لاک ڈاؤن میں ذہنی توازن برقرار رکھئے

???? *صدائے دل ندائے وقت*????(887)

*لاک ڈاؤن :ذہنی توازن برقرار رکھئے!!*

*لاک ڈاؤن ایک قید خانہ ہے، تالا ڈال کر کوئی اپنے محل میں بھی رہنے لگے تو اسے بھی قرار نہ آئے گا، گزشتہ زمانے میں بادشاہت کیلئے لوگ اپنے باپ، بیٹوں کو محلوں میں نظر بند کردیا کرتے تھے، تاریخ نے اسے بھی قید کرنا ہی لکھا ہے، ابھی کچھ وقت پہلے کشمیر میں تقریباً کئی مہینوں تک وہاں کے سیاست دانوں کو نظر بند کردیا گیا تھا، انہیں بھی مقید ہی کہا جاتا تھا، عجیب بات ہے کہ اس وقت دنیا کی اکثر آبادی قید خانے میں قید ہے، یہ لفظ قید خود انسان پر ایک خاص کیفیت طاری کردیتا ہے، ذہنی ریشوں کو کھیچ کر رکھ دیتا ہے؛ لیکن جو لوگ قید کی زندگی گزار چکے ہیں، ان کے متعلق تحقیقات و انٹرویوز پڑھئے، دماغ میں خلش، ذہن میں بے چینی، طبیعت میں چڑچڑاپن، اکتاہٹ، بوکھلاہٹ، بے قراری، نظریں نڈھال، دل میں خموشی، اور ایک طوفان، سرکشی، دنیا کو الٹ پلٹ کر دینے کے خواب، سب کچھ بکھیر کر رکھ دینے کی تمنا، ایک زخمی سینہ، گرتی پلکوں اور رستے غم کا سلسلہ، جسم کا ہر حصہ چور چور، سونے کے باوجود نیند کا خمار، آرام ہے لیکن پھر بھی راحت نصیب نہیں، جسم میں پر کوئی بوجھ نہیں؛مگر ہر وقت ایک پہاڑ تلے دبے رہنے کا احساس…*

*کھانا کھالیں، مگر بھوک مٹتی نہیں، پانی پی لیں لیکن پیاس بجھتی نہیں ہے، زبان کی لذت کافور، اور پورے جسم میں کڑواہٹ ہی کڑواہٹ جیسے متعدد اثرات میڈیکل سائنس میں نقل کئے گئے ہیں، کیونکہ انسان متنوع المزاج ہے، وہ یک رنگی زندگی نہیں جی سکتا، خواہ اسے تیتر بٹیر ہی کیوں نہ ملتے ہوں، چنانچہ اگر یہ لفاظی ہے تو اپنے لاک ڈاؤن پر غور کیجئے!! بہت سے فارغ البال بھی خود کشی کر رہے ہیں، امریکہ سے مستقل ایسی خبریں آرہی ہیں کہ باپ نے اپنی جوان بیٹی کو معمولی بات پر گولی ماردی، کسی نے اپنی محبوبہ کا سر کچل دیا، کسی کا ذہنی توازن اتنا خراب ہوگیا کہ وہ کنٹرول سے باہر ہوگیا، یہ قصے ان ممالک کے ہیں جو ترقی یافتہ ہیں، جن کے سامنے دوسرے ممالک بونے ہیں، جنہیں ہر کوئی آئیڈیل مانتا ہے، ان کی تقلید کرنا چاہتا ہے، اٹلی کی خبریں آیا کرتی تھیں، جہاں کرونٹائن میں ہی لوگ خودکشی کو ترجیح دے رہے تھے، چین میں لوگوں کو زبردستی گھروں میں روکا جاتا تھا، وہ باہر نکلنے کی ہر ممکن کوشش کرتے تھے، ایران میں بھی لوگوں کا یہی ذہنی بگاڑ تھا، وہ لاک ڈاؤن نہیں جھیل پاتے تھے اور گھروں سے نکل جاتے تھے، نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ملک بھی بری طرح سے متاثر ہے.*

*اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کورونا کی وجہ سے ہوئے لاک ڈاؤن کے بعد گھروں کے اندر کا ماحول پرتشدد ہو رہا ہے، ذہنی آزمائش کی بنا پر لوگ جرم کی حد تک بڑھ رہے ہیں، سنگاپور کی ایجنسی سی این اے کے مطابق وہاں لاک ڈاؤن میں گھریلو تشدد 33/ فیصد بڑھ گئے ہیں، جب کہ فرانس میں گھریلو تشدد میں 36/ فیصد کا اضافہ درج کیا گیا ہے۔ ہندوستان میں اس طرح کے اعداد و شمار ابھی جمع نہیں کیے گئے ہیں، تاہم بھارت میں بھی ہر انسان پریشان ہے؛ لیکن یہاں ایک طرف بیماری کا خوف ہے تو دوسری طرف بھوک کے ڈر سے بھی لوگوں کا ذہنی توازن بگڑ رہا ہے، ان کے اندر صبر وتحمل کا فقدان پایا جارہا ہے، کئی ایسی رپورٹس سامنے آئی ہیں جن میں تشدد درج کیا گیا ہے، یہی وجہ ہے کہ جونہی لوگوں کو موقع ملتا ہے وہ گھروں سے باہر نکلنے پر مجبور ہوجاتے ہیں، پولس پریشان ہے، محکمے جھیل رہے ہیں، بلکہ یہاں ذہنی آزمائش اس معیار پر پہونچ گئی ہے کہ اپنے ہی محافظین یعنی ڈاکٹروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے، انہیں مارا جارہا ہے، ہجومی تشدد کا شکار بنایا جارہا ہے، ممبئی اس وقت سب سے بری حالت میں ہے، مگر اب بھی وہاں سنجیدگی نہیں آئی ہے، عوام اب بھی بے فکر ہے.*

*اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کی بڑی تعداد مزدوروں کی ہے، جو کماتے اور کھاتے تھے، وہ کارخانے اور فیکٹریوں میں کام کرنے والے تھے، انہیں لاک ڈاؤن میں رکھا گیا ہے، جہاں ایک چھوٹے سے کمرے میں تیس سے زائد لوگ رہتے ہیں، جن میں حالت یہ ہے کہ ایک انسان کروٹ بھی نہیں لے سکتا، وہ اگر ایک جانب سو گیا تو دوسری طرف تبھی پلٹ سکتا ہے؛ جبکہ دوسرا پلٹ جائے، وہ انہیں چھوٹے چھوٹے گھروں میں سوتے ہیں، کھاتے ہیں اور پھر سو جاتے ہیں، ایسے میں ان کے اندر طبعی طور پر جھنجھلاہٹ پائی جاتی ہے، وہ راستوں پر نکل جاتے ہیں، دہلی جیسے شہر میں سینکڑوں مزدور ندی کے کنارے، برج کے نیچے یا پھر موٹے پائپوں میں لاک ڈاؤن کو برداشت کر رہے ہیں، چنانچہ وہ ہر کبھی راستے پاٹ جاتے ہیں، اور سرکار کیلئے مشکل کا باعث بن جاتے ہیں، مگر آخر کیا کیجیے!! اس قید حیات میں ایک اور قید خانہ کوئی کیسے برداشت کرے، اسی لئے اندازہ ہے کہ لاک ڈاؤن کے بعد ذہنی امراض میں مبتلا ہونے والوں کی تعداد بھی بڑھے گی، اور ایک سلسلہ ان بیماروں کا سامنے آئے گا جو طبعی طور پر بے چینی کا شکار ہوگئے اور ذہنی توازن برقرار نہ رکھ سکے، خدا خیر کا معاملہ کرے، ایسے موقع پر بہتر یہی ہے کہ ہر ایک اپنے آپ کو مصروف رکھے، نماز، روزہ، ذکر و اذکار تو من عزم الامور ہیں، تعلیم و تعلم بھی ایک سہارا بن سکتا ہے، اپنے گھر کو ہی مسجد اور مدرسہ بنا لیجیے، ہر وقت کو اہم کاموں کیلئے تقسیم کر لیجیے، اپنوں کے ساتھ مل کر کچھ تفریحی کام بھی ضرور کیجئے.*

✍ *محمد صابر حسین ندوی*

Mshusainnadwi@gmail.com

7987972043

18/04/2020

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے