم کے لیے۔۔۔۔

یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ اسلام میں جب کوئی جگہ مسجد بن جاتی ہے تو قیامت تک وہ مسجد ہی رہتی ہے نہ اس کو بیچا جاسکتا ہے نہ خریدا جا سکتا ہے، اور نہ ہی اس کا ہدیہ اور تبادلہ کیا جاسکتا ہے۔ (سوائے بعض فقہاء کے یہاں بعض استثنائی صورتوں میں) جب کہ دیگر مذاہب میں اور خاص طور پر عیسائیوں کے یہاں مسئلہ مختلف ہے۔ عیسائیوں کے یہاں اپنے چرچوں کو بیچنا، فروخت کرنا عام بات ہے، جس کی سینکڑوں مثالیں موجود ہیں، اور آج بھی عیسائی دنیا میں بڑے مادی مفاد کے لیے گرجا گھروں کو بیچا جا رہا ہے۔ کتنے چرچ ہیں جو مالس اور شراب خانوں میں تبدیل ہورہے ہیں۔۔۔۔۔۔

یہاں ایک فقہی مسئلہ کو سمجھنا اور ذھن میں رکھنا بھی ضروری ہے کہ جو علاقہ فتح ہونے کے بعد مسلمانوں کے قبضے میں آئے اس کی دو شکلیں تھیں، ایک جو صلحا فتح ہوئے اور دوسرے بزور قوت، دونوں کے مسائل الگ الگ ہیں، فقہاء نے لکھا ہے کہ صلح کے ذریعے فتح ہونے کی صورت میں اسلامی ریاست پابند تھی کہ کہ شرائط صلح پر عمل کیا جائے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بیت المقدس صلح کے ذریعہ فتح ہوا، جس میں یہ درسایا گیا تھا کہ تمام مسیحی مقدس مقامات باقی رکھے جائیں گے۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس معاہدہ کی پاسداری کی۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔

جو ممالک بزور قوت حاصل ہوئے اس کے بارے میں فقہاء کی دو طرح کی رائیں ہیں۔ بعض کے یہاں ان میں بھی دیگر مذاہب کی عبادت گاہیں ان کے پیروکاروں کے تصرف میں رہیں گی، اور بعض کہتے ہیں کہ ان میں مسلم حکمرانوں کو تصرف کرنے کا اختیار ہوگا۔ بعض علماء کا خیال ہے کہ بزور قوت فتح کئے جانے والے ممالک میں حکمراں کو اختیار ہوگا کہ وہ بتقاضائے مصلحت قدیم عبادت گاہوں کو باقی رکھ سکتا ہے۔ جیسا کے رسول ﷺ نے اہل خیبر کے ساتھ معاملہ کیا تھا اور خلفائے راشدین نے مفتوحہ ممالک میں کیا تھا ( اوپر کی یہ تفصیلات ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی کی تحریر سے مستفاد ہے) ۔

جو لوگ آیا صوفیہ کے قضیہ کو بابری مسجد پر قیاس کر رہے اور ایک کو دوسرے سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں وہ انتہائی غلط فہمی کے شکار ہیں، دونوں کی نوعیت الگ الگ ہے، اس لیے ایک کو دوسرے پر قیاس کرنا، نادانی کم فہمی کی بات ہے۔ معاملہ یہ نہیں ہے کہ ترکی حکومت نے کسی چرچ کو تبدیل کرکے مسجد بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ آیا صوفیہ کو جو پہلے چرچ تھا محمد فاتح نے برضا و رغبت عیسائیوں سے خرید کر اس کو مسجد میں بدلا تھا، کسی زمین کو خریدنے کے بعد مالک زمین کو اختیار ہے کہ وہ اس پر جیسا تصرف کرے، مسجد بنائے، عجائب گھر بنائے، اسکول و کالج بنائے۔ آیا صوفیہ کو مسجد میں منتقل کیا گیا اور وہاں چار سو اٹھتر برس باقاعدہ نماز ہوتی رہی۔ ۱۹۳۵ء میں میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ ترکی کی عدالت نے اس کی سابقہ حیثیت بحال کرنے کا فیصلہ سنایا اور حکومت نے عدلیہ کے فیصلے کو نافذ کرنے کا اعلان کردیا تو اس میں پریشانی اور ہنگامہ برپا کرنے کی کون سی بات ہے۔۔۔ پوری زندگی مصلحت ۔ مصلحت اور وقت کا تقاضا کی رٹ لگانے سے کوئی فائدہ نہیں، کہیں جرات و ہمت کا بھی تو مظاہرہ کیجئے۔۔۔۔۔۔۔۔ افسوس تو وہاں کیجئے اور اعتراض تو وہاں جتائیے جہاں ظالمانہ طریقے سے کسی مسجد پر قبصہ کر لیا جاتا ہے۔ اور اس کی حیثیت کو تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ لیکن افسوس کہ وہاں ان کی آواز پست رہتی ہے اور ایک آواز اٹھانے کو تیار نہیں ہوتے۔۔۔

ہم یہ کیوں بھول رہے ہیں کہ ترکی میں کسی چرچ کو مسجد میں نہیں بدلہ جارہا ہے، بلکہ ایک مسجد جو کو میوزیم بنا دیا گیا تھا، اسی عجائب گھر کو دوبارہ مسجد میں بدلا جارہا ہے۔ اس کے باوجود مسلمانوں کا ایک طبقہ پش و پیش میں ہے، اور عالم عرب اور وہاں کے حکمراں تو پہلے سے دہشت میں ہیں کہ کہیں ان آقا امریکا ناراض نہ ہو جائے اور گرجا و کلیسا کے ان کے پیر و مرشد ناراض اور ناخوش نہ ہو جائیں۔۔۔۔۔۔

ہاں یہ بھی سچ ہے کہ خوشی اور ناراضی جشن اور غم منانے کے اسلامی آداب اور حدود و شرائط ہیں، اس کے ضابطے اور قانون ہیں، ہمیں ہر موقع پر اعتدال و توازن برقرار رکھنا چاہیے، اور افراط و تفریط سے اجتناب برتنا چاہیے، اور جو اسلامی تعلیمات و ہدایات ہیں، ان پر مکمل عمل کرنا چاہیے، ہماری کسی بھی نقل و حرکت اور قول و عمل سے اپنے اور پرائے دوست و دشمن کسی کا بھی دل نہیں دکھنا چاہیے۔۔۔۔۔۔۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے