لاک ڈاؤن میں پوری انسانیت کی پرواہ ہو

???? *صدائے دل ندائے وقت*????(886)

*لاک ڈاؤن: پوری انسانیت کی پرواہ ہو!!*

*یہ لکھتے اور کہتے ہوئے حیرانی ہوتی ہے کہ ہمیں پوری انسانیت کیلئے کام کرنا چاہئے، یہ ان سے کہا جارہا ہے جس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہی پوری انسانیت کیلئے تھی، اور ان کے ماننے والوں کا لازمی جزو یہی مانا جاتا ہے، کہ وہ پوری انسانیت کیلئے بھیجے گئے ہیں، یہ ان کے ایمان و عقیدہ کا حصہ ہے، چنانچہ قرآن کریم نے انہیں "اخرجت للناس” کے ساتھ ہی جوڑا ہے، یعنی یہ امت پوری انسانیت کیلئے اٹھائی گئی ہے، بپا کی گئی ہے، اسے اسی لئے جنم دیا گیا ہے، یہی وجہ ہے کہ امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کا تعلق صرف مسلمانوں سے نہیں ہے، جو لوگ اسے صرف مسلمانوں کے ساتھ خاص سمجھتے ہیں، وہ یقیناً حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رحمۃ اللعالمین ہونے پر سوالیہ نشان لگا رہے ہیں، کیونکہ ان کے امتی محض اکرام مسلم نہیں بلکہ اکرام انسانیت کیلئے وقف کی گئی ہے، کسی مسلمان کیلئے جائز نہیں کہ وہ عام حالات کسی کی بے توقیری کرے، اس کے باوجود آخر یہ کیا بات ہوگئی کہ مسلمانوں کا دائرہ حد درجہ سمٹتا چلا گیا، انہیں ایک ایسی قوم کے توسط سے پہچان نصیب ہوئی؛ کہ وے صرف اپنی پرواہ کرتے ہیں، وہ اپنے ہی مسائل میں الجھے رہتے ہیں، ان کے سامنے دنیا کیلئے کوئی پیغام نہیں ہے، ترقی و تعمیر کا کوئی ڈھانچہ نہیں ہے، وہ دوسری قوموں پر بوجھ ہیں، دوسروں کے وسائل پر منحصر ہیں، دوسروں کی ایجادات و تخریعات پر مجبور ہیں.*

*چنانچہ ان کے فرقے، مذاہب اور ان میں پرپیچ کیفیت کا عالم یہ ہے؛ کہ وہ کسی اور عالم کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے، یہ بات بھی عام ہوگئی ہے کہ ان کی تہذیب و ثقافت اور طرز بود و باش ہی ان کیلئے سب کچھ ہے، عقیدت کی باتیں تو کم ہی ہوتی ہیں؛ لیکن اس سے زیادہ ان کی سختی، کج روی اور کج فہمی، تشدد و تعصب کو خوب اچھالا جاتا ہے، ہمارے علماء و صلحاء کی تعداد یوں بھی کم ہے؛ لیکن جہاں تک ہیں ان میں یہ کمی بڑی پائی جاتی ہے، وہ اپنے خاص ہیولے میں مقید رہتے ہیں، باہر کی دنیا ان کیلئے اجنبی رہتی ہے، وہ پیام انسانیت سے دور رہتے ہیں، ہر ایک اپنے اپنے دھڑے پر لگا ہوا ہے، اگر کوئی پیام انسانیت (عام مفہوم میں) کو وقت کی ضرورت سمجھتا ہے، تو اس کے مقابل آپسی اصلاح کی کوئی پرواہ نہیں کرتا، غرض اب جامعیت کا کوئی پتہ نہیں ہے، آپس میں یہی لڑائی رہتی ہے کہ کون بہتر ہے، کس کی نسبت اعلی ہے، ان میں پھر عقیدت مندی، پیر پرستی کا وائرس اسے اور کھوکھلا کرتا جارہا ہے، گویا ہر ایک نے صنم پال لئے ہیں، مادیت پرستی ان کی رگوں میں اور بزرگ پرستی ان کے ریشوں میں سرایت کرگئی ہے، خدا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ وہ اپنے بزرگوں کی باتوں پر بھی یوں تاویل کرتے ہیں جیسے وہ معصوم عن الخطأ ہوں، اور اگر تاویل نہ ہو سکی تو ان کے تقدس کا ہالہ ٹوٹ جائے گا، اور کوئی بہت بڑی شکست ہوجائے گی، نتیجتاً فکری جمود، فقہی سکوت کا دور دورہ ہے.*

*کرونا وائرس کے آتے ہی مسلمانوں کے مابین بے اطمینانی، بدنظمی اور لائحہ عمل کی کمی بھی سامنے آنے لگی، وہی قدیم جوش و جذبہ جس کا ایمانی فراست سے کوئی تعلق نہ ہو، جس میں نادانی کا پہلو عمیق ترین ہو، چنانچہ وہ ملک مخالف ایجینڈوں کا پھر سے نشانہ بن گئے، اور قدرتی آفت کا سہرا بھی انہیں کے بندھ گیا، اور الزام یہی آیا کہ وہ صرف اپنی نماز، اجتماعات اور مذہبی رسومات کی فکر کرتے ہیں، انہیں انسانی جان کی بھی پروا نہیں ہے، وہ انسانیت کی فکر سے عاری ہیں، ان میں خود غرضی سمندر سے بھی زیادہ گہری ہے، حقیقت یہ ہے کہ اس وقت مسلمانوں کی حالت دگر گوں ہے، وہ اپنے ہی ملک میں اجنبی بن جانے کے درپے ہیں، ایک جانب کرونا وائرس کا قہر تو دوسری جانب حکومت کی تہ بتہ سازشیں، سوشل میڈیا کی زہر افشانی تو اپنوں کی بے تکی، ایسے میں انسانی پیغام کا سب سے بڑا علمبردار ہو کر بھی ایک خاص فرقے کا علمبردار بن جانا، اور ہماری تبلیغ و ارشاد کا صرف اور صرف مسلمانوں تک مقید ہوجانا "للناس” کی تعبیر سے پرے ہے، بالخصوص موجودہ صورتحال میں یہ اسلامی تعلیمات کے خلاف نفرت کی آندھی بن کر ہمارے خیموں کو پلٹ دے گا، ہماری نسلوں کیلئے اسلام کی راہوں میں کانٹے اور انگارے بچھا جائے گا، اور ممکن ہے کہ غرناطہ کے خموش ممبر و محراب کی طرح یہاں بھی اس کی مماثلت پائی جانے لگے.*

*چنانچہ ہم جس ماحول میں رہتے ہیں وہاں سب سے زیادہ ایک ایسے گروہ کی حمایت ضروی ہے جن میں اسلام اور مسلمانوں کیلئے نرم گوشہ پایا جاتا ہو، ان کے دل و دماغ کے سوالات دور کئے جائیں، انہیں دوست اور جارالجنب، پڑوسی وغیرہ سمجھتے ہوئے ایسا رویہ اختیار کیا جائے جس سے اسلام کا صحیح تعارف ہو، خاص طور پر کرونا وائرس کی مہاماری میں بڑے سے بڑے سرکش بھی سر کئے جا سکتے ہیں، جب انسان کا پیٹ خالی ہو اور جیب بھی ندارد ہوجائے تو اس ٹوٹتی کمر کا جو سہارا بن جائے، وہی اس کا سب کچھ ہوجاتا ہے، چنانچہ ہر سماجی کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، انسانوں کو یہ بتائیں کہ ہم سب انسان ہیں، ایک ماں باپ کی اولاد ہیں، ہر خون خدا کے نزدیک عظمت رکھتا ہے، ہر ایک کی عزت برابر ہے، بڑے چھوٹے اور اپنے پرائے کے ساتھ محبت و رواداری قائم رکھنا ہی اصل بات ہے، اسلام کی بنیادی تعلیم یہ ہے کہ وہ اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھے، اپنے دوست اور ساتھی کے ساتھ حسن سلوک کرے، ایک مسلمان معتمد ہے، اس پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے، ان کے ساتھ فنکشن میں شرکت کی جا سکتی ہے، ان کے گھر دعوت دی جا سکتی ہے ان کی دعوت قبول بھی کی جا سکتی ہے، ہدایا ایک دوسرے کو دئے جا سکتے ہیں، آپس میں مشورہ کرسکتے ہیں، رفاہی کاموں میں ایک دوسرے کا ساتھ دے سکتے ہیں، ہم سب ایک ساتھ رہنے اور ایک ساتھ زندگی گزارنے کیلئے پیدا ہوئے ہیں، اور انہیں یہ احساس کروائیں کہ اللہ پر صرف مسلمانوں کا حق نہیں بلکہ وہ تو سب کا مالک ہے، اس کی کتاب قرآن تو پوری انسانیت کیلئے گائیڈ بک ہے، اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پوری انسانی برادری کیلئے نمونہ ہیں، خیر و برکت میں ہر ایک کا حق ہے.*

✍ *محمد صابر حسین ندوی*

Mshusainnadwi@gmail.com

7987972043

17/04/2020

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے