*کہتے ہیں عذاب کے وقت قوموں کی عقل ٹھکانے لگ جاتی ہے، وہ اپنے گناہوں پر شرمندہ ہوتے ہیں، تائب ہو کر حتی الامکان تلافی کی کوشش کرتے ہیں، ان کے دل نرم پڑجاتے ہیں، وہ قساوت قلبی سے دور ہو کر نرم دل ہوجاتے ہیں، باہم محبت و مدد کا ہاتھ بڑھاتے ہیں، وہ نفرتوں کی آندھی سے دور ہو کر محبت کی باد بہاری چلاتے ہیں، غصہ و رنجش کی بھٹی پر پانی ڈالتے ہیں، نفرتوں کے شعلے بجھا دیتے ہیں، نسیم سحر جگانے اور لطف و عنایت پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر عجیب بات ہے کہ کرونا وائرس نے انسانی زندگی تباہ کردی، ترقی یافتہ ممالک کی اینٹ سے اینٹ بجادی، زندگی تنگ کردی، زمین کی ساری وسعتیں سمیٹ دی، چہار جانب غم و اندوہ کی چادر تان دی، پت جڑھ کا کا عالم بنا دیا، ہر پتہ ٹوٹ رہا ہے، ہر شاخ کمزور ہورہی ہے، تب بھی بہت سے نابلد لوگ اسی نفرت کی آگ میں جھلس رہے ہیں، دل میں وہی شعلہ ہے جس سے وہ کبھی دوسروں کو بھسم کیا کرتے تھے، آج بھی مرتے مرتے اپنی آگ کو مزید مشتعل کرنے میں مصروف ہیں، بالخصوص ملک عزیز کی یہ روایت بن چکی ہے؛ کہ ہر واقعہ کو ہندو مسلم کردیا جائے، مسلمانوں کو ایک آسان نشانہ بنا کر ساری آفتوں اور بلاؤں کو ٹھیکرا انہیں کے سر پھوڑ دیا جائے.*
*چنانچہ کرونا وائرس نے تباہی مچانا شروع ہی کیا تھا؛ کہ جگہ جگہ سے یہ آواز آنے لگی کہ یہ ایک سازش ہے، مسلمانوں نے کرونا جہاد شروع کردیا ہے، مسلمان جان بوجھ کر وبا پھیلا رہے ہیں، خاص طور پر جماعت تبلیغ کے سلسلے میں لامتلافی اور لامتناہی مبالغہ سے کام لیا، پروپیگنڈے ہوئے، سازشوں کا انبار لگایا، قومی سطح پر نیوز ایجینسیز کے ذریعے وائرس کو مسلمانوں کا ہتھیار ثابت کرنے کی کوشش کی گئی، بات اس قدر آگے بڑھ گئی کہ عوام نے مسلمانوں کو ہومن بامب کہہ کر لنچنگ شروع کردی، ان کے گھروں کو seas کرنا اور ان کی گلیوں، محلوں اور اکثر آبادی والے شہروں کو نشانہ بنانا شروع کردیا، ان کے ساتھ پولس نے بھی بربریت دکھائی، ناجائز مقدمات درج کئے، ان کے اشرفاء کو ذلیل کیا گیا، ڈاکٹروں نے ان کا علاج کرنے سے منع کیا، ہاسپٹل نے بھی رد عمل ظاہر کیا، اور ایک ایسا معمہ بنا دیا جس کا کوئی حل نہ ہوسکے، معاشرتی سطح پر ان کا بائیکاٹ کیا جانے لگا، لوگ ان سے سبزی نہیں خریدتے، سوسائٹی میں انہیں تجارت کا سامان لیکر نہیں آنے دیتے، بہت سی کالونیوں کے سامنے یہ آویزاں کردیا گیا ہے؛ کہ مسلمان ان میں داخل نہ ہوں، ایک مسلم شخص کو اس کے پڑوسیوں نے اس قدر ٹارچر کیا کہ اس نے خودکشی کر لی، ایک شخص کو اتنا مارا گیا کہ وہ نیم جان ہوگیا.*
*بات اتنی زیادہ سنگینی اختیار کر گئی کہ عالمی ادارہ WHO نے اس پر شکنجہ کسنا مناسب سمجھا، اس نے براہ راست ملک بھارت کو مخاطب کیا اور کہا کہ بیماری کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، اسے کمیونلائز نہ کیا جائے، اس پھٹکار کے بعد ذرائع ابلاغ کے خلاف بھی ایکشن لیا گیا، بلکہ بڑی بات تو یہ ہوئی کہ سرکاری سطح پر یہ نصیحت جاری کی گئی؛ کہ کوئی اس معاملہ کو کسی فرقے کے ساتھ نہ جوڑے، اگر کسی نے ایسا کیا تو اس کے خلاف ایکشن لیا جائے گا، حتی کہ یوگی آدتیہ ناتھ نے بھی یہی بات کہی، کرناٹک کے وزیر اعلیٰ یدیو رپا نے بھی صاف طور سے کہا کہ مسلمانوں کے خلاف اس طرح کی کوئی بھی بات قابل قبول نہیں ہے، اگر کسی نے ایسی نفرت انگیز بات شائع کی تو اسے بلاتامل کاروائی جھیلنی ہوگی، واقعہ یہ ہے کہ جب اس وائرس نے ملک کو اپنی چپیٹ میں لینا شروع کیا تو لگتا تھا کہ اب ملک متحدہ طور پر لڑے گا، ان میں فرقہ وارانہ باتیں نہیں ہوں گی، لیکن اس قوم نے اس عذاب کو بھی خود کیلئے رحمت سمجھنے کی بھول کی اور اسے اپنے ہندوزام کا ایک آلہ بنایا، نفرت کی آگ پھر سے بھڑکانے لگے، اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے ملک میں اس کی لپیٹ عام ہوگئی.*
*ایسا محسوس ہونے لگا کہ بس مسلمانوں ہی کی بنا پر کرونا وائرس پھیلا ہے، سمجھ نہیں آتا کہ اس نفرت انگیز فکر پر کیسے ماتم کیا جائے، چنانچہ اب حال یہ ہے کہ ملک اس وائرس سے لڑنے کیلئے مکمل تیار نہیں ہے، موتیں رک نہیں رہی ہیں، کوئی صوبہ ایسا نہیں ہے جہاں متاثرین نہ ہوں، پورا ملک لاک ڈاؤن میں ہے، مزدوروں سے لیکر امیروں تک ہر کوئی ایک ہی زندگی جینے پر مجبور ہے، ساری نفرتیں جو دیوار کی طرح کھڑی تھیں، انہیں بچانے سے قاصر ہیں، ملک معاشی اعتبار سے ڈوبنے کو تیار ہے، اب دانہ دانہ کی محتاجی کا وقت آنے والا ہے، پہلے ہے روزگاری حد سے زیادہ تھی اب اس کی تعداد اتنی زیادہ ہوجائے گی؛ کہ اسے سنبھالنا مشکل ہوجائے گا، اب کوئی بتائے کہ اس سے کیسے نپٹا جائے گا، اگر ہندو مسلم کرنے سے ہی سارے مسائل حل ہوجاتے ہیں، تو استقبال ہے، آفریں ہے، ویسے بھی مسلمان اپنی جان ہتھیلی پر رکھتے ہیں، لے لیجیے اور ہو سکے تو ملک کو بچا لیجیے؛ لیکن یہ ناممکن ہے، نفرت سے صرف جہنم کی آگ دہکتی ہے، جس کا لازمی نتیجہ ہے کہ وہ ہر ایک کو جھلسا کر رکھ دے.*