لاک ڈاؤن اور جانوروں کی پریشانیاں

???? *صدائے دل ندائے وقت*????(888)

*لاک ڈاؤن اور جانوروں کی پریشانیاں!!!*

*کرونا وائرس کا قہر انسانوں کیلئے آزمائش کا باعث بنا ہوا ہے، تقریباً پچیس لاکھ لوگ متاثر ہیں، تو ڈیڑھ لاکھ لوگوں نے جان گنوائی ہے، پوری انسانیت ایک غیر مرئی دشمن کے سامنے محاذ آراء ہے، ہر ایک کی جان خطرہ میں ہے، کون کب اس کا لقمہ بن جائے، اور زندگی سے ہاتھ بیٹھے، کچھ نہیں کہا جا سکتا، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ جنگ دو آتشہ ہے، بیماری کا خوف اور شدت بھوک بھی انسان کیلئے ملک الموت ثابت ہورہی ہے، اگر کوئی کرونا وائرس سے جیت جائے تو بھوک کی وجہ سے مر جائے، بالخصوص بھارت جیسے ملک میں پیٹ کاٹ کر جینے والوں کی تعداد کچھ زیادہ ہی ہے، اس وقت چالیس کروڑ سے زائد یومیہ مزدور پریشان حال ہیں، خبریں ہیں کہ لوگ پیٹ میں پانی کے قطرے ڈال کر رومال سے باندھ لیتے ہیں، اور زندگی کی رمق پاتے ہیں، مگر ان کا کیا جو پانی کو بھی ترس رہے ہوں، ان کی فکر کسے ہے جو کبھی گھروں کی حفاظت کرتے تھے، اب سڑکوں پر ہیں، جنہیں ماں (گائے) مانتے تھے اب ہائیوے پر ہیں، جسے پالنے کیلئے ہوڑ لگی ہوئی تھی، عالمی تنظیمیں جنہیں سپورٹ کر رہی تھیں، اور اسے دنیا کی عظیم سعادت میں شمار کر رہی تھی، اب کیا ہوا کہ یکا یک ان جانوروں کو بھول گئے، متحدہ عرب امارات کی خبر یہ ہے کہ وہاں پر بلیاں سڑکوں پر چھوڑ دی گئی ہیں، لوگ انہیں اپنے آشیانے سے بھگا رہے ہیں.*

*بی بی سی نے کئی ملکوں کے بارے میں بتایا کہ وہاں پالتو کتے گھروں سے نکال دئے گئے ہیں، کیونکہ کرونا کا خوف ہے، یا خود کی کفالت مشکل ہے، ایسے میں ایک جانور کو کون پالے گا، پاکستان کے متعلق یہ خبر ہے کہ وہاں لاک ڈاؤن کرنے کے بعد دوکانوں میں موجود جانور بھوک سے مر گئے، بھارت میں بھی ان جانوروں کا کوئی پرسان حال نہیں جو آوارہ پھرتے ہیں، وہ گلیوں اور چوراہوں پر بیٹھے رہتے ہیں، جنہیں ہمدردی میں کوئی کچھ کھلا جاتا ہے، راستے پر کچھ ڈال جاتا ہے، جو اس کی روزی روٹی بن کر جینے کا سہارا بنتی ہیں، آپ غور کیجئے!! لاک ڈاؤن کے بعد اب جانوروں کی آواز نہیں آتی، کتے بھونکنے کے بجائے کہیں گم ہوگئے ہیں، یہ بھونکنا گرچہ لوگ گالی کے طور پر استعمال کرتے ہیں، مگر کتوں کی تو یہی اصل ہے، اگر انہوں نے بھونکنا چھوڑ دیا تو گویا ان کی زندگی مایوس کن ہوگئی، ذرا کھڑکیوں سے جھانک کر دیکھئے ان کے پیٹ اور پیٹھ کے فاصلے کم ہوگئے ہیں، اب اذان کے وقت بھی ان کی آواز نہیں آتی، سڑکوں پر بیٹھے ہوئے بھی نظر نہیں آتے، news18 کے مطابق گاؤں میں بھی جانوروں کو کچھ کھانے کیلئے نہیں ہے، چارہ کم دیا جارہا ہے، نتیجتاً دودھ کی قلت ہے، کسانوں کی یہی کمائی تھی، وہ بھی غارت ہوگئی، وہ تشویش میں پڑ گئے ہیں کہ اگر یونہی چلتا رہا تو جانور کیسے زندہ رہیں گے.*

*ایک عزیز کے مطابق لاک ڈاؤن کے دوران ایک ہوٹل مالک کا گزر دفعتاً عرصہ بعد اس کی دوکان سے کیا ہوا، انہیں دیکھتے ہی وہاں پر موجود سارے کتے ان کے پیچھے ہو لئے، وہ زبان حال سے صاف طور پر کہہ رہے تھے کہ مالک ہمارا پیٹ خالی ہے، زندگی کی اس لڑائی میں انسان اگر مر رہا ہے تو ہم بھی نہیں جی پارہے ہیں، وہ زبان نکالتا، دم ہلاتا چلا، مگر وہ مالک بھی کیا کرے، اسے خود دو وقت کی روٹی کیلئے جد وجہد کرنی ہے، دکان بند ہے، سامان ختم ہے، آمدنی کے ذرائع مسدود ہیں، خود کا پیٹ پالنا اور گھر کی دیکھ ریکھ کرنا محال ہے، ایسے میں ایک زائد بوجھ کیسے اٹھائے، یہ کوئی ایک دو جگہ کہ بات نہیں بلکہ ملک بھر کی کہانی ہے، چنانچہ آگرہ کی سڑکوں پر ایک شخص کے دودھ کا ٹینکر گر گیا، دودھ چھلک کر راستے پر بہہ پڑا، کالی کالی سڑک پر دودھ کی سفید چادر پسر گئی، بھوکے دوڑے، ضرورت مند افراد لپکے؛ ایک شخص اس دودھ کا راستہ روکنے لگا اور قطرہ قطرہ سمیٹ کر تھیلے میں بھرنے لگا، تو وہیں قریب ہی میں کئی کتے دودھ پینے لگے، یہ نظارہ انسانیت کی روح کو جھنجھوڑ دینے والا ہے، اس وقت انسان بھی نوالے کو ترس رہا ہے اور جانور بھی بے قرار ہیں، بے آرامی اور بے چینی کا عالم یہ ہے کہ ہر طرف بھوک کی چیخیں سنائی دے رہی ہیں، اب تک انسانوں کی اٹھتی لاشیں دیکھ کر دل تھما بھی نہ تھا کہ جانوروں پر زار و نزار کی کیفیت نے سوچنے پر مجبور کردیا ہے، اسلام نے جانوروں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے، کسی جاندار کو مرتے دیکھنا اور استطاعت کے باوجود اس کیلئے کچھ نہ کرنا حرام ہے، اگرچہ انسانی جان کو فوقیت ہے؛ لیکن جانوروں کو بھول جانا اور اس آزمائش کی گھڑی میں انہیں فراموش کردینا غیر اخلاقی اور غیر اسلامی عمل ہے، ویسے بھی WHO کا ماننا ہے کہ جانوروں سے یہ بیماری نہیں پھیلتی، ایسے میں اس ادارے نے حیرانی کا اظہار کیا ہے کہ لوگ کیونکر اپنے جانوروں کے ساتھ ایسا سلوک کر رہے ہیں، یقیناً یہ وقت مشکل ہے، مگر خیال رہے انسانیت اگر سلامت ہے، نیک نیتی برقرار ہے، بہتر عمل اور ہمدردی کا عنصر پایا جاتا ہے، تو بہر کیف فوقیت ہوگی، حالات چھٹ جائیں گے، پھر سے روشنی ہوگی، افق پھر صاف ہوگا.*

✍ *محمد صابر حسین ندوی*

Mshusainnadwi@gmail.com

7987972043

19/04/2020

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے