**مشترکہ خاندانی نظام _ غور و فکر کے چند پہلو*
(۱۵)
محمد قمر الزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام، کنڈہ پرتاپگڑھ
*مشترکہ خاندان اور بے پردگی*
شریعت مطہرہ میں پردہ کا جو بنیادی مقصد ہے، عصمت و عفت کی حفاظت اور جنسی تعلقات کی پردہ پوشی، اسی مقصد کے لیے ہے، بعض اوقات شریعت نے محرم مردوں کو بھی پابند بنایا ہے، کہ وہ گھر کے اندر داخل ہوتے وقت اجازت لیں، تفصیل سورہ نور آیت ٥٨ کے تحت دیکھی جاسکتی ہے، نیز شریعت نے ایسے لوگوں کے دائرہ کو محدود سے محدود تر کردیا ہے، جن کے سامنے عورت کو بے حجاب آنے کی اجازت دی گئی ہے، (النور آیت ٣١)
اور وہ ایسے لوگ ہیں جن سے عورت کے لئے رشتئہ نکاح قائم کرنا ہمیشہ کے لیے حرام ہے یا انہیں جنسی تعلقات سے آگاہی کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ شوہر کا بھائی، بھتیجا، بھانجا اس فہرست میں شامل نہیں ہیں۔ اور مشترکہ خاندان میں ان لوگوں سے زینت کی جگہوں اور ستر کے حصوں کو چھپانا اگر ناممکن نہیں تو دشوار ضرور ہے۔ اور یہ وہ رشتہ دار ہیں جن سے پردہ کے سلسلہ میں عام طور پر غفلت برتی جاتی ہے، جبکہ آنحضرتﷺ نے غیروں کے ساتھ ساتھ اپنوں سے سخت احتیاط برتنے کی ہدایت فرمائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔ اجنبی عورتوں کے پاس جانے سے بچو، ایک انصاری صحابی نے عرض کیا، یارسول اللہﷺ! حمو (دیور) کے بارے میں آپ کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حمو تو موت ہے۔ (صحیح مسلم)
حمو سے مراد شوہر کے عزیز و اقارب ہیں جن سے عورت کا نکاح ہوسکتا ہے، شوہر کے رشتہ داروں سے خلوت نشینی، اجنبیوں کے ساتھ خلوت میں رہنے سے کہیں زیادہ خطرناک اور اندیشناک ہے، اور اسی وجہ سے مشترکہ خاندانی نظام میں یہ خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ مذکورہ حدیث کی شرح میں علامہ نووی رح لکھتے ہیں، دوسروں کے بالمقابل شوہر کے رشتہ داروں سے اندیشہ زیادہ ہوتا ہے، اس سے برائی کے امکانات اور فتنہ بڑھ جانے کا خوف زیادہ ہوتا ہے، اس لیے کہ عورت تک رسائی اور اس کے ساتھ تنہائی میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے، اور اسے برا بھی نہیں سمجھا جاتا ، اس کے برخلاف دوسرے لوگوں کے مقابلے میں ایسا نہیں ہوتا ہے۔ ( المنہاج فی شرح مسلم بن حجاج)
ایک اور دوسری حدیث میں ہے کہ جن عورتوں کے شوہر سفر میں ہوں ان کے یہاں مت جاو۔ کیونکہ شیطان تمہارے اندر خون کی طرح دوڑتا ہے۔۔
چونکہ مشترکہ خاندانی نظام میں بے پردگی عام ہوتی ہے اور اس سے بچنا دشوار ہوتا ہے، اس لیے اس پہلو سے بھی یہ نظام شریعت سے ہم آہنگ نہیں ہے اور دین اسلام سے میل نہیں کھاتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری