قرآن کی قسم کھانے سے منع کیاگیاہے، لیکن اگر کسی نے (قسم کے الفاظ کہتے ہوئے) قرآن پاک کی قسم کھالی تو منعقد ہوجاتی ہےکیونکہ قرآن بھی اللہ تعالی کی ایک صفت ہے، لہذااگر کسی جائز یا بہتر کام کی قسم کھائی ہے تو اسے پورا کرنا چاہیے، البتہ اگر قسم ٹوٹ جائے یا نامناسب کام پر قسم کھائی تھی اور اسے توڑدیا تو اس کے توڑنے کا کفارہ ادا کرے۔واللہ اعلم بالصواب۔
(مستفاد: فتاوی دارالعلوم دیوبند
قال فی الشامی: ولا یخفی أن الحلف بالقرآن الآن متعارف فیکون یمینًا (درمختار مع الشامي: ۵/۴۸۴، ط: زکریادیوبند)
ناقل✍ہدایت اللہ قاسمی
خادم مدرسہ رشیدیہ ڈنگرا،گیا،بہار
HIDAYATULLAH
TEACHER MADARSA RASHIDIA DANGRA GAYA BIHAR INDIA
نــــوٹ:دیگر مسائل کی جانکاری کے لئے رابطہ بھی کرسکتے ہیں
CONTACT NO
6206649711
????????????????????????????????????????????????